اسلام آباد

پاکستانی تجارتی گاڑیوں کے افغانستان سے گزرنے پر پابندی

تاہم اب افغان حکومت نے متبادل راستوں پر غور کرنا شروع کر دیا ہے۔ افغانستان کے صدارتی محل سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وسطی ایشیائی ریاستوں میں جانے والی پاکستانی مال گاڑیوں کو ملک سے گزرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ افغان صدر اشرف غنی نے یہ اعلان پاکستان کی جانب سے افغانستان کی اشیاءخاص طور پر میوہ جات کو بھارت لے جانے کے لیے واہگہ بارڈر سے جانے کی اجازت نہ دینے کے ردِ عمل میں کیا ہے۔

بیان کے مطابق پاکستان کے فیصلے کے بعد افغانستان کو مجبوراً پاکستانی گاڑیوں کو وسطی ایشیائی ریاستوں تک رسائی نہ دینے کا اعلان کرنا پڑا۔ افغانستان کے صدارتی محل کے ایک ترجمان شاہ حسین مرتضوی نے

کہا کہ پاکستان نے چمن بارڈر کو اس وقت بند کر دیا جب افغانستان میں میوہ جات کی ترسیل کا وقت تھا اور اس وجہ سے افغانستان کے تاجروں کو بہت زیادہ نقصان اٹھانا پڑا۔ مرتضوی کے مطابق اس کے بدلے میں افغان صدر نے بھارت سے بات کی اور انہوں نے وہ ٹیکس کے بغیر ان کے میوہ جات کو وہاں لے جانے پر آمادگی ظاہر کی۔ مرتضوی کے مطابق جب پاکستان نے افغانستان کی اشیا کو وہاں سے گزرنے نہیں دیا تو افغان حکومت نے بھی اس کی گاڑیوں کو وسطی ایشیائی ریاستوں تک جانے کی اجازت نہیں دی اور انہیں منع کر دیا۔ صدارتی ترجمان کے مطابق یہ بات افغان صدر نے جمعرات کو پاکستان اور افغانستان کے لیے خصوصی ایلچی اوین جینکینس سے ملاقات میں بھی کہی۔ ترجمان کے مطابق افغان حکومت نے یہ احکامات پاکستان کی سرحد پر موجود افغان حکام تک پہنچا دیئے ہیں۔ شاہ حسین مرتضوی کا کہنا ہے کہ گو کہ افغانستان کی مارکیٹوں میں سب سے زیادہ پاکستانی اشیا موجود ہیں۔ تاہم اب افغان حکومت نے متبادل راستوں پر غور کرنا شروع کر دیا ہے اور ’اب افغانستان ایک لینڈ لاک کنٹری نہیں رہا۔افغانستان کے صدر اشرف غنی نے پاکستان کا ایشیائی ملکوں تک رسائی کا راستہ روکنے کی دھمکی دے دی۔

صدراشرف غنی سے پاکستان اور افغانستان کے بارے میں برطانیہ کے خصوصی نمائندے اوون جنکنز نے کابل میں ملاقات کی۔ اس موقع پر صدر اشرف غنی نے کہاکہ افغانستان پاکستان کےلئے وسط ایشیائی ملکوں کاٹرانزٹ روٹ(راہداری) بند کر سکتا ہے کیونکہ اس نے افغان تاجروں کیلئے واہگہ پورٹ بند کی ہوئی ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ پاکستان بیشتر اوقات پھلوں کے موسم کے دوران راہداری بند کردیتا ہے جس سے افغان تاجروں کو اربوں ڈالر کا نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ اشرف غنی نے دعویٰ کیا کہ افغانستان اب ایسا ملک نہیں رہا جب کے باعث تجارت کےلئے کوئی راستہ موجودنہ ہو ، ہمارے پاس دیگر آپشنز اور راہداریاں موجود ہیں جن کے ذریعے ہمارے تاجر سامان درآمد اور برآمد کرسکتے ہیں۔

دفترخارجہ کے ترجمان نے کہا کہ سفارتی طریقہ کار کے تحت افغان حکومت نے ہمیں باضابطہ آگاہی نہیں دی۔ فیصلہ بارے نہ ہی ہمیں بتایا گیا نہ اپنے تحفظات سے آگاہ کیا گیا۔ اب تک یہ میڈیا اطلاعات ہیں جیسے ہی افغان حکومت نے باضابطہ طور پر فیصلہ کی اطلاع دی تو ہم سرکاری طور پر باقاعدہ اس حوالے سے ردعمل ظاہر کرینگے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close