More share buttons
Share with your friends










Submit
دنیا

کسانوں کو ’خالصتانی ایجنٹ‘ اور سکھوں کو نشانہ بنانے والا جعلی اکاؤنٹس کا نیٹ ورک بے نقاب

Share on Pinterest
Share with your friends










Submit

انڈیا: اس نیٹ ورک کے 80 اکاؤنٹس کی نشان دہی کی گئی ہے سوشل میڈیا پر ان پروفائلز کو جعلی ہونے کی بنا پر اب معطل کر دیا گیا ہے

اس نیٹ ورک میں ٹوئٹر، فیس بک اور انسٹاگرام پر اکاؤنٹس کی مدد سے ہندو قوم پرست نظریات اور انڈین حکومت کی حمایت میں خیالات کو فروغ دیا جا رہا تھا۔

رپورٹ کے مصنف بنجمن سٹریک کا خیال ہے کہ بظاہر اس نیٹ ورک کا مقصد ’سکھوں کی آزادی، انسانی حقوق اور اقدار جیسے اہم مسائل پر رائے تبدیل کرنا تھا۔

اس بات کے کوئی شواہد نہیں کہ اس نیٹ ورک کا تعلق براہ راست انڈین حکومت سے ہے
یہ نیٹ ورک، جسے ’ساک پپٹ‘ کہا جاتا ہے، ان جعلی اکاؤنٹس پر مشتمل ہوتا ہے جنھیں اصل لوگ کنٹرول کر رہے ہوتے ہیں اور وہ خود کو انفرادی حیثیت میں کام کرنے والے آزاد افراد ظاہر کرتے ہیں، نہ کہ خودکار ’باٹس‘۔

رپورٹ کے مطابق جعلی اکاؤنٹس میں سکھوں کے نام استعمال کیے گئے اور دعویٰ کیا گیا کہ وہ ’اصل سکھ‘ ہیں۔ وہ مختلف سیاسی نظریات کے فروغ یا انھیں ناقابل اعتماد بنانے کے لیے ’ریئل سکھ‘ اور ’فیک سکھ‘ کے ہیش ٹیگز استعمال کرتے تھے۔

سینٹر فار انفارمیشن ریزیلئنس (سی آئی آر) نامی غیر منافع بخش تنظیم کی اس رپورٹ میں نیٹ ورک کے کئی اکاؤنٹس کی نشان دہی کی گئی جو متعدد سوشل میڈیا ویب سائٹس پر پائے گئے۔ ان اکاؤنٹس پر ایک جیسے نام، تصاویر (پروفائل اور کوور فوٹوز) اور پوسٹیں شائع کی جا رہی تھیں۔

کئی اکاؤنٹس پر معروف شخصیات کی پروفائل فوٹو لگائی گئی، جیسے پنجابی فلم انڈسٹری کی اداکاراؤں کی۔

اب ایسا نہیں کہ کسی معروف شخص کی تصویر لگانے سے ان اکاؤنٹس کو جعلی قرار دیا جا رہا ہے۔ دراصل رپورٹ کا کہنا ہے کہ اس کے علاوہ مربوط پیغام رسائی، مذکورہ ہیش ٹیگز کا بے دریغ استعمال، اکاؤنٹ بائیو میں ایک جیسی معلومات اور یکساں لوگوں کو فالو کرنا، ان تمام شواہد سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ اکاؤنٹ اصل نہیں۔

آٹھ معروف شخصیات سے دریافت کیا کہ آیا ان کی تصاویر کو ان کی مرضی کے ساتھ استعمال کیا جا رہا ہے۔ ایک نے اپنی انتظامیہ کے ذریعے جواب دیا کہ انھیں اس بارے میں علم نہیں تھا کہ ان کی تصاویر اس طرح استعمال کی جا رہی ہے اور اب وہ اس کے خلاف کارروائی کریں گے۔

یہ بھی پڑ ھیں : سوشل میڈیا پر جعلی اکاؤنٹس بنا کر صارفین سے پیسے بٹورنے والوں سے ہوشیار

ایک دوسرے معروف شخص کی اتظامیہ نے بتایا کہ ان کے کلائنٹ کے ساتھ ہزاروں جعلی اکاؤنٹس کو جوڑا جاتا ہے اور وہ اس بارے میں کچھ نہیں کر سکتے۔

