دنیا

ٹرمپ کے پہلے ایگزیکٹو دستخط سے تبدیلی کا اشارہ

ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی صدر کی حیثیت سے پہلا قدم اٹھاتے ہوئے سابق صدر کی جانب سے ہیلتھ کيئر کے سلسلے میں کی جانے والی اصلاحات کو ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کرکے نشانہ بنایا ہے۔

ان کے اعلان میں ایجنسیوں کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ اوباما کيئر نامی منصوبے پر آنے والے مالی بوجھ کو کم کریں۔

جمعے کے اپنے افتتاحی خطاب میں انھوں نے ‘امریکہ کو مقدم’ رکھنے اور وسیع پیمانے پر پھیلے جرائم اور بند فیکٹریوں کے نتیجے میں ‘امریکی تباہی کو ختم’ کرنے کا عہد کیا۔

منتظمین کا کہنا ہے کہ وہ نسلی اور جنسی مساوات اور دیگر چیزوں کی نشاندہی کرنا چاہتے ہیں جن کے بارے میں خیال ظاہر کیا جاتا ہے کہ ٹرمپ کی انتظامیہ کی جانب سے انھیں خطرہ لاحق ہے۔

ٹرمپ نے عہد کیا ہے کہ وہ ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے جو کچھ کرسکتے ہیں وہ جلد از جلد کریں تاکہ وہ شروع میں ہی سبقت حاصل کرلیں نہیں تو پھر انھیں

کسی بل کو منظور کروانے کے لیے کانگریس کے سخت مرحلے سے گزرنا پڑے گا۔

اس سے پہلے ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی صدر کے عہدے کا حلف اٹھانے کے بعد اعلان کیا ’آج کے بعد سے ہر فیصلہ امریکی مفاد میں کیا جائے گا۔‘

انھوں نے کہا کہ آج ہم ایک نیا اعلان کر رہے ہیں جو دنیا کے ہر دارالحکومت میں سنا جائے گا۔ آج کے بعد سے صرف امریکہ پہلے، صرف امریکہ پہلے کی پالیسی چلے گی۔ تجارت، ٹیکس، امیگریشن اور خارجہ امور کے بارے میں ہر فیصلہ امریکی ملازمین اور امریکی خاندانوں کے مفاد میں کیا جائے گا۔’

انھوں نے اپنی تقریر کے دوران امریکہ کی تاریک اور شکستہ تصویر پیش کی اور متروک کارخانوں، جرائم اور ناکام تعلیمی نظام جیسے مسائل کی نشان دہی کرتے ہوئے عہد کیا کہ ان کے دورِ صدارت میں تبدیلی لائی جائے گی۔

انھوں نے کیپیٹل کی سیڑھیوں پر تقریر کرتے ہوئے کہا: ‘یہ امریکی تباہی یہیں اور اب سے ختم ہوتی ہے۔’

ملک بھر سے ہزاروں لوگ ان کی تقریبِ حلف برداری دیکھنے کے لیے واشنگٹن ڈی سی آئے ہوئے تھے۔

انھوں نے کہا ’ہم نے کھربوں ڈالر بیرونِ ملک خرچ کر دیے اور امریکہ بنیادی ڈھانچہ شکست و ریخت کا شکار ہوتا رہا۔ ہم نے دوسرے ممالک کو امیر بنا دیا اور ہمارے اپنے ملک کی دولت، طاقت اور اعتماد ختم ہوتا چلا گیا۔‘

پریس سیکریٹری شان سپائسر کے مطابق صدر بننے کے بعد ٹرمپ نے اپنی کابینہ کے ارکان کے نام سینیٹ کو بھجوا دیے اور ایک اعلامیے پر دستخط کیے جس کے تحت قومی حب الوطنی کا دن منایا جائے گا۔

اس کے علاوہ انھوں نے ریٹائرڈ جنرل جیمز میٹس کے لیے ایک چھوٹ پر دستخط کیے جس کے تحت وہ وزیرِ دفاع بن سکیں گے۔

ٹرمپ نے کہا ’ہم مہذب دنیا کو انتہا پسند اسلام کے خلاف متحد کریں گے اور اسے صفحۂ ہستی سے مٹا دیں گے۔‘

اپنی تقریر میں ٹرمپ نے وعدہ کیا کہ وہ ‘فراموش شدہ لوگوں’ کی آواز بنیں گے جنھیں واشنگٹن کے سیاست دان نظر انداز کرتے چلے آئے ہیں۔

انھوں نے کہا: ‘آج وہ دن ہے جب لوگ اس ملک کے حکمران بن گئے ہیں۔ میں آخری سانس تک آپ سے مل کر لڑتا رہوں گا اور آپ کا ساتھ کبھی نہیں چھوڑوں گا۔‘

’امریکہ ایک بار پھر پہلے کی طرح جیتنا شروع کر دے گا، اور پہلے سے کہیں زیادہ جیتے گا۔‘

‘ہم اپنی نوکریاں واپس لائیں گے، ہم اپنی سرحدیں واپس لائیں گے، ہم اپنی دولت اور خواب واپس لے کر آئیں گے۔’

انتظامیہ کی یہ تبدیلی صدارتی ویب سائٹوں میں بھی نظر آئی جن سے اوباما کی پالیسیاں ہٹا کر ٹرمپ کا ایجنڈا پوسٹ کر دیا گیا۔

تاہم بعض ناقدین نے اعتراض کیا ہے کہ ٹرمپ نے اس ایجنڈے میں شہری حقوق، ہم جنس پرستوں کے حقوق، صحت یا ماحولیاتی تبدیلی کا ذکر نہیں کیا۔

اس دوران میٹروپولیٹن پولیس کے مطابق انھوں نے ایک سو کے قریب مظاہرین کو گرفتار کیا ہے جو ٹرمپ کی تقریبِ حلف برداری کے خلاف احتجاج کر رہے تھے۔

ترجمان لیفٹیننٹ شان کانبوئے نے کہا کہ اکثریت کو ‘املاک کو نقصان پہنچانے’ کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔

اس سے قبل ڈیڑھ سو کے قریب سیاہ پوش مظاہرین نے واشنگٹن بھر میں مارچ کرتے ہوئے کھڑکیوں کے شیشے توڑے اور کوڑے دان گلیوں میں لڑھکا کر راستے بند کرنے کی کوشش کی۔

ہفتے کو خواتین کے ایک مظاہرے میں دو لاکھ افراد کی شرکت کی توقع ہے۔

اس دوران نیویارک میں بھی مظاہرے ہوئے جن میں درجنوں مشاہیر سمیت ہزاروں لوگوں نے شرکت کی۔ انھوں نے ٹرمپ کی صدارت کے بارے میں اپنی تشویش کا اظہار کیا۔

اسی طرح کی ریلیاں آسٹریلیا اور نیوزی لینڈ میں منعقد کی جا رہی ہیں جبکہ دنیا کے کئی دوسرے ممالک میں اس طرح کی ریلیوں کا منصوبہ ہے۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close