More share buttons
Share with your friends










Submit
دنیا

طالبان حکومت اپنے فیصلوں کو واپس نہیں لے گی تو ہم دوسرے آپشنز کواستعمال کریں گے : امریکا

Share on Pinterest
Share with your friends










Submit

طالبان نے اپنی سابقہ اہم پالیسی کے تحت سخت ترین پابندیوں میں اضافہ اور اسے دوبارہ نافذ کیا

طالبان حکومت کی جانب سے خواتین اور لڑکیوں کے حقوق کو محدود کرنے کے حالیہ فیصلے کے بعد امریکا نے کہا ہے کہ اگر طالبان اپنے فیصلوں کو خود سے واپس نہیں لیں گے تو امریکا طالبان حکومت پر فیصلہ واپس لینے کے لیے دباؤ بڑھانے کے لیے اقدامات کرے گا۔

غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے بریفینگ دیتے ہوئے کہا کہ ہم نے اس مسئلے پر طالبان سے براہ راست بات کی ہے اور اگر ہمیں ایسا لگا کہ طالبان حکومت اپنے فیصلوں کو واپس نہیں لے گی تو ہم دوسرے آپشنز کواستعمال کریں گے جو ہمارے پاس موجود ہیں۔

انہوں نے ممکنہ اقدامات کی وضاحت یا عندیہ نہیں دیا کہ طالبان گروپ کے ارادے کس طرح بدل سکتے ہیں حالانکہ انہوں نے پہلے ہی ایسی پالیسیوں کو نفاذ کر دیا ہے جوافغانستان میں لڑکیوں کو 20 سال کے دوران ملنے والے فائدے کی راہ میں رکاوٹ ڈال رہی ہیں۔

طالبان نے خواتین کو عوامی مقامات پر چہروں کو ڈھانپنے کا حکم دیا تھا، طالبان نے اپنی سابقہ اہم پالیسی کے تحت سخت ترین پابندیوں میں اضافہ اور اسے دوبارہ نافذ کیا ہے جو ملک اور عالمی دنیا میں غم و غصے کا باعث بن رہا ہے۔

طالبان نے پرانے دور حکومت 1996 تا 2001 کے دوران عوامی مقامات پر خواتین کے لیے لازمی قرار دیے گئے لباس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ چہرہ چھپانے کے لیے سر سے پاؤں تک نیلا برقع موزوں ترین ہے۔

عالمی برادری نے طالبان حکومت کو مستقبل میں تسلیم کرنے کے حوالے سے لڑکیوں کو تعلیم دینے کا اہم مطالبہ کیا ہے۔ طالبان نے غیر ملکی افواج کے انخلا کے بعد اگست میں حکومت پر قبضہ کیا تھا۔

طالبان نے لڑکیوں اور خواتین کے کام کرنے پر پابندی عائد کرنے اور اُن کے سفر کو قریبی رشتہ دار کے ساتھ کرنے سے مشروط کر دیا تھا، لیکن اس کے باوجود طالبان نے ساتویں کلاس سے آگے پڑھنے کے لیے زیادہ تر لڑکیوں کو اسکول جانے سے روک دیا تھا۔

نیڈ پرائس نے کہا کہ ہم نے اتحادیوں اور پارٹنرز کے ساتھ مشاورت کی ہے، ہم طالبان پر دباؤ بڑھانے کے لیے اقدامات جاری رکھیں گے تاکہ وہ اپنے وعدے کے مطابق کچھ فیصلوں کو واپس لیں۔

بائیڈن انتظامیہ نے بتایا کہ افغانستان کے مرکزی بینک کے 7 ارب ڈالر کے اثاثہ جات امریکا میں منجمد ہیں۔ انتظامیہ ایک اہم فائدے کے طور پر آدھی رقم کو افغان عوام کی مدد کی خاطر واپس کرنا چاہتی ہے۔

 

Share on Pinterest
Share with your friends










Submit
Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close