کھیل و ثقافت

مکی آرتھر نظم و ضبط پر خصوصی توجہ دیں تو فائدہ ہوگا، وقاریونس

لاہور: کرکٹ کمیٹی کے بارے میں زبانی دعوؤں پر وقار یونس نے اظہار مایوسی کیا ہے، سابق ہیڈ کوچ کا کہنا ہے کہ میری تجاویز پر عمل درآمد ہوتا نظر نہیں آتا، باتیں تو بہت ہو گئیں مگر اصل کام نہیں کیا جا رہا، ڈومیسٹک نظام کو درست کیے بغیر پاکستان کرکٹ میں بہتری نہیں آئے گی۔تفصیلات کے مطابق قومی کرکٹ ٹیم کے سابق ہیڈ کوچ وقار یونس نے ایک نجی ٹی وی کو انٹرویو میں کہاکہ پاکستان کرکٹ بورڈ میں دکھاوے کے لیے سب کام کیے جا رہے ہیں، باتیں تو بہت ہوئیں لیکن اصل کام نہیں ہو رہا، میری موجودگی میں تجاویز پر عمل ہوجاتا تو خوشی ہوتی لیکن ایسا ہوتا اب بھی دکھائی نہیں دے رہا،انھوں نے کہا کہ بورڈ کو تجویز دی تھی کہ کرکٹ کمیٹی میں صرف حقیقی کرکٹرز کو ہی لانا چاہیے، مگر اس ضمن میں کوئی پیش رفت نظر نہیں آرہی، میں بار بار کہتا رہاکہ ڈومیسٹک نظام کو درست کرنے تک پاکستان کرکٹ میں بہتری نہیں آئے گی،اس ضمن میں ٹھوس اقدامات اٹھانا ہونگے، مکی آرتھر جنوبی افریقہ کے کامیاب کوچ رہے۔ان کی رہنمائی میں ٹیم کی کارکردگی اچھی تھی لیکن ڈسپلن کے معاملات کی وجہ سے انھیں آسٹریلیا میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ وقار یونس نے کہا کہ نئے ہیڈ کوچ نظم و ضبط پر خصوصی توجہ دیں تو قومی ٹیم کو فائدہ ہوگا۔

۔ یاد رہے کہ مکی آرتھر نے پاکستان کرکٹ بورڈ کے ساتھ کام کرنے کی حامی بھرنے کے بعد اپنے پہلے انٹرویو میں کہا تھا کہ وہ ڈسپلن کے معاملے میں کسی سے کوئی رعایت نہیں برتیں گے، وہ اپنی پالیسی پر عمل درآمد کرانے میں کس حد تک کامیاب ہوتے ہیں یہ وقت ہی بتائے گا،اس طرح کا دعوی سابق ہیڈ کوچ ڈیو واٹمور نے بھی کیا تھا لیکن سخت گیرمنتظم ہونے کی شہرت رکھنے والے سابق آسٹریلوی کرکٹر بھی بعد ازاں پاکستانی مزاج میں ڈھل کر مصلحتوں کے شکار نظر آئے تھے۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close