کشمیر

برہان وانی کی برسی: کشمیر کی صورتحال کشیدہ ہونے کا خطرہ

سری نگر: بھارت کے زیر انتظام کشمیر میں جاں بحق ہونے والے حزب المجاہدین کے نوجوان کمانڈر برہان وانی کی پہلی برسی کے موقع پر پوری وادی میں حالات نہایت کشیدہ ہونے کا خطرہ ہے۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق کشمیری حریت پسند رہنماؤں نے برہان وانی کی برسی کے موقع پر پوری ریاست میں ایک ہفتے کے لیے مظاہرے کرنے کا اعلان کردیا۔

برہان وانی کی برسی سے قبل ہی بھارتی فورسز نے کشمیر کے زیادہ تر حریت پسند رہنماؤں کو نظر بند کر دیا اور اس کے ساتھ ہی بھارتی حکام نے لوگوں کی نقل و حمل کو بھی کنٹرول کرنا شروع کردیا جبکہ وادی میں موبائل فون سروس بھی معطل کر دی گئی۔ ایک سینیئر پولیس اہلکار نے اے ایف پی کو بتایا کہ جنوبی کشمیر کا ایک پولیس اسٹیشن نوجوانوں سے ضبط کی گئیں موٹر سائیکلوں سے بھر گیا ہے۔

حالیہ جھڑپوں اور مظاہروں سے متاثر ہونے والے کشمیر کے جنوبی علاقوں میں بھارتی فورسز نے 21 ہزار اضافی اہلکار تعینات کر دیے ہیں۔ تاہم کشمیری حکام کا ماننا ہے کہ سرکاری حکومت کو کسی بھی مسلح کارروائی سے زیادہ عام لوگوں کے غم و غصے کو نمٹنے کا چیلنج درپیش ہے۔

ایک سینیئر سیکیورٹی اہلکار نے اے ایف پی کو اپنا نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ بھارتی فورسز نے وادی کشمیر میں حریت پسندوں کے خلاف کاروائیوں میں اضافہ کرتے ہوئے انہیں ختم کیا لیکن ان کارروائیوں کے دوران سیاسی انتظامیہ کے موجود نہ ہونے کی وجہ سے حریت پسندوں نے بھارت کے خلاف عام عوام کے غصے کو مزید بڑھا دیا۔

کشمیر کے ہسپتال میں موجود ایک 17 سالہ نوجوان نے اے ایف پی کو بتایا کہ حریت پسندوں کو بھارتی فورسز کی گولیوں سے بچانے کے لیے وہ خود فورسز کے فائرنگ کے درمیان میں آکر شدید زخمی ہوگیا تھا۔ فائرنگ کی زد میں آنے کی وجہ سے کشمیری نوجوان اس وقت بہت کمزوری کی حالت میں تھا لیکن اسے ابھی امید تھی کہ وہ جلد اپنے دوستوں کے درمیان ہوگا۔

ہسپتال کے بستر پر اس کا کہنا تھا کہ وہ دعا کر رہا ہے کہ جیسے ہی وہ یہاں سے اٹھے تو اسے بھارتی فورسز کے خلاف لڑنے کے لیے ہتھیار مل جائے تاکہ وہ اپنے دیگر ساتھیوں میں شامل ہوسکے۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close