کھیل و ثقافت

قومی ٹیم انگلینڈ کو فیصلہ کن پنچ رسید کرنے کیلیے تیار

لیڈز: انگلینڈ کو فیصلہ کن پنچ رسید کرنے کیلیے پاکستان کی تیاریاں جاری ہیں۔

پاکستان اور انگلینڈ کے مابین سیریزکا دوسرا اور آخری ٹیسٹ میچ جمعے کو ہیڈنگلے، لیڈز میں شروع ہوگا۔ گزشتہ روز مہمان کرکٹرز نے بارش کی مداخلت کے باوجود بھرپور پریکٹس سیشن میں اپنی صلاحیتیں نکھارنے کا سلسلہ جاری رکھا۔

ابتدا میں ہیڈ کوچ مکی آرتھر نے کھلاڑیوں کو لیکچر میں مقامی کنڈیشنز سے آگاہ کرتے ہوئے لارڈز ٹیسٹ کی کارکردگی ہیڈنگلے میں بھی دہرانے کیلیے ذہنی طور پر تیار کیا، بعد ازاں کھلاڑیوں نے وارم اپ کے بعد فٹنس ڈرلزپرتوجہ دی، ٹرینرکلف ڈیکن کی نگرانی میں جسمانی استعدا بہتر بنانے کی کوشش ہوئی۔
فیلڈنگ کوچ اسٹیو رکسن نے تمام کھلاڑیوں کودہری مشقت سے گزارا، بیٹ سے فاصلے پراچھالی گئی گیند کو دوڑتے ہوئے کیچ کرنے کے بعد سنگل وکٹ کو نشانہ بنانے کیلیے کہا جاتا، ابھی فیلڈنگ کی بھرپورسرگرمیاں جاری تھیں کہ بارش نے کھلاڑیوں کو میدان چھوڑنے پر مجبور کردیا۔ انڈور پریکٹس میں کپتان سرفرازاحمدکیساتھ اسٹیورکسن نے الگ سیشن کیا۔دوسری جانب اظہر محمود نے بولرز کی لائن لینتھ پر توجہ مرکوز رکھی،ہیڈ کوچ مکی آرتھراوربیٹنگ کوچ گرانٹ فلاور ٹاپ آرڈر کو تھرو کی گئی تیز ترین گیندوں کا سامنا کرنے کیلیے نیٹ پر بلاتے رہے۔

امام الحق اور انجری کے باعث وطن واپس آنے والے بابر اعظم کی جگہ لینے کے امیدواروں عثمان صلاح الدین اور سعد علی کو پریکٹس کروانے پر خصوصی توجہ دی گئی۔موسمیاتی پیش گوئی کے مطابق جمعرات کو بھی دوپہر اور شام کو بارش متوقع ہے، جمعے کو میچ کے پہلے روز بھی موسم کی مداخلت کا خدشہ موجود ہے۔

لیڈز میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے محمد عامر نے کہا کہ لارڈز میں فتح سے پاکستان ٹیم کے اعتماد میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے، انگلینڈ کو کرکٹ کا گھر کہلانے والے تاریخی میدان پر شکست دینا قابل فخر ہے، اس جیت سے لطف اندوز ہونا اچھی بات ہے لیکن ہیڈنگلے ٹیسٹ میں بھی کسی تساہل پسندی کی گنجائش نہیں ہوگی۔

محمد عامر نے کہا کہ انگلینڈ کا شمار ٹیسٹ کرکٹ کی بہترین ٹیموں میں ہوتا ہے،پہلے میچ میں ناکامی کے بعد میزبان جوابی حملہ کی پلاننگ اور تیاری کررہے ہوں گے، ہمیں بھی مستعد رہتے ہوئے سخت محنت کرنا ہوگی، پوری قوت کیساتھ فیصلہ کن پنچ لگانا ہوگا، منیجمنٹ بہترین ماحول فراہم کرنے کیساتھ بھرپور حوصلہ افزائی کررہی ہے، سیریز میں فتح کا عزم لیے میدان میں اتریں گے۔

پیسر نے کہا کہ بولنگ کوچ اظہر محمود کی کوچنگ میں پیس بیٹری جاندار ہوگئی، محمد عباس، حسن علی، فہیم اشرف اور خود میری بولنگ میں بھی نکھار آیا، سابق آل راؤنڈر کنڈیشنز کے مطابق بولنگ کی ہدایت اورنیٹ میں رہنمائی کرتے ہیں،انھوں نے سب کو آگے گیند کرنے کیلیے کہا جس کا فائدہ بھی ہوا۔

محمد عامر نے کہا کہ میری لینتھ بھی شارٹ تھی، اظہرمحمود نے سمجھایا کہ آگے گیند کرو تو سوئنگ سے بھی مدد ملے گی،اس میں کوئی شک نہیںکہ تھوڑا بھی تھکاوٹ کا شکار ہوں تو اس لینتھ پر بولنگ مشکل ہوجاتی ہے لیکن سب اپنی فٹنس اور کارکردگی کے حوالے سے پیشہ وارانہ رویہ رکھتے ہیں،اپنی ذمہ داری اٹھانے کیلیے تیار ہوں تو ہمت بھی آجاتی ہے۔

ایک سوال کے جواب میں محمد عامرنے کہا کہ پاکستان کی ڈومیسٹک کرکٹ میں ڈیوک بال کے استعمال کا دورہ حالیہ ٹور میں بھی فائدہ ہوا، بھارت، ویسٹ انڈیز اورانگلینڈ سب اسی برانڈ کی گیندکواپنا چکے ہیں،پاکستانی بولرز کو بھی ڈومیسٹک کرکٹ میں تجربہ ہوچکا تھا،اس لیے بہتر نتائج بھی سامنے آئے۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close