More share buttons
Share with your friends










Submit
دنیا

مسلمان ہونے کی وجہ سے پاسپورٹ آفیسر نے پاسپورٹ جاری کرنے سے انکار کردیا، مسلم دشمنی کا ایک اور معاملہ منظر عام پہ

Share on Pinterest
Share with your friends










Submit

بھارتی شہر لکھنو میں ہندو انتہا پسندوں کی جانب سے مسلمانوں سے نفرت کا ایک اور واقعہ سامنے آیا ہے پاسپورٹ آفیسر نے ایک جوڑے کو مسلمان ہونے کی وجہ سے پاسپورٹ جاری کرنے سے انکار کردیا۔بھارتی میڈیا کے مطابق بھارتی شہر لکھنو میں بین المذاہب شادی شدہ جوڑے کو پاسپورٹ آفیسر وکاس مشرا نے پاسپورٹ جاری کرنے سے انکارکردیا۔ انٹرویو کے دوران وکاس مشرا نے جوڑے کے ساتھ نامناسب رویہ اختیار کرتے ہوئے کہا تھا کہ دونوں کا تعلق مختلف مذاہب سے ہے لہٰذا پہلے خاتون تنوی سیٹھ کا شوہر انیس صدیقی اپنا مذہب تبدیل کرکے ہندو مت اختیار کرے اور اپنا نام بھی تبدیل کرے اس کے بعد ان کا پاسپور ٹ جاری کیاجائے گا۔ہندو خاتون تنوی سیٹھ نے پاسپورٹ آفیسر کے جارحانہ سلوک کے بارے میں بتاتے ہوئے کہا کہ آفیسر نے میرے ساتھ نہایت اونچی آواز میں بات کی اور مجھ پر چلایا جس کی وجہ سے آس پاس موجود لوگ بھی ہماری طرف متوجہ ہوگئے، آفیسر کے اس رویے نے مجھے بہت دکھی کردیا۔بعدازاں تنوی سیٹھ نے ٹوئٹر پر بھارتی وزیر خارجہ سشما سوراج کو مخاطب کرتے ہوئے پاسپورٹ آفیسر کے نامناسب رویے کے بارے میں بارے میں بتاتے ہوئے کہا میڈم مجھے اس طرح کے جارحانہ رویے کی امید نہیں تھی، ہم معزز شہری ہیں، پاسپورٹ آفیسر اس طرح میرا اور میرے شوہر کا پاسپورٹ اپنے پاس نہیں رکھ سکتا، میں نے اس سے پہلے کبھی اتنی بے عزتی محسوس نہیں کی، یہ میرا نجی معاملہ ہے کہ میں شادی کے بعد کیا نام رکھوں۔تنوی سیٹھ کی ان ٹوئٹس کے بعد وزارت خارجہ کی جانب سے واقعے کا نوٹس لیاگیا اور جوڑے کوپاسپورٹ جاری کرنے کے ساتھ پاسپورٹ آفیسر کے خلاف شوکاز نوٹس جاری کیاگیا ہے اس کے علاوہ واقعے کی انکوائری کا حکم بھی دیاگیا ہے۔ وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کیے گئے بیان میں کہا گیا ہے کہ ہم اس واقعے پر افسوس کا اظہار کرتے ہیں اوریقین رکھیں یہ دوبارہ دوہرایا نہیں جائے گا۔

Share on Pinterest
Share with your friends










Submit
Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close