دنیا

انڈیا اور امریکہ میں فوجی تعاون کا معاہدہ

یہ معاہدہ دونوں ممالک کو ایک دوسرے کے ٹھکانوں پر فوجی ساز و سامان کی مرمت، فراہمی اور ایندھن بھرنے کا راستہ کھول دے گا

اس معاہدے کا اعلان امریکہ کے دورے پر آئے بھارتی وزیر دفاع منوہر پاركر اور امریکی وزیر دفاع ایشٹن کارٹر کی ملاقات کے بعد جاری ایک مشترکہ بیان میں کیا گیا۔

پیر کو اس معاہدے کا اعلان کرتے ہوئے ہوئے ایشٹن کارٹر کا کہنا تھا کہ اس سے دونوں ممالک کی فوج کے لیے ایک دوسرے کے ساتھ مل کر کام کرنا آسان ہو جائے گا لیکن یہ ہمیشہ دونوں کی رضامندی سے ہی ہوگا۔

ایشٹن کارٹر اور منوہر پاركر دونوں نے یہ بھی واضع کیا کہ اس معاہدے سے کسی بھی فریق کو ایک دوسرے کے ٹھکانوں پر فوجیوں کو تعینات کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔

انڈیا میں یہ معاملہ سیاسی طور سے کافی نازک رہا ہے اور اس معاہدے کی کوشش تقریبا ایک دہائی سے کی جا رہی تھی۔

انڈیا کی بائیں بازو کی جماعتیں اس کے خلاف رہیں اور کانگریس کی قیادت والی یو پی اے حکومت بھی اسے ٹالتی رہی ہے۔

بہت سے دھڑوں کا خیال ہے کہ اس معاہدے سے انڈیا اپنی غیر وابستہ پالیسی سے ہٹ رہا ہے۔

واضح رہے کہ گذشتہ ایک دہائی میں انڈیا اور امریکہ کے فوجی تعلقات میں کافی گرمجوشی دیکھنے میں آئی ہے۔

امریکہ انڈیا کو فوجی ساوسامان کا سب سے بڑا برآمد كنندہ ہے اور سنہ 2007 سے اب تک بھارت سے تقریباً 14 ارب ڈالر کے کانٹریکٹس حاصل کر چکا ہے۔

انڈیا سب سے زیادہ فوجی مشق بھی امریکہ کے ساتھ کر رہا ہے اور کچھ مہینے پہلے امریکہ نے انڈیا کو اہم فوجی پارٹنر کا درجہ دے دیا تھا جو عام طور پر انتہائی قریبی اتحادی ملکوں کو دیا جاتا ہے۔ اس حیثیت سے انڈیا مریکہ سے کئی اہم فوجی ٹیکنالوجی حاصل کر سکتا ہے جو اب تک اسے حاصل نہیں تھی۔

دونوں ممالک ضرورت پڑنے پر ایک دوسرے کے فوجی ٹھکانوں کی مدد لیتے رہے ہیں لیکن اس معاہدے سے اس پر ایک رسمی مہر لگ گئی ہے۔

واشنگٹن میں موجود تھنک ٹینک ہڈسن انسٹی ٹیوٹ میں بھارت امریکہ تعلقات پر کام کرنے والی اپرنا پانڈے کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ دونوں ممالک کے بڑھتے ہوئے فوجی تعلقات کی نشانی ہے۔

ان کا کہنا ہے ’پہلے ہی سے دونوں ملکوں کے فوجی اہلکاروں کے درمیان اعتماد کافی بڑھ گیا ہے اور یہ معاہدہ اسے مذید پختہ کرتا ہے۔

واشنگٹن میں اکثر ماہرین کا یہ بھی خیال ہے کہ انڈیا اور امریکہ کے درمیان بڑھتا ہوا فوجی تعلق چین کے بڑھتے ہوئے اثرو رسوخ کو کم کرنے کی جانب اٹھایا گیا ایک اہم قدم ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close