More share buttons
Share with your friends










Submit
Featuredسندھ

کراچی، ایم کیو ایم کے سابق رہنما علی رضا عابدی دہشتگردوں کی فائرنگ سے جاں بحق

Share on Pinterest
Share with your friends










Submit

کراچی: متحدہ قومی موومنٹ کے سابق رہنماء علی رضا عابدی گھر کے باہر قاتلانہ حملے میں جاں بحق ہوگئے، انہیں تشویشناک حالت میں پی این ایس شفا اسپتال منتقل کیا گیا تھا، لیکن وہ جانبر نہ ہوسکے۔ تفصیلات کے مطابق ایم کیو ایم کے سابق رہنماء علی رضا عابدی کی رہائشگاہ خیابان غازی ڈیفنس کے باہر نامعلوم دہشتگردوں نے ان پر فائرنگ کر دی، جس سے وہ شدید زخمی ہوگئے، جبکہ دہشتگرد فرار ہوگئے۔ قاتلانہ حملہ ان کے گھر کے باہر اس وقت ہوا، جب وہ اپنی گاڑی سے اتر رہے تھے۔ واقعے کے بعد علی رضا عابدی کو شدید زخمی حالت میں پی این ایس شفا اسپتال منتقل کیا گیا تھا، جہاں وہ جانبر نہ ہوسکے۔

علی رضا عابدی کو سر اور گردن میں 2، 2 گولیاں لگی تھیں۔ علی رضا عابدی گاڑی میں اکیلے تھے۔ ایس ایس پی ساؤتھ نے بھی تصدیق کر دی ہے کہ علی رضا عابدی دوران علاج دم توڑ گئے۔ پولیس جائے وقوع سے شواہد اکٹھے کر رہی ہے۔ علی رضا عابدی کی میت کو پوسٹ مارٹم کیلئے جناح اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔ جائے وقوعہ سے نائن ایم ایم پستول کے 5 خول ملے ہیں۔ والد اخلاق عابدی کے مطابق حملہ آور موٹرسائیکل پر آئے تھے۔

ڈی آئی جی ساؤتھ نے کہا کہ علی رضا عابدی پر فائرنگ خیابان غازی میں انکے گھر کے باہر ہوئی، فائرنگ گھر میں داخل ہوتے وقت کی گئی، علی رضا عابدی اپنی گاڑی خود چلا رہے تھے، جیسے ہی گھر پہنچے، پیچھے سے آنے والے دہشتگردوں نے ان پر شدید فائرنگ کر دی۔ علی رضا عابدی کو زخمی حالت میں اسپتال منتقل کر دیا گیا تھا۔ ڈی آئی جی ساؤتھ نے کہا کہ متحدہ رہنما پر حملہ ٹارگٹڈ کارروائی لگتی ہے۔ پولیس اور رینجرز کی بھاری نفری نے جائے وقوعہ کا محاصرہ کرکے شواہد اکٹھے کرنا شروع کر دیئے ہیں۔ فوری طور پر معلوم نہیں ہوسکا کہ حملہ آوروں کی تعداد کتنی ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے واقعہ کا نوٹس لے کر آئی جی سندھ کلیم امام سے رپورٹ طلب کرلی۔ واضح رہے کہ 2013ء میں کراچی سے قومی اسمبلی کے حلقے این اے 251 سے 80 ہزار سے زائد ووٹ لیکر کامیاب ہوئے تھے، جو نئی حلقہ بندیوں کے بعد این اے 244 ہوچکا ہے۔ علی رضا عابدی نے ایم کیو ایم قیادت سے اختلافات کے باعث رواں برس ستمبر میں پارٹی کی بنیادی رکنیت سے استعفیٰ دیدیا تھا۔

Share on Pinterest
Share with your friends










Submit
Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close