دنیا

جرمنی کی چانسلر – خواتین پر ہونے والے حملوں کے بعد تارکینِ وطن کو ان کے ملک بھیجنےکی تیاریاں

جرمنی کی چانسلر انگیلا میرکل نے کولون میں خواتین پر ہونے والے حملوں کے بعد کہا ہے کہ وہ تارکینِ وطن کو ان کے ملک بھیجنے کے قانون میں تبدیلی کرنے پر غور کریں گی۔

خیال رہے کہ کولون میں نئے سال کے موقعے پر خواتین پر ہونے والے جنسی حملوں کی وجہ سے جرمنی میں غم و غصہ پایا جاتا ہے اور تارکینِ وطن کے لیے جرمنی کی کھلے دروازے کی پالیسی پر بحث شروع ہو گئی ہے۔

اس معاملے کی تفتیش کرنے والی پولیس کو بھی شدید تنقید کا نشانہ بنایا گیا ہے اور پولیس کے سربراہ کو ان کے عہدے سے معطل کر دیا گیا ہے۔

اس حملے کے شکار افراد نے اسے بدنظمی سے تعبیر کیا ہے جبکہ درجنوں جنسی طور پر ہراساں کیے جانے اور ڈکیتیوں کے معاملے درج کرائے گئے ہیں۔

حملے کا شکار لوگوں کا کہنا ہے کہ حکام کی جانب سے بظاہر کچھ نہیں کیا گیا۔

جرمنی کے موجودہ قانون کے مطابق اگر کسی پناہ گزین کو تین سال یا اس سے زیادہ کی قید ہوتی ہے اور اگر اسے اپنے ملک میں جان کا خطرہ لاحق نہیں ہے تو اسے زبردستی اس کے ملک بھیج دیا جائے گا۔

انگیلا میرکل کی کرسچین ڈیموکریٹ پارٹی کے حکام فی الحال جیل کی سزا پانے والے کسی بھی تارکینِ وطن کو اس کے ملک واپس بھیجنے کی تجویز پیش کرنے والے ہیں۔

انگیلا میرکل نے کہا: ’میرے خیال میں ایسے اشارے مل رہے ہیں کہ تبدیلیاں ضروری ہیں۔‘

انھوں نے مزید کہا کہ وزیرِ داخلہ اور وزیرِ انصاف اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ اس میں کس طرح بہتری لائی جائے۔؟

کولون کے حملہ آوروں کی شناخت شمالی افریقی ممالک اور عرب ممالک کے باشندوں کی صورت سے مماثلت رکھنے والوں کے طور پر کی گئی ہے اور اس سے جرمنی میں خطرے کی ایک گھنٹی بج اٹھی ہے کیونکہ گذشتہ سال وہاں تقریبا دس لاکھ پناہ گزین داخل ہوئے ہیں۔

دریں اثنا حکام نے متنبہ کیا ہے کہ تارکینِ وطن مخالف گروپ ان حملوں کا فائدہ اٹھا کر نفرت پھیلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔

خیال رہے کہ ہمبرگ اور سٹوٹگارٹ میں بھی کولون جیسے حملے کی اطلاعات ہیں۔

امیگریشن مخالف پیجیڈا گروپ نے سنیچر کو کولون میں مظاہرہ کرنے کا اعلان کر رکھا ہے۔

جرمنی میڈیا کے مطابق پولیس کولون کے اہم سٹیشن پر تقریبا ایک ہزار افراد کے یکجا ہونے کا اندیشہ ظاہر کر رہی ہے۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close