پنجاب

نماز تراویح سرے سے ہی کوئی نماز ہے ہی نہیں: مذہبی اسکالر پروفیسر جاوید احمد غامدی

لاہور: مذہبی اسکالر پروفیسر جاوید احمد غامدی کا کہنا ہے کہ نماز تراویح سرے سے ہی کوئی نماز ہے ہی نہیں ہے۔ تفصیلات کے مطابق معروف مذہبی اسکالر پروفیسر جاوید احمد غامدی کا کہنا ہے کہ رمضان المبارک میں مسلمانوں کی جانب سے باقائدگی سے پڑھی جانے والی نماز تراویح سرے سے ہی کوئی نماز ہے ہی نہیں ہے۔ پروفیسر غامدی کا کہنا ہے کہ ہمارے دین میں دن بھر میں ہم پر اللہ کی طرف سے 5 نمازیں فرض کی گئی ہیں جن میں 2 رکعتیں فجر کے وقت، 4 رکعتیں ظہر کے وقت، 4 عصر کے وقت، 3 مغرب کے وقت اور 4 رکعتیں عشاء کے وقت ہیں۔ یہ نمازیں ہر مسلمان پر فرض ہیں اس نے اتنی عبادت کرنی ہے خدا کے حضور میں حاضر ہونا ہے۔ یہ اللہ تعالی کے ساتھ ہمارے تعلق کا تقاضا ہے۔ پروفیسر غامدی کا کہنا ہے کہ عام مسلمانوں پر 5 نمازیں اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر 6 نمازیں فرض کی گئی تھیں۔ اس کو قرآن میں سورہ بنی اسرائیل میں بھی بیان کیا گیا ہے کہ "اے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم آپ کو ایک چھٹی نماز تہجد کا اہتمام بھی کرنا ہے اور یہ آپ کیلئے ایک زائد نماز ہے”۔ اسی لیے رسول صلی اللہ علیہ وسلم بڑے اہتمام کیساتھ باقی 5 نمازوں کے ساتھ ساتھ تہجد کی نماز بھی پڑھتے تھے۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی پیروی کے شوق میں مسلمانوں نے بھی تہجد کی نماز پڑھنا شروع کر دی۔ اس کا ذکر بھی قرآن میں سورہ مزمل میں موجود ہے کہ "صحابہ میں سے بھی کچھ لوگ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کیساتھ تہجد کی نماز پڑھنے لگے”۔ عام مسلمانوں کیلئے تہجد کی نماز نفل نماز ہے جسے کوئی بھی پڑھ سکتا ہے تاہم یہ نماز رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر فرض تھی۔ پھر رمضان کے ماہ میں لوگوں کی خواہش ہوتی تھی کہ خصوصی طور پر رات کو اٹھ کر تہجد کی نماز پڑھیں۔ تاہم بعض لوگ جو محنت مزدوری کرتے تھے انہوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ عرض کیا کہ کیا اللہ ہمیں اتنی رعایت دے سکتا ہے کہ ہم تہجد کی نماز عشاء کیساتھ پڑھ لیں؟ تو اس کے جواب میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ پڑھ سکتے ہو۔ تو ہم روزانہ عشاء کی نماز کیساتھ وتر پڑھتے ہیں یہ دراصل تہجد کی نماز ہے۔ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نماز عشاء کیساتھ ان لوگوں کو پڑھنے کی اجازت دی جو صبح جلد نہیں اٹھ سکتے تھے۔ پروفیسر غامدی کا کہنا ہے کہ یہ نماز دراصل رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر فرض تھی جسے حضور صلی اللہ علیہ وسلم 3، 5، 7، 9 اور 11 رکعتوں کی صورت میں پڑھتے تھے۔ اسی حوالے سے ایک مرتبہ لوگوں کی جانب سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ آپ کو تو مکمل قرآن یاد ہے لیکن ہمیں مکمل یاد نہیں لہذا کیا ہم رکعتیں پڑھا سکتے ہیں تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بھی اجازت دے دی۔ چنانچہ تہجد کی نماز امام مالک کے زمانے تک 3 رکعتوں سے لے کر 49 رکعتوں تک پڑھی جاتی تھی۔ اس لیے تہجد نماز ہمیشہ تاک یعنی 3، 5، 7 اس ترتیب سے پڑھی جائے گی۔ تہجد کی نماز کبھی بھی 2، 4 یا 6 رکعتوں کی صورت میں نہیں پڑھی جائے گی۔ عام دنوں میں اس نماز کو وتر کی صورت میں پڑھا جاتا ہے۔ عربی میں وتر کہتے ہیں تاک کرنے کو۔ اس نماز کا نام تراویح تب پڑا جب لوگ تہجد نماز کی زیادہ رکعتیں پڑھنے لگے اور آرام کے غرض سے 4 رکعتوں کے بعد بیٹھ جاتے تھے۔ عربی میں اس بیٹھنے کو ترویحہ کہتے ہیں اور اس کی جمع ہے تراویح۔ اسی لیے اس نمام کا نام تراویح بھی ایسے ہی پڑا۔ جاوید احمد غامدی کا کہنا ہے کہ لہذا یہ نماز دراصل تہجد کی نفل نماز ہے جسے پڑھنے سے اللہ آپ کو بے حد ثواب دے گا لیکن اگر آپ اسے نہیں پڑھتے تو اس سے آپ کے روزے پر اثر نہیں پڑے گا۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close