اسلام آباد

بھارت ہماری تحمل کی پالیسی کو کمزوری نہ سمجھے: جنرل راحیل

اسلام آباد : سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف کہتے ہیں کہ ملک کو درپیش  چیلنجز ابھی ختم نہیں ہوئے۔ نیشل ایکشن پلان پر اس کی روح کے مطابق عمل کرنا ہو گا۔ بھارت ہماری تحمل کی پالیسی کو کمزوری نہ سمجھے۔ سی پیک کے خلاف سازشیں کرنے والے اس منصوبے کے ثمرات میں شامل ہوں۔

تفصیلات کے مطابق سابق آرمی چیف کی بھارت کو للکار، تحمل کی پالیسی کو کمزوری نہ سمجھا جائے، ایسا سمجھنا خطرناک ہوگا، جنرل راحیل شریف نے مودی سرکار پر واضح کردیا۔ سابق آرمی چیف جنرل راحیل شریف نے ملک کو درپیش چیلنجز کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دہشت گردی کے خاتمے کے لئے انتہا پسندی اور کرپشن کا گٹھ جوڑ توڑنا ہوگا۔

نیشنل ایکشن پلان پر اس کی روح کےمطابق عمل کرنا ہو گا۔ سابق آرمی چیف نے پاک چین اقتصادی راہداری منصوبے کی راہ میں روڑے اٹکانے والوں کو بھی سازشیں بند کرنے کا پیغام دیا اور کہا کہ مخالفت کرنے والے اس کے ثمرات میں شامل ہوں۔

پاک فوج کی کمان تبدیلی کی تقریب سے خطاب میں جنرل راحیل شریف نے مسئلہ کشمیر کے حل کو خطے میں دیرپا امن کا واحد حل قرار دیا۔ انہوں نے کہا اللہ کا شکر گزار ہوں کہ دنیا کی بہترین فوج میں خدمات انجام دینے کا موقع ملا۔ ایک سپاہی کے لئے اس سے بڑی اور کوئی سعادت نہیں ہو سکتی۔

جنرل راحیل شریف نے کہا انہوں نے ہر فیصلہ کرتے ہوئے قومی مفاد کو ترجیح دی، مقاصد کے حصول کے لئے اپنی اور پاک فوج کی توانائیاں استعمال کیں۔ انہوں نے کہا قوم کے ساتھ مضبوط رشتے نے ہمیشہ حوصلہ بلند کیا، پختہ یقین ہے کہ پاک فوج قوم کے اعتماد پر ہمیشہ پورا اترے گی۔

جنرل راحیل شریف نے کہا دفاع پاکستان کے لئے خواتین، بچوں، جوانوں، بزرگوں نے بھی قربانیاں دیں۔ وطن عزیز کے لئے ناپاک عزائم رکھنے والوں کیخلاف پاک فوج مضبوط قوت ہے۔ دہشت گردی کیخلاف قومی اتفاق رائے کے لئے میڈیا نے مثبت کردار ادا کیا۔ اندرونی و بیرونی خطرات کے مکمل سدباب تک پاک فوج مصروف عمل رہے گی۔

انہوں نے کہا مقبوضہ کشمیر میں بھارتی ریاستی دہشتگردی سے خطے کا امن خطرے میں ہے۔ جنوبی ایشیا میں دیرپا امن و ترقی مسئلہ کشمیر کے حل کے بغیر ممکن نہیں۔ سی پیک کے دشمن سازشیں بند کر کے اس کے ثمرات میں شریک ہوں۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close