گذشتہ جمعہ کو انڈین وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک سال تک کسانوں کی جانب سے احتجاجی مظاہروں کے بعد زرعی اصلاحات کے تین متنازع قوانین کو ختم کر دیا تھا۔

جعلی اکاؤنٹس کا نیٹ ورک سکھ کسانوں کے احتجاج اور آزادی کی دہائیوں پرانی خالصتان تحریک پر سب سے زیادہ بحث کرتا تھا۔ رپورٹ کے مطابق یہ اکاؤنٹس سکھوں کی آزادی کے کسی بھی خیال کو ’انتہا پسندی‘ قرار دیتے تھے، کسانوں کے مظاہروں کو ’غیر قانونی‘ کہتے تھے جبکہ ان کا دعویٰ تھا کہ احتجاج کرنے والے کسانوں کو ’خالصتانی دہشتگردوں نے ہائی جیک کر لیا ہے۔‘

لیکن اس سے قبل، انڈین حکومت نے بھی دعویٰ کیا تھا کہ کسانوں کے احتجاج میں ’خالصتانی گھس گئے ہیں۔‘

زرعی قوانین کے خلاف احتجاج کرنے والے کسانوں کا خیال ہے کہ ان اقدامات کے پیچھے سیاسی مقاصد ہو سکتے ہیں۔

مظاہروں میں شامل 30 یونینز میں سے ایک بھارتیہ کسان یونین کے رہنما جگجیت سنگھ دلیوال کا کہنا ہے کہ ’ہم سمجھتے ہیں کہ یہ اکاؤنٹ حکومت کے کہنے پر بنائے گئے اور اس کا مقصد مظاہروں کے خلاف ایک نظریہ تشکیل دینا تھا۔‘

بعض اکاؤنٹس نے اپنی پوسٹوں میں دعویٰ کیا کہ برطانیہ اور کینیڈا میں مقیم سکھ برادری خالصتان تحریک کی حمایت کر رہی ہے۔

ان اکاؤنٹس کے ہزاروں فالوورز تھے اور ان کی پوسٹوں کو اصل انفلوئنسرز نے لائیک اور ری ٹویٹ کر رکھا تھا۔ یہ پوسٹیں خبروں کی ویب سائٹس تک میں شائع ہو چکی تھیں۔

اثر و رسوخ کے اکثر آپریشن جعلی اکاؤنٹس کی مدد سے اصل لوگوں سے رابطے قائم کرنے میں ناکام ہو جاتے ہیں۔

مگر اس نیٹ ورک کے کیس میں پتا چلا کہ سوشل میڈیا پر کچھ معروف شخصیات کے تصدیق شدہ اکاؤنٹس نے بھی ان جعلی اکاؤنٹ کی پوسٹوں کی حمایت کی تھی۔ اور انھیں فروغ دیا تھا۔

ٹوئٹر اور میٹا (فیس بک اور انسٹاگرام کی مالک کمپنی) سے شیئر کی ہے اور ان کا جواب حاصل کیا ہے۔

ٹوئٹر نے ان اکاؤنٹس کو جعلی ہونے کی بنیاد پر معطل کر دیا ہے۔ ٹوئٹر کے مطابق ان اکاؤنٹس نے پلیٹ فارم کے ان قوانین کو توڑا جس میں غیر منصفانہ اثر و رسوخ قائم کرنے کی کوششوں کو منع کیا گیا ہے۔

ٹوئٹر کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ’اس وقت وسیع روابط، ایک فرد کی جانب سے متعدد اکاؤنٹس کا استعمال، یا اثر و رسوخ قائم کرنے کے دیگر حربوں کے شواہد نہیں ملے۔‘

میٹا نے بھی ان اکاؤنٹس کو فیس بک اور انسٹاگرام سے ہٹا دیا ہے کیونکہ انھوں نے ’مستند رویے کی پالیسی کی خلاف ورزی کی۔‘

میٹا کے ترجمان کا کہنا ہے کہ ان جعلی اکاؤنٹس نے اپنے مواد کی اصلیت اور مقبولیت کے حوالے سے لوگوں کو گمراہ کیا۔ ’جعلی اکاؤنٹس کے ذریعے لوگوں کو غیر مناسب پیغامات بھیجے گئے اور ہمارے نفاذ سے بچنے کی کوشش کی گئی۔

Share on Pinterest
Share with your friends










Submit
Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close