More share buttons
Share with your friends










Submit
دنیا

مقتدیٰ الصدر کا سیاست چھوڑنے کا اعلان ، عراق میں پرتشدد مظاہرے

Share on Pinterest
Share with your friends










Submit

بغداد : سکیورٹی فورسز اور مقتدیٰ الصدر کے حامیوں کے درمیان جھڑپوں میں کم از کم 15 افراد ہلاک

عراق کے دارالحکومت بغداد میں گذشتہ رات عراقی سکیورٹی فورسز اور طاقتور شیعہ عالم دین مقتدیٰ الصدر کے حامیوں کے درمیان جاری رہنے والی جھڑپوں میں کم از کم 15 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

عراق میں جاری سیاسی تعطل پر طاقتور شیعہ لیڈر مقتدیٰ الصدر نے سیاست چھوڑنے کا اعلان کیا تو ان کے وفادار نوجوان بغداد کی سڑکوں پر نکل آئے اور اس دوران ان کی تہران کے حمایت یافتہ گروہوں کے حامیوں کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوئیں۔

پیروکار ری پبلکن محل میں داخل ہوگئے۔ ان کے حامیوں نے سیمنٹ کی رکاوٹوں کو رسیوں سے نیچے اتارا اور محل کے دروازے توڑ دیئے اور محل کے سوئمنگ پول میں نہاتے رہے۔

سکیورٹی فورسز نے گرین زون کے داخلی دروازے پر صدری تحریک کے حامیوں کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس کے گولے داغے، جس کے بعد وہ سرکاری محل کو خالی کرنے پر مجبور ہوگئے۔ عراق کی فوج نے کشیدگی پر قابو پانے اور جھڑپوں کے امکانات کو ختم کرنے کیلئے شہر بھر میں کرفیو نافذ کیا۔

پولیس اور ریسکیو اداروں نے جھڑپوں میں فائرنگ سے مقتدیٰ الصدر کے آٹھ حامیوں کی ہلاکت اور 85 کے زخمی ہونے کی تصدیق کی تھی۔

تاہم تازہ ترین اطلاعات کے مطابق بغداد میں پرتشدد جھڑپوں میں مرنے والوں کی تعداد 15 ہو گئی ہے، افراتفری میں تقریباً 350 مظاہرین زخمی ہوئے۔

مقامی میڈیا کے مطابق طاقتور عراقی شیعہ مسلم رہنما مقتدا الصدر نے تشدد اور ہتھیاروں کا استعمال بند ہونے تک بھوک ہڑتال کا اعلان کیا ہے، جس کی تصدیق نہیں ہوسکی۔

اقوام متحدہ، امریکہ اور دنیا کے کئی ممالک نے عراق میں متحارب سیاسی جماعتوں کے درمیان مذاکرات پر زور دیا ہے تاکہ صورت حال پر امن رہے اور سیاسی اختلافات تشدد کی شکل اختیار نہ کر جائیں اور موجودہ کشیدگی مزید عدم استحکام میں تبدیل نہ ہو جائے۔

اس امر کی اپیل کرتے ہوئے امریکہ نے ان خبروں کی تردید کی ہے کہ بغداد میں پیر کے روز امریکی سفارت خانہ خالی کر دیا گیا ہے۔

ایک سوال پر امریکی اہلکار نے کہا عراق میں تشدد کے واقعات ہمارے لیے تکلیف دہ ہیں۔ واقعات زیادہ تشدد، کی طرف جا سکتے ہیں، اس لیے ایسا کچھ نہیں ہونا چاہیے جس سے عراق کی سلامتی، استحکام اور خود مختاری کے لیے خطرہ پیدا ہو جائے۔

ایرانی وزارت داخلہ میں پولیس سیکورٹی کے نائب سربراہ مجید میراحمدی نے کہا ہے کہ ایران اور عراق کے درمیان تمام زمینی سرحدیں بند کردی گئی ہیں۔

Share on Pinterest
Share with your friends










Submit
Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close