دنیا

جو ملک معاشی بدحالی کا شکار ہو اس کے ایٹم بم بھی اس کی عزت کا تحفظ نہیں کر سکتے

جو ملک معاشی بدحالی کا شکار ہو اس کے ایٹم بم بھی اس کی عزت کا تحفظ نہیں کر سکتے۔ کچھ ایسا ہی حال امریکا کو آئے روز ایٹم بم سے اڑانے کی دھمکی دینے والے ملک شمالی کوریا کا ہے ، جہاں غربت کا یہ عالم ہو چکا ہے کہ حکومت حاضر سروس فوجیوں کو مشرق وسطیٰ میں مزدوری کیلئے بھیج رہی ہے تاکہ وہ حکومت کا خرچہ چلانے کیلئے رقم کما کر لائیں۔
ویب سائٹ Rfa.orgکی رپورٹ کے مطابق شمالی کوریا ہر سال سینکڑوں حاضر سروس فوجی مشرق وسطیٰ کے مختلف ممالک میں مزدوری کیلئے بھیج رہا ہے۔ گزشتہ سال کویت بھیجے گئے سویلین شہریوں کی تعداد 4 ہزار تھی جو اس سال کم ہو کر 32 سو رہ گئی لیکن دوسری جانب مزدووری کیلئے بھیجے گئے فوجیوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ رپورٹ کے مطابق شمالی کوریائی کنسٹرکشن کمپنی نام گانگ کی طرف سے 800 فوجیوں کو کویت بھجوایا گیا ہے جبکہ 750 کو قطر بھیجا گیا ہے۔ اسی طرح شمالی کوریا کی کچھ دیگر کمپنیوں کے توسط سے بھی حاضر سروس فوجیوں کو عام شہریوں کے روپ میں مزدوری کیلئے بھیجا جارہا ہے۔ شمالی کوریا کی حکومت انہیں ہدایت کرتی ہے کہ یہ اپنے بال لمبے کر لیں اور اپنا حلیہ عام شہریوں جیسا بنا لیں تاکہ بیرون ملک کسی کو یہ پتہ نہ چل سکے کہ شمالی کوریا کے حاضر سروس فوجی مزدوری کیلئے آئے ہوئے ہیں۔

دوسری جانب شمالی کوریا سے مشرق وسطیٰ میں روزی کمانے کیلئے آنے والے سویلین شہری ان فوجیوں سے سخت نفرت کرتے ہیں کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ان فوجیوں کی وجہ سے ان کی ملازمتیں متاثر ہو رہی ہیں۔ رپورٹ کے مطابق سویلین اپنے فوجی ہم وطنوں کو بے رحم غنڈے کہہ کر پکارتے ہیں ان سے کسی بھی قسم کا تعلق رکھنے سے گریز کرتے ہیں۔ شمالی کوریا کی جانب سے اپنے حاضر سروس فوجیوں کو مزدوری کیلئے بھیجنے کا سلسلہ ایک عرصے سے جاری ہے اور اب کویت میں مزدوری کرنے والے شمالی کوریائی باشندوں میں سے تقریباً 30 فیصد حاضر سروس فوجی ہیں

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close