دنیا

یورپی یونین چھوڑی تو ٹیکس بڑھیں گے

برطانیہ کے وزیرِ خزانہ جارج اوسبورن کہتے ہیں کہ اگر برطانیہ یورپی یونین سے نکلنے کے لیے ووٹ دیتا ہے تو انھیں ہنگامی بجٹ میں 30 ارب پاؤنڈ کا ’بلیک ہول‘ یا خسارہ پورا کرنے کے لیے عوامی اخراجات کی مدد میں کمی کرنا پڑے گی اور ٹیکسوں میں اضافہ کرنا پڑے گا

چانسلر نے کہا کہ اس میں آمدنی اور وراثت کے ٹیکسوں میں اضافہ اور این ایچ ایس کے بجٹ میں کٹوتی بھی شامل ہے۔

لیکن 57 ٹوری ممبر پارلیمان کہتے ہیں کہ اگر انھوں نے این ایچ ایسڑ پولیس اور سکولوں کے اخراجات پر ٹیکس لگائے تو ان کی پوزیشن غیر مستحکم ہو جائے گی۔

یورپی یونین چھوڑنے یعنی ’ووٹ لیو‘ کے حمایتی دوسرے گروہ پر بہت تنقید کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ’قیامت کی پیشنگوئیاں‘ بالکل بےبنیاد ہیں۔

برطانیہ 23 جون کو یورپی یونین میں رہنے یا اسے چھوڑنے پر ووٹ ڈالے گا۔

ریفرنڈم کے متعلق مزید رپورٹس

  • اس صورت میں کہ برطانیہ یورپی یونین چھوڑنے کے لیے ووٹ ڈالتا ہے ’ووٹ لیو‘ نے حکومت کے لیے ایک نقشۂ راہ تیار کیا ہے
  • دنیا کی مہنگی ترین گاڑیاں اور انجن بنانے والی کمپنی رولز رائس نے اپنے سٹاف سے کہا ہے کہ وہ یورپی یونین میں رہنے کی حمایت کرتی ہے۔
  • سکاٹ لینڈ کی فرسٹ منسٹر نکولا سٹروجن نے کہا ہے کہ یورپی یونین چھوڑنے کے ووٹ سے دائیں بازو کے ٹوری حمایتیوں کے اقتدار پر قبضے کا خطرہ ہے۔
  • یورپی یونین کو چھوڑنے کا فیصلہ ناقابلِ واپسی ہو گا جس سے اقتصادی عدم استحکام پیدا ہو جائے گا اور اس کے بعد برطانیہ کے پاس کوئی اقتصادی پلان نہیں رہ جائے گا، جو حکومت سے فوری طور پر ردِ عمل چاہے گا۔

    انھوں نے کہا کہ اس اقتصادی ’بلیک ہول‘ کو پر کرنے کے لیے ٹیکسوں میں اضافہ اور پبلک اخراجات میں کمی کرنا ناگزیر ہو گا۔

    انھوں نے کہا کہ برطانیہ یورپی یونین کے باہر اتنے بڑے پیمانے کی پبلک سروسز کو رکھنے کا متحمل نہیں اور اس لیے ’ہمیں چادر دیکھ کر پاؤں پھیلانے چاہییں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close