More share buttons
Share with your friends










Submit
دنیا

ترجمان پینٹاگون نے کہا کہ امریکہ افغان فورسز کی بے شمار طریقوں سے مدد کر رہا ہے

Share on Pinterest
Share with your friends










Submit

واشنگٹن: پینٹاگون نے کہا ہےکہ پاک افغان سرحد سے ملحقہ دہشت گردوں کی مبینہ محفوظ پناہ گاہیں افغانستان میں عدم استحکام پیدا کررہی ہیں اور امریکا ان ٹھکانوں کو ’بند کرنے‘ کے لیے پاکستانی قیادت سے بات چیت کررہا ہے

پریس بریفنگ کے دوران رپورٹرز سے گفتگو کرتے ہویے پینٹاگون کے پریس سیکریٹری جان ایف کربی نے کہا کہ ’ ہم سب کو ان محفوظ ٹھکانوں کو بند کرنے اور انہیں طالبان یا دیگر دہشت گرد نیٹ ورکوں کے ذریعے شورش پیدا کرنے کے لیے استعمال نہ ہونے دینے کی اہمیت کا مشترکہ احساس ہے‘۔
ہمارے ذہن میں یہ بات بھی ہے کہ پاکستان اور پاکستانی عوام اس علاقے سے نکلنے والی دہشت گردی کی سرگرمیوں کا شکار بنتے ہیں۔

انہوں نے اس بات کو اجاگر کیا کہ امریکا افغان فورسز کی بے شمار طریقوں سے مدد کر رہا ہے، ’افغانوں کے پاس گنجائش ہے، قابلیت ہے، ایک باصلاحیت ایئرفورس ہے‘۔

اس پر ترجمان پینٹاگون سے کہا گیا کہ وہ افغان ایئرفورس کے مسلح ہونے سے متعلق اپنے بیان کا ثبوت دیں کیوں کہ افغانستان کے 6 صوبائی دارالحکومت طالبان کے ہاتھوں شکست کھا چکے ہیں۔

یہ بھی پڑ ھیں :کولیشن سپورٹ فنڈ کی معطلی پاکستان سے سیکیورٹی تعاون منسوخی کا حصہ ہے: پینٹاگون

اس پر جان ایف کربی نے کہا کہ ’میرے پاس اس بات کا ثبوت ہے کہ ان کے پاس 3 لاکھ سے زائد سپاہیوں اور پولیس کی طاقت ہے، وہ ایک جدید ایئرفورس ہے جس کے بعد جدید ہتھیار ہیں جبکہ ان کا ایک تنظیمی ڈھانچہ بھی ہے۔

ان کے پاس ایسے بہت سے فوائد ہیں جو طالبان کے پاس نہیں ہیں، طالبان کے پاس ایئرفورس نہیں ہے ان کے پاس ایئر اسپیس نہیں ہے۔

افغانستان میں بھارت کے کردار سے متعلق ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ بھارت نے ماضی میں ’تربیت اور انفرا اسٹرکچر کی بہتری‘ کی صورت میں افغانستان میں ایک ’تعمیری کردار‘ ادا کیا تھا۔

افغانستان میں پاکستان اور بھارت کے ممکنہ کردار کے بارے میں ترجمان پینٹاگون کا کہنا تھا کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ تمام ہمسایہ ممالک ایسی کارروائیاں نہ کریں جو افغانستان کی صورتحال کو مزید خطرناک بنادے‘۔
افغان سرزمین کے پڑوسی ممالک پر زور دیا کہ اس جنگ کے پُر امن سیاسی تصفیے کے لیے بین الاقوامی دباؤ استعمال کرتے رہیں۔

Share on Pinterest
Share with your friends










Submit
Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close