سندھ

بلدیاتی انتخابات میں سندھ حکومت کو ناکامی نظر آرہی ہے، جب ہی بہانے ڈھونڈ رہی ہے

پی ٹی آئی ایک منگوپیر روڈ تک نہ بنا سکی

کراچی :  پی ٹی آئی نے شہر کیلئے کچھ نہیں کیا، یہ لوگ خوفزدہ ہیں، کیونکہ اس بار نہ پیپلز پارٹی جیت سکتی ہے اور نہ ہی ایم کیو ایم۔

امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے پریس کانفرنس میں کہا کہ بلدیاتی الیکشن سے بچنے کے لیے صوبائی حکومت حیلے بہانے ڈھونڈ رہی ہے۔ گزشتہ دنوں کرکٹ میچ ہوا اور تمام فورس اس میں موجود تھی۔ پولیس ایک سرکاری ادارہ ہے، لیکن اس کو یہ حکمرانی طبقہ اپنے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ انہیں اپنی ناکامی نظر آرہی ہے، جب ہی یہ بہانے ڈھونڈ رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ایک سیاسی ایڈمنسٹریٹر کی صورت میں یہ لوگ بچنا چاہتے ہیں۔ 6 سال انہوں نے ایڈمنسٹریٹر کے ذریعے نظام چلایا اور ایم کیو ایم نے ان کا بھرپور ساتھ دیا۔ آپ کس منہ سے ناظم آباد کا نام لے رہے ہیں؟ آپ اس شہر کو سندھ کا حصہ نہیں سمجھتے؟

ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے جمہوریت کے نام پر صرف کھایا ہے۔ مرتضیٰ وہاب کہتے ہیں کہ میرے پیسے حافظ نعیم کھا گیا۔ آپ کو وفاق سے جو پیسہ ملتا ہے، اس کا آدھا حصہ کراچی کا ہوتا ہے۔ یہ لوگ خوفزدہ ہیں، کیونکہ اس بار نہ پیپلز پارٹی جیت سکتی ہے اور نہ ہی ایم کیو ایم۔

جماعت اسلامی کے رہنماء نے کہا کہ جب رانا ثناءاللہ احتجاج روکنے کے لیے سندھ پولیس کے 10ہزار اہلکار بلانے کا دعویٰ کرسکتے ہیں تو بلدیاتی انتخابات کیوں نہیں کرواسکتے؟ اسٹریٹ کرائم بڑھ رہا ہے۔ پولیس میں 80 فیصد مقامی لوگ ہونے چاہیے۔

حافظ نعیم الرحمان کا کہنا تھا کہ افسوس کی بات ہے کہ پی ٹی آئی نے بھاری اکثریت لے کر بھی اس شہر کے لیے کچھ نہیں کیا۔ تین سال لگا کر صرف ایک گرین لائن منصوبے کا آغاز کیا۔ پی ٹی آئی ایک منگوپیر روڈ تک نہ بنا سکی۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close