More share buttons
Share with your friends










Submit
دنیا

ترکی کو شامی حکومت کا سخت انتباہ

Share on Pinterest
Share with your friends










Submit

شام کے نائب وزیرخارجہ فیصل مقداد نے کہا ہے کہ شام کے عوام اپنے وطن کا دفاع کریں گے اس لئے ترکی کو چاہئے کہ وہ خود کو مہلکہ میں نہ ڈالے

شام کے نائب وزیرخارجہ فیصل مقداد نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ شام کے عوام اپنی سرزمین کے ایک بالشت حصے پر بھی کسی کا غاصبانہ قبضہ برداشت نہیں کریں گے – انہوں نے کہا کہ شامی حکومت ملک کی تمام مشکلات مثبت انداز میں اور ہر طرح کے تشدد سے دور رہتے ہوئے حل کرنے کی کوشش کررہی ہے۔ شام کے نائب وزیرخارجہ فیصل مقداد نے کہا کہ ان لوگوں کو جنھوں نے شام کی سرزمین کو کھیل تماشا بنانے اور شامی عوام کے درمیان اختلاف پیدا کرنے کی کوشش کی تھی انہیں حد سے آگے نہیں بڑھنا چاہئے – انہوں نے شام کے شمالی علاقے سے امریکا کی پسپائی کے بارے میں کہا کہ امریکا کو اس وقت پوری دنیا میں شکست کا سامنا ہے امریکیوں کا منصوبہ خواہ وہ خلیج فارس کے بارے میں رہا ہو یا افریقا اور ایشیا کے بارے میں رہا ہو یا پھر روس و چین کے ساتھ ان کا تنازعہ ہو ہر جگہ انہیں شکست ہوئی ہے – شام کے نائب وزیرخارجہ نے کہا کہ امریکا کو شکست ہوچکی ہے اور اب ترکی کو  خود کو ہلاکت میں نہیں ڈالنا چاہئے-

دوسری جانب شامی کردوں کی ملیشیا کے کمانڈر نے کہا ہے کہ شام کی کرد فورس ملک کے شمالی سرحدی علاقوں میں ترک فوج کے حملوں کے جواب میں شامی فوج کی کارروائی میں دمشق کا ساتھ دے سکتی ہے – شامی کردوں کی ملیشیا ڈیموکرٹیک فورس کے کمانڈر مظلوم عبدی نے جنھیں امریکا کی حمایت حاصل ہے کہا کہ ترکی کے ممکنہ حملوں کے دفاع میں ان کی ملیشیا کے پاس ایک آپشن یہ ہے کہ وہ شام کے صدر بشار اسد کے ساتھ کھڑی ہوجائے- شامی کردوں کی ملیشیا کا یہ اقدام ایک ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکا نے پیر کو اپنے بیان میں کہا ہے کہ وہ شام کے شمال مشرقی علاقوں سے اپنی فوج واپس بلارہا ہے –

دوسری جانب شام کے علاقوں قامشلی ، راس العین اور تل ابیض میں بڑی تعداد میں شامی کردوں نے فرات کے مشرقی علاقوں پر ترک فوج کے حملوں کے خلاف احتجاجی مظاہرے کئے ہیں – شامی کرد تین علاقوں جزیرہ ، کوبانی اور عفرین میں آباد ہیں اور یہ علاقے شام اور ترکی کی مشترکہ سرحدوں کے قریب واقع ہیں – شام میں کردوں کی آبادی تیس لاکھ ہے جن کی زیادہ تر آبادی ترکی کی سرحد کے قریب ہے اور وہ شامی نظام حکومت کے تحت زندگی بسرکرتے ہیں – شام پر حملے کے تعلق سے ترکی کا ممکنہ اقدام ادلب کو دہشت گردوں کے قبضے سے آزاد کرانے کی کارروائی میں رکاوٹ ڈال سکتا ہے اور یہی امریکا کی بھی خواہش ہے کہ ادلب میں دہشت گردوں کے خلاف کوئی آپریشن نہ ہو کیونکہ امریکا نے ہمیشہ شام میں دہشت گرد گروہوں کی حمایت کی ہے –

مہوش حیات کو نئی ویڈیو پر شدید تنقید کا سامنا

Share on Pinterest
Share with your friends










Submit
Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close