کشمیر

انڈیا کے متنازع بل پر پاکستان کا اظہارِ تشویش

پاکستان نے اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اور سلامتی کونسل کے صدر سے بھارت کی جانب سے متنازع ’جیوسپیشل انفارمیشن ریگولیشن بل‘ کی انڈین پارلیمان سے منظوری کی کوششوں پر تشویش کا اظہار کیا۔

واضح رہے کہ انڈیا کی حکومت ایک ایسا قانون بنانے کی تیاری میں ہے جس کے مطابق کشمیر سمیت بعض متنازع علاقوں کو اگر اس کی سرزمین سے الگ دکھایا گیا تو سات سال تک کی قید اور 100 کروڑ روپے تک کا جرمانہ ہو سکتا ہے۔

اسلام آباد میں وزارت خارجہ کے ترجمان محمد نفیس ذکریا کی جانب سے جاری ایک بیان کے مطابق نیویارک میں پاکستان کے مستقل مندوب نے یہ تشویش خطوط کے ذریعے ظاہر کی ہے۔

پاکستان کا اصرار ہے کہ مجوزہ بل میں اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے برخلاف انڈیا کے سرکاری نقشے میں متنازع جموں و کشمیر کو بھارت کا حصہ ظاہر کیا جا رہا ہے جوکہ حقائق کے منافی اور قانون کے خلاف ہے۔

’اس بل کی منطوری کے ذریعے بھارتی حکومت ان افراد اور تنظیموں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرے گی جو جموں و کشمیر کو اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے قرار دادوں کے تحت اسے متنازع علاقہ ظاہر کریں گے۔‘

پاکستان نے مکتوب میں اقوام متحدہ سے کہا ہے کہ وہ سلامتی کونسل کی قرار دادوں کو تسلیم کرے اور بھارت سے ایسے اقدامات سے باز رکھے جو بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی ہیں۔

بیان کے مطابق بین الاقوامی برادری اور اقوام متحدہ کو یاد دلایا کہ جموں و کشمیر کے عوام کے ساتھ اقوام متحدہ کے زیر انتظام آذادانہ اور غیرجانبدارانہ حق رائے دہی کا اپنا وعدہ وفا کریں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close