دنیا

امریکا کا خلامیں ہتھیاروں کی تنصیب پر دوبارہ غور شروع

امریکی کانگریس نے ایک بار پھر خلا میں ہتھیاروں کی تنصیب پر غور شروع کردیا ۔ خلا میں موجود بیلسٹک میزائل سسٹم دنیا میں کہیں بھی کسی بھی ایٹمی میزائل حملے کو ناکام بناسکے گا ۔روسی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکا کی جانب سے سرد جنگ کے دوران خلا میں بیلسٹک میزائل کی تنصیب کا پروگرام شروع کیا گیا تھا جسے بعد میں بند کردیا گیا، تاہم اب کانگریس نے اس پروگرام پر دوبارہ غور شروع کردیا ہے اور پینٹاگون سے کہا ہے کہ وہ اس کے امکانات کا جائزہ لے ۔پروگرام کے تحت خلا میں ان بیلسٹک میزائل کی تنصیب کا مقصد دنیا میں کہیں بھی ایٹمی میزائل حملے سے قبل سے اسے ناکام بنانا ہے ۔دوسری جانب سائنس دانوں نے اس پروگرام پر تنقید کرتے ہوئے اسے دنیا کے لیے خطرناک اور ناقابل عمل قرار دیا ہے ۔ان کا کہنا تھا کہ اس کے لیے زمین سے قریب خلا میں تقریباً1664 سیٹلائٹ لانچ کرنا پڑیں گے ۔ اس پر تقریباً ایک سو ارب ڈالر سے زائد اخراجات آئیں گے ۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close