دنیا

حمل کے قدرتی طریقے سے قریب تر آئی وی ایف

ان ویٹرو فرٹیلائزیشن (آئی وی ایف) طریقہ کار میں عموماً لیبارٹری میں مصنوعی طور پر بچوں کی پیدائش کے تولیدی عمل کا آغاز کیا جاتا ہے۔ اس طریقے کو ٹیسٹ ٹیوب بے بی بھی کہا جاتا ہے۔

ڈاکٹروں کو امید ہے کہ تولیدی عمل قدرتی طریقہ کار سے قریب تر ہونے سے حمل بھی زیادہ صحت مند ہوگا۔

برطانوی شہر ساؤتھ ہیمپٹن میں واقع کمپلیٹ فرٹیلیٹی کلینک برطانیہ میں پہلا ایسا کلینک ہے جو این وِیوو ڈیوائس کاطریقہ کار استعمال کرتا ہے۔

اس طریقہ کار میں سلنڈر نما چھوٹےسے کیپسول میں مرد اور عورت کا تولیدی مادہ بھر کے اسے عورت کے رحم میں رکھ دیا جاتا ہے۔

کلینک کے سربراہ پروفیسر نِک میکلون اس بات پر زور دیتے ہیں کہ یہ کوئی شعبدہ بازی نہیں ہے۔

’لیکن اس کا یہ مطلب بھی نہیں کہ اس طرح کی نئی ٹیکنالوجی کو ایک محتاط انداز سے پیش نہیں کیا جاسکتا۔ میں آئی وی ایف میں جدت کے پہلوؤں کا گہرائی سے مطالعہ کرنے کے لیے پرجوش ہوں۔‘

آئی وی ایف کی نئی تکینک برطانیہ کے فرٹیلیٹی کے ضابطوں کی نگرانی کرنے والے ادارہ ایچ ایف ای اے سے منظور شدہ ہے۔

اس طریقہ کار کے ایک بار کے استعمال کا خرچہ سات سو برطانوی پاؤنڈ ہے۔

پروفیسر میکلون کے مطابق بین الاقوامی سطح پر تجرباتی مراحل میں 250 خواتین میں حمل ٹھہرانے کی اس تکنیک کے جو نتائج سامنے آئے ہیں ان کی شرح مروجّہ آئی وی ایف کے طریقہ کار جتنی ہی ہے۔

پروفیسر میکلون کہتے ہیں کہ ’ہمارا ہدف یہ ہے کہ لیبارٹری کے بجائے رحم میں رہنے کا جنین کا دورانیہ زیادہ سے زیادہ کردیا جائے۔ اور اس کا فوری فائدہ یہ ہوگا کہ ایسے وقت میں جب کہ جنین بہت حساس مرحلے پر ہوتے ہیں اور تولیدی عمل سے گزر رہے ہوتے ہیں وہ رحم میں زیادہ محفوظ ہوں گے۔‘

اس موضوع پر کی جانے والی کچھ تحقیق ایسی ہیں جن کے مطابق ایمبریوز کو لیبارٹری کی ڈش میں تولیدی عمل سے گزارنے سے آگے چل کےجنین اور صحت سے متعلق مسائل پیدا ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔

فی الحال یہ نہیں کہا جا سکتا کہ رحم میں جنین رکھنے والی یہ ڈیوائس مصنوعی تولیدی عمل میں کتنی بہتری لائے گی۔

ایچ ایف ای اے کی جانب سے اس ٹیکنالوجی کی منظوری کے وقت اس کی مشاورتی کمیٹی کا کہنا تھا کہ ایسے کوئی شواہد سامنے نہیں آئے ہیں جن کی بنیاد پہ یہ کہا جا سکے کہ یہ ڈیوائس غیر موثر یا نقصان دہ ہے۔

تاہم وہ ’یہ بھی نہیں سمجھتے تھے کہ ایسی کوئی معلومات سامنے آئی ہیں جن کے تحت یہ کہا جکا سکے کہ مروجّہ آئی وی ایف کے طریقے کے مقابلے میں یہ طریقہ کار کم یا زیادہ موثر ہے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ یہ طریقہ ’ممکنہ طور پر مریضوں کے لیے اخراجات میں غیر ضروری اضافے کا باعث ضرور بن سکتا ہے

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close