دنیا

کرد تنظیم ترکی کے خلاف ’جنگ میں تیزی لانے کے لیے تیار

باغی کردوں کی تنظیم کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) نے

بتایا ہے کہ وہ ترکی کے خلاف جنگ میں تیزی لانے کے لیے تیار ہے کیونکہ اسے ہتھیار ڈالنے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

تنظیم کے سربراہ جمیل بایک نے کہا ہے کہ ترک صدر رجب طیب اردوغان جنگ کے شعلوں کو ہوا دے رہے ہیں۔

انھوں نے کہا: ’جب تک ترکی کا یہ رویہ رہے گا، کرد آخر دم تک اپنا دفاع کرتے رہیں گے، پی کے کے بالکل جنگ میں تیزی لائے گی۔‘

دوسری جانب صدر اردوغان کے ایک مشیر نے کردستان ورکرز پارٹی کے ساتھ کسی قسم کے مذاکرات کے امکان کو رد کر دیا ہے۔

صدارتی مشیر النور جیوک نے 

بات کرتے ہوئے کہا: ’پی کے کے ترکی میں ایک الگ ملک قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے جو کھلی علیحدگی ہے۔‘

جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا مذاکرات کا کوئی امکان ہے تو انھوں نے کہا: ’فی الحال نہیں۔

انھوں نے کہا کہ صدر اردوغان کی جانب سے کرد علیحدگی پسندوں کے خلاف شروع کردہ فوجی مہم کو عوامی حمایت حاصل ہے۔

تاہم جمیل بایک اصرار کرتے ہیں کہ وہ ترکی سے الگ ہو کر علیحدہ ملک نہیں بنانا چاہتے۔

’ہم ترکی کو تقسیم نہیں کرنا چاہتے۔ ہم ترکی کی سرحد کے اندر اپنی سرزمین پر آزادی کے ساتھ رہنا چاہتے ہیں۔ جدوجہد اس وقت تک جاری رہے گی جب تک کردوں کے پیدائشی حقوق تسلیم نہیں کر لیے جاتے۔‘

انھوں نے کہا کہ ترکی کی ضد نے پی کے کے کو مجبور کر دیا ہے کہ وہ تنازعے کو ’نہ صرف کردستان میں بلکہ ترکی کے دوسرے حصوں میں بھی‘بڑھاوا دے۔

انھوں نے کہا کہ صدر اردوغان کی جانب سے کرد علیحدگی پسندوں کے خلاف شروع کردہ فوجی مہم کو عوامی حمایت حاصل ہے۔

تاہم جمیل بایک اصرار کرتے ہیں کہ وہ ترکی سے الگ ہو کر علیحدہ ملک نہیں بنانا چاہتے۔

گذشتہ جولائی میں ترکی اور پی کے کے کے درمیان دو سالہ تک چلنے والا جنگ بندی کا معاہدہ ٹوٹ گیا تھا۔

اس کے بعد سے تنازعے میں شدت آئی ہے، اور ترک فضائیہ نے شمالی عراق میں کرد باغیوں کے ٹھکانوں پر حملے کیے ہیں۔

ترکی، یورپی یونین اور امریکہ پی کے کے کو دہشت گرد تنظیم سمجھتے ہیں۔ فوج نے ملک کے جنوب مشرقی کرد علاقوں کے بعض مقامات پر کرفیو نافذ کر رکھا ہے۔

انٹرنیشنل کرائسس گروپ کے مطابق جنگ بندی ختم ہونے کے بعد سے اب تک ترک سکیورٹی فورسز کے 340 اہلکار مارے جا چکے ہیں، جب کہ اسی دوران 300 سے زائد کرد جنگجو اور 200 سے زائد عام شہری ہلاک ہوئے ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close