سندھ

بحریہ ٹاؤن میں تعمیراتی کام پر جزوی پابندی

سپریم کورٹ کراچی رجسٹری میں جسٹس امیر ہانی مسلم اور جسٹس مشیر عالم پر مشتمل دو رکنی بنچ نے پیر کو یہ حکم ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کی جانب سے مبینہ طور پر سرکاری زمین کے نجی زمین سے تبادلے اور اس کی غیر قانونی طریقے سے الاٹمنٹ کے خلاف دائر درخواستوں کی سماعت کے دوران دیا۔

سپریم کورٹ میں محمود اختر نقوی نامی شہری نے ایک درخواست دائر کی ہے، جس میں کہا گیا ہے کہ ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی نے ہزاروں ایکڑ سرکاری زمین ’کنسالیڈیشن‘ کے نام پر اپنے کنٹرول میں لا کر اس کا نجی زمین سے تبادلہ کر دیا ہے اور اس کارروائی کا مقصد بحریہ ٹاؤن کو فائدہ پہنچانا ہے جس کے نتیجے میں سرکاری خزانے کو کروڑوں رپے کا نقصان پہنچا ہے۔

سماعت کے موقع پر عدالت کو قومی احتساب بیورو کے پراسیکیوٹر نے بتایا کہ سروے آف پاکستان سے بحریہ ٹاؤن کو دی گئی زمین کا سروے کرایا گیا ہے۔ اس سروے ٹیم میں ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی، ڈپٹی کمشنر ملیر اور بحریہ ٹاؤن کے نمائندے شامل تھے اور اس سروے میں بحریہ ٹاؤن کا نقشہ بنایا گیا ہے۔

عدالت میں پیش کی گئی سروے رپورٹ کے مطابق ایم ڈی اے کی جانب سے بحریہ ٹاؤن کراچی میں فراہم کیا جانے والا کل رقبہ 12156 ایکڑ ہے جس میں سے عدالت نے 3015 ایکڑ رقبے پر تا حکمِ ثانی تعمیراتی کام پر پابندی عائد کی ہے۔

تاہم حکم نامے میں اس بقیہ 9141 ایکڑ رقبے کے بارے میں کوئی وضاحت نہیں کی گئی جہاں تعمیراتی کام مکمل ہو چکا ہے یا جاری ہے۔

ایڈووکیٹ جنرل سندھ بیرسٹر ضمیرگھمرو کا عدالت میں کہنا تھا کہ سرکاری زمین کا نجی زمین سے تبادلہ نہیں کیا جاسکتا اور ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کو حکومت نے متعلقہ زمین الاٹ ہی نہیں کی اور اتھارٹی یہ زمین الاٹ کرنے کا اختیار نہیں رکھتی۔

نیب کے پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ تحقیقاتی رپورٹ تقریباً مکمل ہے لیکن اس میں سینیئر ممبر بورڈ آف ریونیو سے کچھ معلومات لینی ہے اور بحریہ ٹاؤن میں شامل ملیر ڈویلپمنٹ اتھارٹی کے کچھ دیہوں کی نشاندہی کرنی ہے تاہم سینیئر ممبر بورڈ آف ریونیو رضوان میمن نے ایسے کسی نقشے سے لاعلمی کا اظہار کیا۔

پراسیکیوٹر نے عدالت کو بتایا کہ بحریہ ٹاؤن کو الاٹ کی گئی زمین کے سروے کا کام 27 جون کو شروع کیا گیا تھا جو 15 جولائی کو اختتام پذیر ہوا۔

نیب کے پراسیکیوٹر نے عدالت کو آگاہ کیا کہ تحقیقات مکمل کر لی گئی ہیں لیکن ابھی اس تبادلے کے ذمہ داروں کا تعین کرنا ہے، جس کے لیے مہلت دی جائے۔

بورڈ آف ریونیو کے وکیل فاروق ایچ نائک نے بھی ان کے موقف کی تائید کی اور کہا کہ وہ نہیں چاہتے کہ کوئی نیب پر انگلیاں اٹھائے اور یہ دباؤ میں آ کر غلط لوگوں کو شامل کر لے اس لیے اسے آزاد چھوڑ دیا جائے۔

اس پر عدالت نے قومی احتساب بیورو کو ہدایت کی کہ وہ دو ماہ کے اندر رپورٹ مکمل کر کے عدالت میں پیش کرے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close