کشمیر

کشمیر کا پرامن حل صرف مذاکرات سے ہی نکالا جا سکتا ہے، میرواعظ عمر فاروق

سری نگر: حریت کانفرنس کی فعال اکائی جموں کشمیر پیپلز انڈیپنڈنٹ موومنٹ کا ایک روزہ ڈیلی گیٹ سیشن حریت کانفرنس کے صدر دفتر واقع راجباغ پر منعقد ہوا۔ سیشن میں کشمیر کے تمام اضلاع آئے ہوئے پیپلز انڈیپنڈنٹ موومنٹ کے کارکنان کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ سیشن کی صدارت کے فرائض حریت کانفرنس کے چیئرمین میرواعظ ڈاکٹر مولوی محمد عمر فاروق نے انجام دیئے اور اس موقع پر پروفیسر عبد الغنی بٹ اور بلال غنی لون نے موجودہ سیاسی و تحریکی صورتحال کے مختلف پہلوؤں کو اجاگر کیا۔ بلال غنی لون نے اپنے خطاب کے دوران اپنی تنظیم کے نئے نام کے پیچھے سوچ اور فکر کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ میری زندگی کا مقصد اپنے شہید والد شہید حریت خواجہ عبد الغنی لون کے اُس مشن کو آگے بڑھانا ہے، جس کے لئے انہوں نے نہ صرف اپنی پوری زندگی صرف کی بلکہ شہادت کے منصب کو بھی گلے لگایا۔

انہوں نے کہا کہ میری جماعت کے سابقہ نام کی وجہ سے عوام میں ایک کنفیوژن پیدا ہوئی تھی، اور وقت کا تقاضا تھا کہ اس حوالے سے جاری ابہام کو دور کیا جائے۔ انہوں نے میرواعظ عمر فاروق کی بے لوث قیادت پر اپنے غیر متزلزل اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہاں کے عوام اور یہاں کی حریت پسند قیادت نے جس مشن کے لئے اپنی جانیں قربان کی اُس مشن کو آگے بڑھانا ہمارا بنیادی مقصد ہے۔ اپنے خطاب میں پروفیسر عبد الغنی بٹ نے کہا کہ ہمارا آج ہمارے کل سے وابستہ ہے اور اپنے آنے والے کل کیلئے کشمیری قوم جو قربانیاں دے رہی ہے وہ اس پورے خطے میں ایک دن ایسی انقلابی تبدیلی ضرور لائیگی، جس سے اس خطے پر چھائے ہوئے سیاسی بے یقینی کے ماحول کے خاتمے کا موجب بنے گی۔

انہوں نے کہا کہ کل جماعتی حریت کانفرنس ایک فکر اور سوچ کی نمائندگی کرتی ہے اور کشمیری جیسی خوددار قوم جن کی ایک اپنی شناخت ہے اور یہ قوم صرف اپنی ہی نہیں بلکہ دوسروں کی بھلائی کیلئے بھی فکر مند ہے، اپنے صدارتی خطاب میں میرواعظ نے حریت صدر دفتر پر دور دراز سے آئے ہوئے کارکنان کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ رواں تحریک آزادی میں جہاں یہاں کے حریت پسند عوام نے مال و جان کی بےپناہ قربانیاں دی ہیں، وہیں قیادت کی سطح پر بھی قربانیوں کی ایک لمبی تاریخ درج ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری یہ تحریک مراعات یا اقتدار کے حصول کے لئے نہیں بلکہ کشمیری عوام مسئلہ کشمیر کا ایک آبرومندانہ اور حمتی حل چاہتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ آج ہماری تحریک کو کمزور کرنے کے لئے حکومتی سطح پر بے شمار حربے آزمائے جارہے ہیں یہاں کی نوجوان نسل کو طاقت کے بل پر پشت بہ دیوار کرکے انہیں عسکریت کا راستہ اختیار کرنے پر مجبور کیا جارہا ہے۔

میرواعظ نے کہا کہ مزاحمتی قیادت کی سرگرمیوں پر پابندیاں عائد ہیں، گھروں کو بارود سے اڑایا جاتا ہے، حریت پسند عوام کے کھیت و کھلیان کو تباہ کیا جا رہا ہے، حریت پسند قائدین اور کارکنان کو زندانوں کی زینت بنایا جارہا ہے اور حکومت ہندوستان کوشش کر رہا ہے کہ مسئلہ کشمیر کی ہیت اور حیثیت کو ان حربوں سے تبدیل کیا جائے لیکن دنیا دیکھ رہی ہے کہ اس مسئلے کے حل کی راہ میں کون روکاوٹیں پیدا کر رہا ہے، خود ہندوستان کے سابقہ فوجی جنرل و دانشور اس حقیقت کا برملا اعتراف کر رہے ہیں کہ اس مسئلے کو فوجی قوت اور طاقت کے بل پر حل نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ میری کل ہی پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی سے ٹیلیفون پر بات ہوئی ہے اور یہ بات سمجھ سے باہر ہے کہ حکومت ہندوستان اس بات پر کیوں سیخ پا ہوگئی ہے حالانکہ پاکستان مسئلہ کشمیر کا اہم فریق ہے اور بھارت کے ارباب سیاست کو یہ بات سمجھنی چاہیئے کہ مسئلہ کشمیر کا صرف اس مسئلے سے جڑے تینوں فریقوں کے درمیان ایک بامعنی مذاکراتی عمل کے ذریعے ہی کوئی قابل قبول حل تلاش کیا جاسکتا ہے۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close