اسلام آباد

سعودی عسکری اتحاد کے لئے راحیل شریف سے متعلق کیا شرائط ہیں؟بتایا جائے، سید خورشید شاہ

اسلام آباد: پاکستان پیپلز پارٹی کے سینئر رہنما اور  قومی اسمبلی میں اپوزیشن لیڈرسید خورشید شاہ کا کہنا ہے کہ ہم دوسرے درجے کے شہری ہیں اور حکومت کے برابر کے رکن پارلیمنٹ بھی نہیں اس لئے ٹی وی پر براہ راست نہیں آسکتے،میں غریب عوام کی نمائندگی کرتا ہوں ہمیں کوئی بھی پوچھنے والا نہیں،پاکستان مسلم ممالک الائنس کا حصہ بن گیا ہے لیکن یہ سب کیسے ہوا ؟وزیر اعظم کو ایوان میں آ کر سعودی عسکری اتحاد پر بات کرنا ہوگی اور بتانا ہوگا کہ سعودی عرب میں کیا طے ہوا؟

 

سپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت قومی اسمبلی کے اجلاس میں وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار کی بجٹ پر بحث سمیٹنے سے قبل پارلیمنٹ میں اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ نے پوائنٹ آف آرڈر پر بات کرتے ہوئے کہا کہ میں بجٹ پر بحث کرنے کے بجائے چند سفارشات پیش کرنا چاہتا ہوں، وفاقی وزیرخزانہ تو بجٹ بحث سمیٹنے کے لئے دوسری مرتبہ ٹی وی پر براہ راست آئیں گے ، لیکن ہم تو دوسرے درجے کے شہری ہیں اور حکومت کے برابر کے رکن پارلیمنٹ نہیں ، اس لیے براہ راست نہیں آسکتے ، میں بجٹ پر تنقید بھی نہیں کروں گا  ، حکومت نے جو کرنا ہے وہ کرے،  میں غریب عوام کی نمائندگی کرتا ہوں ہمیں کوئی بھی پوچھنے والا نہیں۔خورشید شاہ کا کہنا تھا کہ پاکستان مسلم ممالک الائنس کا حصہ بن گیا ہے لیکن یہ سب کیسے ہوا ؟ وزیراعظم نوازشریف کو بذات خود ایوان میں آکر سعودی عسکری اتحاد پر بات کرنا ہوگی اور بتانا ہوگا کہ سعودی عرب میں کیا طے ہوا ؟ ہم اس حوالے مشیرخارجہ کی بریفنگ کو تسلیم نہیں کرتے۔

قائد حزب اختلاف کا کہنا تھا کہ وزیردفاع خواجہ آصف نے ایوان کو یقین دلایا تھا کہ وزیراعظم نوازشریف ایوان کو فوجی اتحاد میں شمولیت پر اعتماد میں لیں گے جب کہ ٹی او آرز طے ہونے کے بعد شرائط طے ہونے تک راحیل شریف کو این او سی نہیں ملے گا لیکن اگلے ہی روز سابق آرمی چیف کو این او سی جاری کردیا گیا اور آج تک یہ پتہ نہ چل سکا کہ راحیل شریف سے متعلق شرائط کیا ہیں؟ اگر میڈیا کے سامنے نہیں بتا سکتے تو ان کیمرا اجلاس میں ہی بتا دیا جائے، ایوان کو بتایا جائے کہ کن شرائط وضوابط کے تحت سابق آرمی چیف سعودی عرب گئے؟۔انہوں نے یہ شرط بھی عائد کی کہ ہم صرف وزیراعظم کی بات سنیں گے اور کسی کی نہیں سنیں گے،میں پوری اپوزیشن کی طرف سے ذمہ داری لیتاہوں کہ وزیراعظم ایوان میں آئیں ایک نعرہ بھی نہیں لگے گا۔

خورشید شاہ نے کہا دہشت گردی کم کرنے کے لئے بننے والے سعودی اتحاد نے دہشت گردی میں اضافہ کردیا اور قطر پر پابندیاں بھی اسی اتحاد کا شاخسانہ ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت پر ایک خوف طاری ہے اور قطری شہزادے نے بھی خط لکھ دیا تھا ،اس لئے قطر پر قرارداد بھی اپوزیشن سے ہی پیش کروائی جب کہ ایران پر قرارداد حکومت نے خود پیش کی۔خورشید شاہ اپنی تقریر میں گرجنے اوربرسنے کے بعد اپوزیشن جماعتوں کے ساتھ قومی اسمبلی سے واک آوٹ کرگئے ،اپوزیشن جماعتوں نے قطرکی صورتحال پر پارلیمنٹ کا مشترکا اجلاس بلانے کا بھی مطالبہ کیا ہے ۔قومی اسمبلی کی حزب مخالف کی جماعتوں کا اجلاس ایوان زیریں میں قائد حزب اختلاف خورشید کی صدارت میں ہوا۔

اس حوالے سے خورشید کا کہناتھا کہ حزب اختلاف کی جماعتیں یہ مطالبہ قومی اسمبلی کے اجلاس میں کریں گی۔حزب اختلاف کی جماعتوں کا اجلاس وزیر اعظم کی زیر قیادت وفد کے دورہ سعودی عرب کے ایک دن بعد ہوا ہے جوکہ خلیجی ممالک مماک میں سفارتی تنازع حل کرنے کی کوشش کے طور پر کیاتھا۔ وزیراعظم کے دورہ سے قبل وزیراعظم ہاوس میں ایک مشاورتی اجلاس بھی کیاگیا تھا جہاں خلیجی ممالک کے سفارتی تنازع پر پاکستان کا نقطہ نظر طے کیا گیا۔گزشتہ ہفتے سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، بحرین اور مصرنے قطر پر مبینہ طور پر دہشت گردوں کی حمایت کا الزام اور ایران سے سفارتی تعلقات رکھنے پر اس سے سفارتی ، تجارتی تعلقات منقطع کر لیے تھے،بعد میں یمن، مالدیپ، ماریشیئس اور لیبیا کی حکومتیں بھی قطر کے سفارتی اور تجارتی تعلقات کے بائیکاٹ میں شامل ہوگئیں تھیں جبکہ پاکستان سے پہلے کویت تنازع کے سفارتی حل کے لیے کوشاں ہے۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close