More share buttons
Share with your friends










Submit
کھیل و ثقافت

کرکٹ ورلڈ کپ 2019ء میں پاکستان ٹیم کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا، سابق انگلش کپتان ناصر حسین

پاکستان ٹیم ورلڈ کپ 2019ء کا ٹائٹل اپنے نام کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے

Share on Pinterest
Share with your friends










Submit

لندن: انگلش ٹیم کے سابق کپتان ناصر حسین کا کہنا ہے کہ پاکستان ٹیم ورلڈکپ 2019ء کا ٹائٹل اپنے نام کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے اور پاکستان کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔

میڈیا انٹرویو کے دوران ناصر حسین نے کہا کہ پاکستان ٹیم غیر متوقع ٹیم ہے جس کے پاس نوجوان کھلاڑی ہیں جو کسی بھی وقت بہترین کارکردگی پیش کرسکتے ہیں اور اس ورلڈکپ میں پاکستان کو نظرانداز نہیں کیا جانا چاہیے۔

ناصر حسین نے نوجوان فاسٹ بولر محمد حسنین اور شاہین شاہ آفریدی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ دونوں بولرز 90 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے گیند بازی کی صلاحیت رکھتے ہیں، اگر وکٹ نے انہیں سپورٹ دی تو پاکستان ٹیم ورلڈکپ جیت سکتی ہے۔

سابق انگلش کپتان کا کہنا تھا کہ یہ ورلڈکپ ہائی اسکورنگ ہوگا، اگر سرفراز احمد نے اپنے نوجوان بولروں کو پورا موقع دیا کہ وہ چاہے جتنے بھی رنز دیں، انہیں جوز بٹلر، ویرات کوہلی، ایم ایس دھونی، اسٹیو اسمتھ یا کین ولیمسن کی وکٹ چاہیے تو یہی چیز ٹائٹل جیتنے اور ہارنے کے درمیان فرق کو واضح کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں: سرفراز احمد نے ورلڈ کپ 2019ء کو ہدف قرار دے دیا

ناصر حسین نے چیمپئنز ٹرافی 2017 کے فائنل میں بھارت کے خلاف فخر زمان کی سنچری کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ یہ ثبوت ہے کہ پاکستان کی بیٹنگ لائن کیا کچھ کرسکتی ہے اور فخر زمان وہ کھلاڑی ہیں جو پاکستان کو اچھا اسکور کر کے دے سکتے ہیں۔

سابق انگلش بلے باز کا کہنا تھا ‘پاکستان بیٹنگ لائن اپ میں موجود بابر اعظم پاکستان کو 300 کا مجموعہ بنانے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں جب کہ تجربہ کار محمد حفیظ اور شعیب ملک اپنی کارکردگی سے ٹیم کو سہارا دے سکتے ہیں’۔

ناصر حسین نے محمد عامر کو بڑے میچ کا کھلاڑی قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس نے چیمپئنز ٹرافی کے فائنل میں جس طرح وکٹیں حاصل کیں وہ بہت شاندار تھیں، اس میں کوئی شک نہیں کہ جب محمد عامر کا دن ہوتا ہے تو وہ اس دن کے بہترین کھلاڑی ہوتے ہیں۔

Share on Pinterest
Share with your friends










Submit
ٹیگز
مزید دیکھیں

متعلقہ خبریں

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے