More share buttons
Share with your friends










Submit
کھیل و ثقافت

ٹینس سٹار ثانیہ مرزا چار سال کے وقفے کے بعد ومبلڈن ٹینس مقابلوں میں واپس

Share on Pinterest
Share with your friends










Submit

ثانیہ مرزا انڈیا اور پاکستان دونوں ممالک کے لیے اہمیت کی حامل ہیں یعنی جہاں ایک طرف وہ اںڈین شہری ہیں وہیں وہ پاکستانی کرکٹر شعیب ملک کی اہلیہ بھی ہیں

ثانیہ مرزا اس ٹورنامنٹ میں اپنی امریکی پارٹنر بیتھانی میٹک سینڈس کے ساتھ شرکت کر رہی ہیں انھوں نے پہلے راؤنڈ میں چھٹے نمبر کی ڈیزیراے کرازک اور ایلکسا گوراچی کی جوڑی کو شکست دی ہے۔
انھوں نے یہ مقابلہ سات پانچ اور چھ -تین سے جیتا ہے۔

وہ ڈبلز میں سنہ 2015-16 میں ورلڈ نمبر ون رہ چکی ہیں اور انھوں نے اب تک اپنے کریئر میں چھ گرینڈ سلیم ٹورنامنت میں کامیابی حاصل کی ہے انھوں نے سنہ 2013 کے بعد سے سنگلز کے مقابلوں میں شرکت بند کردی اور اس کے بعد سے وہ مکسڈ ڈبلز اور ویمن

ڈبلز میں ہی شرکت کر رہی ہیں۔
ومبلڈن میں اُن کی جیت کے بعد سوشل میڈیا پر ومبلڈن کے ساتھ ساتھ ثانیہ مرزا بھی ٹرینڈ کر رہا ہے اور لوگ ان کی تعریف کر رہے ہیں۔

ثانیہ مرزا نے بچے کی پیدائش کے سبب کھیل کی دنیا سے عارضی طور پر دوری اختیار کی تھی لیکن ماں بننے کے بعد انھوں نے اب ایک بار پھر میدان کا رُخ کیا ہے اور وہ ویمن ڈبلز کے مقابلے میں شریک ہوئی ہیں۔

ٹینس سے بریک لینے کے دوران انھوں نے ایک ٹی وی چینل سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ یہ ان کے کریئر کا خاتمہ نہیں ہے بلکہ وہ گرینڈ سلیم جیت کر ہی ٹینس کو الوداع کہیں گی۔

اس سے پہلے بھی بہت سی ٹینس سٹارز بچوں کی پیدائش کے بعد ٹینس کورٹس میں کارنامے سرانجام دیتی رہی ہیں۔
سنہ 1973 میں مارگریٹ کورٹ نے آسٹریلین اوپن ٹورنامنٹ میں ایوون گولاگونگ کو چھ چار اور سات پانچ سے شکست دی تھی۔ اس کے

بعد انھوں نے فرنچ اوپن میں کرس ایورٹ کو شکست دے کر یہ ثابت کیا تھا کہ وہ اپنے کریئر کی بہترین فارم میں ہیں۔
ایوونی گولاگونگ پہلی اور اب تک کی واحد کھلاڑی ہیں جنھوں نے بچے کی پیدائش کے بعد ومبلڈن میں کامیابی حاصل کی تھی۔ انھوں نے سنہ 1980 میں کرس ایورٹ کو فائنل میں شکست دی تھی۔

یہ بھی پڑ ھیں:ٹینس اسٹار ناؤمی اوساکا فرنچ اوپن ٹینس سے دستبردار

بلجیئم سے تعلق رکھنے والی کِم کلیجسٹر نے یو ایس اوپن میں اس وقت سنسنی پھیلا دی تھی جب وہ پہلی وائلڈ کارڈ کھلاڑی کے طور پر شامل ہوئیں اور انھوں نے کیرولائن ووزنیاکی کو سات پانچ اور چھ تین سے شکست دے کر کامیابی حاصل کی۔

یہ کارنامہ انھوں نے سنہ 2009 میں انجام دیا تھا۔ ان کی اپنی بیٹی کے ساتھ اُن کی تصویر ساری دنیا نے دیکھی تھی جس میں ان کے دونوں ہاتھوں میں ٹرافی تھی۔

انھوں نے سنہ 2010 میں پھر سے امریکی اوپن میں کامیابی حاصل کی۔

کِم کلیجسٹر نے سنہ 2011 میں آسٹریلین اوپن میں کامیابی حاصل کی اس طرح وہ تین بار گرینڈ سلیم کی فاتح ہوئیں۔

گذشتہ سال یو ایس اوپن کے سیمی فائنل میں وکٹوریا ایریزنکا اور سیرینا ولیمز کا سیمی فائنل میں مقابلہ تھا۔ یہ دو ماؤں کے درمیان کسی گرینڈ سلیم کے سیمی فائنل میں ہونے والا پہلا مقابلہ تھا۔

بلاگر رچا سنگھ نے ٹویٹ کرتے ہوئے لکھا: ’ہم ثانیہ مرزا کی بہت تعریف نہیں کرتے۔ وہ کتنی بڑی سٹار ہیں۔ ان کا ومبلڈن ڈبلز میچ کچھ الگ تھا۔ جس طرح سے میچ جیتنے کے بعد وہ کنارے جا کر اپنے بیٹے سے ملیں۔ واہ!‘

وہ سوچتی ہیں کہ ‘اپنی ماں کو اتنی حیرت انگیز چیزیں کرتا دیکھا کر یہ بچہ بڑا ہوکر کتنا زبردست لڑکا ہوگا۔

زیادہ تر صارفین ثانیہ کو مبارکباد دے رہے ہیں اور انڈیا کا سر بلند کرنے کے لیے خراج تحسین پیش کر رہے ہیں جبکہ بعض انھیں خاتون آئیکون کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

ثانیہ مرزا سنہ 2003 سے پروفیشنل ٹینس کھیل رہی ہیں اور اس سے قبل انھوں نے دس سنگلز مقابلے اور 13 ڈبلز کے مقابلے میں جونيئر کی حیثیت سے کامیابی حاصل کی تھی۔

Share on Pinterest
Share with your friends










Submit
Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close