More share buttons
Share with your friends










Submit
Featuredسندھ

شہباز شریف کا لاہور کو پیرس بنانے کے بعد کراچی کو نیویارک بنانے کا اعلان

Share on Pinterest
Share with your friends










Submit

کراچی: مسلم لیگ ن کے صدر اور وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف نے کہا کہ میں یہاں کوئی سیاسی ایجنڈا لیکر نہیں آیا، کراچی کی لوڈشیڈنگ میں سب سے زیادہ قصور کے الیکٹرک کا ہے، 2013ء میں نواز شریف نے فیصلہ کیا کہ کراچی کی روشنیاں بحال کی جائیں، آج کراچی کا امن واپس لوٹ آیا ہے، 80 فیصد بھتہ خوری ختم ہوگئی جبکہ ایم کیو ایم بہادرآباد گروپ نے کہا ہے کہ شہباز شریف صرف فوٹو سیشن کے لئے نہیں آئے، ہم نے ان کے سامنے اپنے دکھ بیان کردیئے ہیں۔ ایم کیو ایم بہادر آباد کے رہنماؤں کیساتھ ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے شہباز شریف نے کہا کہ معاشی انصاف اور امن آپس میں جڑے ہوئے ہیں، اس شہر کو نا جانے کس کی نظر لگ گئی۔

صدر مسلم لیگ ن نے کہا کہ بجلی کے حالیہ بحران میں کراچی الیکٹرک سپلائی کارپوریشن کا قصور ہے، رمضان کے دوران کراچی کو پوری بجلی ملنی چاہیئے۔ شہباز شریف کا کہنا تھا کہ کے الیکٹرک کے دو پلانٹس بند پڑے ہوئے ہیں، 2011ء میں سی سی آئی میں فیصلہ ہوا تھا کہ کے الیکٹرک دو پلانٹ چلائے گی جس سے شہر کو 500 میگا واٹ بجلی ملے گی لیکن کے الیکٹرک واپڈا سے سستی بجلی لیتی رہی تاکہ خود بجلی نہ بنانا پڑے، کے الیکٹرک کو پلانٹس چلانے کا پابند بنانا ہے جب کہ کل وزیراعظم خود یہاں آئیں گے، رمضان المبارک میں شہر کو بلا تاخیر بجلی ملنی چاہیئے، کراچی میں لوڈشیڈنگ بجلی پلانٹس کی بندش کی وجہ سے ہے۔

وزیراعلیٰ پنجاب نے کہا کہ پاکستان کا 70 سال مک مکا اور باتوں میں گزر گیا، پاکستان کو مضبوط کریں گے اور شہر قائد کو اس کا مقام دلوائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اگر ہمیں موقع ملا تو مل کر اس شہر کے دکھ درد اور محرومیاں خوشیوں میں بدلیں گے، کراچی جنوبی ایشیاء کا نیویارک بنے گا۔ شہباز شریف نے کہا کہ کل وزیر اعظم خود یہاں آئیں گے، ایم کیو ایم پاکستان کے مطالبات وزیراعظم کے سامنے رکھوں گا۔ انہوں نے کہا کہ اربوں کھربوں روپے کراچی میں لگے وہ رقم کہاں گئی؟ کراچی میں ہر طرف گندگی کے ڈھیر ہیں۔

اس موقع پر ایم کیو ایم پاکستان (بہادر آباد) کے رہنما خالد مقبول صدیقی نے کہا کہ شہباز شریف سے ملاقات صرف فوٹو سیشن نہیں تھا بلکہ ہم نے شہر کے مسائل سے انہیں آگاہ کیا اور اپنے دکھ بیان کیے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت نے شہری علاقوں کے ساتھ جو کیا ہے سب کے سامنے ہے، جب کہ ہم نے ملاقات میں یہ بھی بتایا کہ اس شہر کو عالمی سطح پر بھی تسلیم کیا جاتا ہے، لیکن ڈھائی سے 3 کروڑ آبادی والے شہر کی آبادی کو دانستہ طور پر مردم شماری میں کم دکھایا گیا ہے۔

Share on Pinterest
Share with your friends










Submit
ٹیگز
مزید دیکھیں

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے