خیبر پختونخواہ

آگے حالات برے نظر آرہے ہیں، خشک سالی آجائے گی وزیراعظم

وزیراعظم نے کہا کہ طاقت ورلوگ جو زمینوں پرقبضہ کر کے بیٹھے ہوئے ہمیں وہاں زیادہ سے زیادہ درخت لگانے اورجنگل بنانے ہیں ، پاکستان دنیا میں آٹھویں نمبرپرہے جو ماحول کے حساب سے خطرے میں ہیں، جنگلات کی کمی ہمارے لیے زندگی اور موت کا سوال ہوگیا ہے۔ آگے حالات برے نظر آرہے ہیں، خشک سالی آجائے گی، شہروں میں آلودگی بڑھتی جائے گی اور بارشیں کم ہوجائیں گی۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہمارے ملک میں سب سے کم جنگلات ہیں، جو بڑے بڑے جنگلات تھے وہ سب تباہ ہوگئے، پچھلے دس سالوں میں شہروں میں درخت کاٹے گئے جس کے باعث آلودگی بڑھی، ہمیں جنگلات کی کٹائی آنے والی نسل کی بہتری کے لیے روکنی ہے جب کہ ہمیں اپنے شہروں سے بھی پارکوں پر جو قبضے کیے جارہے ہیں انہیں بچانا ہے۔ وزیراعظم نے کہا کہ ہمیں اگلے 5 سال دس ارب درخت لگانے ہیں، کے پی کے میں شجر کاری کی مثال سب کے سامنے ہے جس کی تعریف دنیا میں کی گئی۔
پاکستان میں دو این آراو نے ملک کومقروض کیا، ان آراو کی وجہ سے طاقت ور لوگوں نے سوچا کہ چوری کی کوئی سزا نہیں ہوتی، پرویز مشرف نے اقتدار بچانے کیلئے نوازشریف کو جانے دیا، کسی کو خوف نہیں تھا کیونکہ یہاں کوئی پوچھنے والا نہیں تھا، قرضوں کی قیمیت عوام مہنگائی کی شکل میں ادا کرتی ہے، دس سال ملک کو تباہ کیا گیا اور اب کہتے ہیں کہ چھ ماہ میں پی ٹی آئی نے کچھ نہیں کیا۔
وزیر اعظم نے کہا کہ این آراوسے کرپٹ لوگوں کوحوصلہ ملا، نوازشریف اورزرداری نے 5،5 سال حکومت کی اورپھر پچھلے دس سال میں پاکستان کا قرضہ 30 ہزارارب تک پہنچ گیا، آج روپیہ گرنے کی وجہ بھی یہی ہے جس کے باعث مشکلات بڑھ رہی ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ ہم کسی کو بھی نہیں چھوڑیں گے جس نے اس ملک کا دیوالیہ نکالا جب کہ لٹیروں کواین آراو دینے کا مطلب ملک سے غداری کرنا ہوگا۔

وزیراعظم نے کہا سب کہتے ہیں تبدیلی کیا ہے، تبدیلی یہ ہے کہ 5 ماہ میں تین وزرا نے استعفے دیے، لیکن یہ لوگ جنہوں نے اربوں روپے کی کرپشن کی، جعلی اکاؤنٹس بنائے، ان میں سے کوئی ایک استعفی کا نہیں سوچتا، احتساب کسی میں امتیاز نہیں کرتا، یہ ہے وہ حکومت جو صحیح معنوں میں احتساب کرے گی۔ وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ہم کوشش کررہے ہیں کہ اسمبلی ٹھیک طرح چلے، جمہوریت کی تاریخ میں ایسا کبھی ہوا ہی نہیں کہ ایک جیل سے آدمی اٹھ کرآئے اور پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کا چیئرمین بن جائے اورپھراسی نیب کو طلب کرلے، کسی بھی جمہوریت میں ایسا کوئی تصور نہیں۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close