پنجاب

اپوزیشن لیڈر کا ایک روزہ راہداری ریمانڈ منظور، رہائش گاہ سب جیل قرار

اسلام آباد/لاہور: قومی اسمبلی کے اجلاس میں مسلم لیگ (ن) کے صدر اور اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی شرکت کے معاملے میں لاہور کی احتساب عدالت نے مسلم لیگ (ن) کے صدر کا ایک روز کا راہداری ریمانڈ منظور کرلیا۔

لاہور کی احتساب عدالت میں ڈیوٹی جج محمد اعظم نے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کے قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت سے متعلق ایک روزہ راہداری ریمانڈ کی درخواست پر سماعت کی۔

دوران سماعت جیل حکام کی جانب سے عدالت میں درخواست پیش کی گئی۔

درخواست کے مطابق اسپیکر قومی اسمبلی کی جانب سے اجلاس میں شرکت کے لیے شہباز شریف کے پروڈکشن آرڈر جاری کیے گئے ہیں اور عدالت سے استدعا کی گئی کہ شہباز شریف کو اسلام آباد لے جانے کی اجازت دی جائے۔

بعد ازاں عدالت نے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کا ایک روز کا راہداری ریمانڈ منظور کر لیا۔

اپوزیشن لیڈر کی رہائش گاہ سب جیل قرار

دوسری جانب اسلام آباد میں قائم منسٹر انکلیو میں قومی اسمبلی کے اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کی رہائش گاہ کو سب جیل قرار دے دیا گیا۔

چیف کمشنر اسلام آباد نے رہائش گاہ کو سب جیل قرار دینے کا نوٹیفکیشن جاری کیا۔

نوٹیفکیشن کے مطابق شہباز شریف کو قومی اسمبلی کے مکمل سیشن تک سب جیل میں رکھا جائے گا۔

خیال رہے کہ قومی اسمبلی کا اجلاس آج بروز پیر (10 دسمبر) شام پارلیمنٹ ہاؤس میں شروع ہوگا اور اپوزیشن لیڈر شہباز شریف کو آج سہ پہر لاہور سے اسلام آباد لایا جائے گا۔

نیب ٹیم شہباز شریف کو بذریعہ پرواز اسلام آباد لائے گی، جہاں اپوزیشن لیڈر، قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کریں گے۔

واضح رہے کہ اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر نے شہباز شریف کے پروڈکشن آرڈر جاری کئے تھے۔

یاد رہے کہ نیب لاہور نے سابق وزیر اعلیٰ پنجاب شہباز شریف کو 5 اکتوبر 2018 کو صاف پانی اسکینڈل کے حوالے سے بیان کے لیے طلب کیا تھا جہاں انہیں نیب نے باضابطہ طور پر گرفتار کرلیا تھا۔

شہباز شریف کی گرفتاری کے بعد نیب کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا تھا کہ شہباز شریف نے آشیانہ ہاؤسنگ اسکیم کا کنٹریکٹ لطیف اینڈ سنز سے منسوخ کر کے کاسا ڈویلپرز کو دیا جس سے قومی خزانے کو کروڑوں روپے کا نقصان ہوا جس کے لیے مزید تفتیش درکار ہے۔

آشیانہ ہاؤسنگ اسکینڈل میں شہباز شریف سے قبل فواد حسن فواد، سابق ڈی جی ایل ڈی اے احد چیمہ، بلال قدوائی، امتیاز حیدر، شاہد شفیق، اسرار سعید اور عارف بٹ کو نیب نے اسی کیس میں گرفتار کیا تھا جبکہ دو ملزمان اسرار سعید اور عارف بٹ ضمانت پر رہا ہیں۔

شہباز شریف کو نیب نے جنوری 2016 میں پہلی مرتبہ طلب کیا تھا، ان پر الزام تھا کہ انہوں نے چوہدری لطیف اینڈ کمپنی کا ٹھیکہ منسوخ کرنے کے لیے دباؤ کا استعمال کیا اور لاہور کاسا کپمنی کو جو پیراگون کی پروکسی کپمنی تھی کو مذکورہ ٹھیکہ دیا۔

رپورٹ کے مطابق شہباز شریف کے اس غیر قانونی اقدام سے سرکاری خزانے کو 19 کروڑ روپے کا نقصان ہوا۔

شہباز شریف پر یہ بھی الزام ہے کہ انہوں نے پی ایل ڈی سی پر دباؤ ڈال کر آشیانہ ہاؤسنگ اسکیم کا تعمیراتی ٹھیکہ ایل ڈی اے کو دلوایا لیکن ایل ڈی اے منصوبہ مکمل کرنے میں ناکام رہا اور اس سے 71 کروڑ روپے سے زائد کا نقصان ہوا۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close