اسلام آباد

سینیٹ: اپوزیشن کا پاناما انکوائری بل کثرت رائے سے منظور

اسلام آباد : سینیٹ میں حکومت کو دو مرتبہ شکست کا سامنا۔ حکومت کی مخالفت کے باوجود اپوزیشن کا پاناما انکوائری بل 2016 کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا جبکہ اپوزیشن نے کپمنیز آرڈیننس کو مسترد کر دیا۔ مشاہداللہ اور اعتزاز احسن کے درمیان شدید جھڑپ بھی ہوئی۔

تفصیلات کے مطابق سینیٹ کا اجلاس چیئرمین رضا ربانی کی صدارت میں ہوا۔ اپوزیشن کی طرف سے پاناما پیپر انکوائری بل دوہزار سولہ چوہدری اعتزاز احسن نے ایوان میں پیش کیا جسے کثرت رائے سے منظور کر لیا گیا۔ بل پر سینیٹر محسن لغاری اور حکومتی رکن عائشہ رضا کی ترامیم مسترد کر دی گئیں جبکہ سینٹیر سراج الحق کی ترمیم منظور کرلی گئی۔

ایوان کی کارروائی جاری تھی کہ مشاہداللہ اور اعتزاز احسن ایک دوسرے سے الجھ پڑے۔ مشاہداللہ نے چیئرمین سینیٹ کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ پیپلزپارٹی والوں کو سمجھائیں کہ بچوں والی بات نہ کریں۔ اپوزیشن کی جانب سے پاناما بل پر بددیانتی سامنے آئی ہے۔ انہوں نے تو سکھوں کی فہرستیں بھارت کو دیں۔

مشاہداللہ کی بات پر پیپلزپارٹی اراکین نے نعرے بازی کی۔ ہنگامہ آرائی پر چیرمین سینیٹ نے سب کوخاموش رہنے کی ہدایت کردی۔ راجہ ظفرالحق نے کہا کہ اخلاقیات بھی کوئی چیز ہوتی ہے۔ اپوزیشن نے مزید وقت دینے پر اتفاق کیا تھا۔

اعتزاز احسن نے کہا کہ بل قائمہ کمیٹی سے ہو کر آ چکا ہے۔ وزیر قانون زاہد حامد کا کہنا تھا کہ کمیٹی میں بل پر غور نہیں ہو سکا۔ اعتزاز احسن کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے بھی اپنی کمٹمنٹ کو پورا نہیں کیا۔ افسوس ان پر ہے جو عدالت میں کچھ اور پارلیمنٹ میں کچھ کہتے ہیں۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close