More share buttons
Share with your friends










Submit
Featuredدنیا

کورونا وائرس سے دنیا بھر میں ہلاکتوں کا سلسلہ جاری

Share on Pinterest
Share with your friends










Submit

یورپ میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ملک اٹلی میں صورتحال مسلسل بگڑتی جا رہی ہے

مشرق وسطیٰ میں وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ملک ایران میں ہلاکتوں میں ایک دن میں 13 فیصد ہوا ہے

کورونا وائرس سے دنیا بھر میں ہلاکتوں کا سلسلہ جاری ہے اور اب تک وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد 7 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ ایک لاکھ 85 ہزار سے زائد افراد وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں۔

چین

کورونا وائرس کا آغاز چین کے شہر ووہان سے ہوا تھا اور چین میں وائرس کے نتیجے میں 3 ہزار 200 سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے لیکن اب چین سے باہر ہلاکتوں کی تعداد 3ہزار 900 سے تجاوز کر چکی ہے۔

وائرس کے مرکز ووہان میں منگل کو صرف ایک نیا کیس رپورٹ ہوا جبکہ بیجنگ میں 9 کیسز سمیت ملک بھر میں مجموعی طور پر 20 نئے کیسز کی تصدیق ہوئی ہے۔

اٹلی

یورپ میں سب سے زیادہ متاثر ہونے والے ملک اٹلی میں صورتحال مسلسل بگڑتی جا رہی ہے جہاں ہلاکتوں کی تعداد 2اٹلی میں وائرس کے باعث ہلاک ہونے والوں میں سب سے ضعیف فرد کی عمر 95 سال جبکہ سب سے کم عمر ہلاکت 39 سالہ شخص کی ہوئی۔ ہزار 158 ہو چکی ہے جبکہ وائرس سے 28 ہزار افراد متاثر ہو چکے ہیں۔

اسپین

اسپین میں ہلاکتوں کی تعداد 491 ہو چکی ہے اور وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد گزشتہ روز کے مقابلے میں 2 ہزار اضافے کے ساتھ 11 ہزار 178 تک پہنچ چکی ہے۔

ایران

مشرق وسطیٰ میں رپورٹ ہونے والے 17 ہزار کیسز میں سے ہر 10 میں سے 9 کیسز کا ایران سے تعلق ہے

ایران میں ہلاکتوں میں ایک دن میں 13 فیصد ہوا ہے اور 135 افراد کے لقمہ اجل بننے سے وائرس کے باعث موت کے منہ میں جانے والوں کی تعداد 988 ہوگئی ہے جبکہ ملک میں 16 ہزار سے زائد وائرس کے متاثرین موجود ہیں۔

جمعہ کو ایران کے نئے سال نوروز کا آغاز ہو رہا اور ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس موقع پر لوگوں کی جانب سے ملاقاتوں اور تقریبات میں شرکت سے وائرس مزید ابتر شکل اختیار کرسکتا ہے۔

ایران میں مزارات و مقدس مقدمات پر عوام کے آنے جانے کا سلسلہ جاری ہے جس سے یہ وائرس مزید پھیلنے کا اندیشہ ہے۔

برطانیہ، امریکا، پولینڈ اور جرمنی

کورونا وائرس کا پھیلاؤ نہ روکا گیا تو برطانیہ میں ڈھائی لاکھ اور امریکا میں 10 لاکھ سے زائد افراد جان سے جا سکتے ہیں

امپیریئل کالج آف لندن کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ہم وائرس کے پھیلاؤ کے عمل کو کم کرنے کی کوشش کریں تو بھی ہم اس کو پھیلنے سے نہیں روک سکتے اور اس کے باوجود بڑے پیمانے پر کیس رپورٹ ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اگر تمام مریضوں کا علاج کیا جائے تو بھی ہم برطانیہ میں ڈھائی لاکھ اور امریکا میں 10 لاکھ اموات کی پیش گوئی کرتے ہیں۔

یورپ بھر کے ممالک کی جانب سے سرحدیں بند کیے جانے کے بعد مسائل میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے اور پولینڈ کی جانب سے سرحد بند کیے جانے کے بعد لتھوانیا اور پولینڈ کی مشترکہ سرحد مال بردار ٹرکوں کی 60 کلومیٹر طویل قطار بن گئی ہے۔

پولینڈ اور جرمنی کی سرحد پر بھی ہزاروں گاڑیاں پھنسی ہوئی ہیں کیونکہ وہ جرمنی واپس جانا نہیں چاہتے اور پولینڈ جانے کی انہیں اجازت نہیں ہے۔

جرمنی

جرمنی نے موسم سرما کی چھٹیاں منانے کے لیے مراکش، مصر، مالدیپ، فلپائن اور دیگر ممالک جانے والے اپنے ہزاروں شہریوں کو واپس لانا شروع کردیا ہے اور اس سلسلے میں اضافی 50 ملین یوروز کی خطیر رقم خرچ کی جارہی ہے۔

فرانس

فرانس نے وائرس کے سبب چھوٹے کاروباروں کو پہنچنے والے ناقابل تلافی نقصان کے ازالے کے لیے انہیں 50 ارب یوروز کی امداد دینے کا وعدہ کیا ہے۔

فرانس میں کاروبار، دکانیں، ریسٹورنٹ، سپر مارکیٹس، بار اور کسینو سمیت تمام چیزیں بند ہیں اور روزانہ کی بنیاد پر کام کرنے والوں کو بہت نقصان پہنچا ہے جبکہ حکومت ان کے لیے پہلے ہی امداد کا اعلان کرچکی ہے۔

فرانس کی وزیر خزانہ برونو لی میئر کا کہنا ہے کہ یہ وبا تمام ممالک کے لیے تباہی ہے اور اس کے خطرناک اثرات دیرپا رہیں گے۔ فرانس میں اب تک وائرس سے 148 افراد ہلاک جبکہ ساڑھے 6 ہزار سے زائد متاثر ہو چکے ہیں۔

ترکی

ترکی نے 9 یورپی ممالک میں پھنسے اپنے ساڑھے 3 ہزار سے زائد شہریوں کو واپس بلانا شروع کردیا ہے جنہیں 14دن قرنطینہ میں رکھا جائے گا اور وائرس کے سبب 20 مقامات کے لیے پروازیں بند کردی ہیں۔

بھارت

بھارت نے یورپی یونین کے تمام ممالک سے آنے والی فلائٹس پر پابندی لگا دی ہے جبکہ متحدہ عرب امارات، کویت، عمان اور قطر سے آنے والوں کو 14دن قرنطینہ میں رہنا ہو گا۔

بھارت نے پڑوسی ممالک پاکستان، بنگلہ دیش اور میانمار سے سرحدیں بند کردی ہیں جبکہ ملک بھر میں اسکول اور تفریحی سرگرمیوں کی بندش کے ساتھ ساتھ تاج محل سمیت تمام اہم تاریخی اور تفریحی مقامات پر بھی پابندی عائد کردی گئی ہے۔

 

 

Share on Pinterest
Share with your friends










Submit
Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close