سندھ

ٹرینوں کی آمد و رفت کا نظام درہم برہم، ٹرینیں 20 گھنٹے تاخیر کا شکار

کراچی: رحیم یارخان کے قریب دو روز قبل مال گاڑی کے حادثے کے باعث ٹرینوں کی آمد رفت کا نظام درہم برہم ہوگیا اور ٹرینیں 20 گھنٹے سے زیادہ تاخیر کا شکار ہیں۔

ڈاؤن ٹریک پر پیر کے روز مال گاڑی کی کئی بوگیاں پٹری سے اتر گئی تھیں جس کے باعث ٹرینوں کے اوقات کار شدید متاثر ہیں جب کہ ریلوے انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ٹرینوں کی آمدورفت معمول پر آنے میں مزید چند روز لگیں گے۔

ریلوے ذرائع کا کہنا ہے کہ مال گاڑی کے ایک حادثے نے ریلوے کی تمام کارکردگی پر سوالیہ نشان لگا دیے، ٹرینوں کے اوقات کار بہتر بنانے کے لیے بعض مسافر ٹرینیں منسوخ کرنے پر غور کیا جارہا ہے۔

ریلوے ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ نئی ٹرینیں چلانے سے ریلوے کے پاس ریزرو میں انجن اور بوگیاں موجود نہیں۔

ریلوے انتظامیہ نے وزیر ریلوے شیخ رشید احمد کو آئندہ نئی ٹرینیں نہ چلانے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ بغیر سوچے نئی ٹرینیں نہ چلائی جاتیں تو ریزرو میں موجود انجنوں اور بوگیوں سے ٹرینوں کا نظام متاثر ہونے سے بچایا جا سکتا تھا۔

علامہ اقبال ایکسپریس 22 گھنٹے اور پاکستان ایکسپریس 19 گھنٹے تاخیر سے کراچی پہنچ گئی، سفر کے دوران مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

علامہ اقبال ایکسپریس کو گزشتہ صبح 8 بجے کراچی کے کینٹ اسٹیشن پہنچنا تھا جس کے بعد کل دوپہر 12 بجے ہی کراچی سے روانہ ہونا تھا تاہم وہ 22 گھنٹے کی تاخیر کے بعد کراچی پہنچی۔

اندرون ملک ٹرینوں کی روانگی میں تاخیر کے باعث مسافروں کو پریشانی کا سامنا ہے، پاکستان ایکسپریس کینٹ اسٹیشن سے راولپنڈی کے لئے 17 گھنٹے کی تاخیر کے بعد روانہ ہوگئی۔

راولپنڈی، لاہور، اور ملتان سے کراچی پہنچنے والی ملت ایکسپریس، پاکستان ایکسپریس، عوام ایکسپریس، زکریا ایکسپریس اور فرید ایکسپریس کی آمد میں بھی تاخیر ہورہی ہے۔

ریلوے حکام کے مطابق راولپنڈی اور لاہور سے ٹرینوں کی کوئٹہ پہنچنے میں 24 گھنٹے تک تاخیر ہورہی ہے جب کہ کوئٹہ سے آج اندرون ملک ٹرینیں اپنے وقت پر روانہ ہوں گی۔

ریلوے حکام کا کہنا ہے کہ اکبر ایکسپریس اور جعفر ایکسپریس کے مسافر ایک ٹرین میں سبّی روانہ ہوں گے جس کے بعد سبی سے مسافر علیحدہ علیحدہ ٹرین میں اپنی اپنی منزل کی جانب روانہ ہوں گے۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close