More share buttons
Share with your friends










Submit
دنیا

الہان عمر کے اس بل کا نام ‘بین الاقوامی اسلاموفوبیا کا مقابلہ’ ہے

Share on Pinterest
Share with your friends










Submit

امریکا: امریکی عوام کا پیسہ اُن دہشت گرد تنظیموں کو نہیں جانا چاہیے جن سے اس بل کے معمار منسلک ہیں

14 دسمبر کو جس وقت الہان عمر کے اسلامو فوبیا کے خلاف پیش کیے گئے ایک بل پر بحث ہو رہی تھی تو رپبلکن پارٹی کے رکنِ کانگریس سکاٹ پیری نے غلط طور پر یہ دعویٰ کیا کہ الہان عمر کا تعلق ایک دہشت گرد تنظیم سے ہے۔

سکاٹ پیری نے اس بل پر بحث کرتے ہوئے کہا کہ امریکی عوام کا پیسہ اُن دہشت گرد تنظیموں کو نہیں جانا چاہیے جن سے اس بل کے معمار منسلک ہیں۔

بعد میں کانگریس نے الہان عمر کا پیش کردہ یہ بل منظور کر لیا جس کے حق میں تمام ڈیموکریٹس اور مخالفت میں تمام رپبلکنز نے ووٹ دیا اور سکاٹ پیری کے الفاظ کو ایوان کی کارروائی سے حذف کر دیا گیا۔

الہان عمر کے اس بل کا نام ‘بین الاقوامی اسلاموفوبیا کا مقابلہ’ ہے جس کا مقصد ہے کہ امریکی محکمہ خارجہ کے تحت ایک خصوصی نمائندے کا تعین کیا جائے جو دنیا بھر میں اسلاموفوبیا کے واقعات کو رپورٹ کر کے امریکی محکمہ خارجہ کے علم میں لائے۔

اس نمائندے کی تعیناتی صدر کے ذریعے ہو گی اور واضح رہے کہ ایسا ہی ایک نمائندہ پہلے ہی امریکی محکمہ خارجہ میں موجود ہے جس کا کام عالمی سطح پر یہود مخالف واقعات کو رپورٹ کرنا ہے۔

ویسے تو یہ بل گذشتہ کئی مہینوں سے ایوانِ نمائندگان کی اُمورِ خارجہ کمیٹی میں موجود تھا مگر گذشتہ چند دنوں کے واقعات نے اس بل میں نئی روح پھونک دی ہے جس کے بعد اسے منظور کر لیا گیا ہے۔

نومبر کے اختتام میں رپبلکن نمائندہ لورین بوبرٹ کی ایک ویڈیو سامنے آئی تھی جس میں اُنھوں نے الہان عمر کو ‘جہاد سکواڈ’ کا حصہ کہتے ہوئے مبینہ طور پر دہشت گرد قرار دیا تھا۔

یہ بھی پڑ ھیں : مسلمان رکن کانگریس الہان عمر اس وقت شدید تنقید کی زد میں

 

اُن کا یہ کہنا تھا کہ وہ کانگریس کی ایک لفٹ میں الہان عمر کے قریب اس لیے محفوظ محسوس کر رہی تھیں کیونکہ مؤخر الذکر اپنا بیک پیک زمین پر رکھ کر کہیں بھاگ نہیں رہی تھیں۔ اس کے کچھ دن بعد رپبلکن نمائندہ مارجوری ٹیلر گرین نے الہان عمر کو ’جہادی‘ قرار دیا۔

بعدازاں الہان عمر نے ٹوئٹر پر کہا کہ ایوانِ نمائندگان میں اس بل کی منظوری دنیا بھر میں مسلمانوں کے لیے ایک بہت بڑا سنگِ میل ہے اور ایک مضبوط اشارہ ہے کہ اسلاموفوبیا کو کہیں بھی برداشت نہیں کیا جا سکتا۔

وائٹ ہاؤس نے بھی اس بل کی حمایت کی ہے اور کہا ہے کہ آزادی مذہب بنیادی انسانی حق ہے۔

چنانچہ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ڈیموکریٹ صدر جو بائیڈن اس بل کی حمایت کریں گے مگر اُن تک پہنچنے کے لیے ابھی بھی اس بل کو سینیٹ سے منظور ہونا ہو گا جہاں سو نشستوں میں سے 50 رپبلکنز کے پاس، 48 ڈیموکریٹس کے پاس اور دو نشستیں آزاد اُمیدواروں کے پاس ہیں۔

اگر منگل کے روز امریکی ایوانِ نمائندگان میں ہونے والی ووٹنگ کو مدِنظر رکھا جائے تو ڈیموکریٹس کے لیے اس بل کو سینیٹ سے منظور کروانا تب تک ممکن نہیں ہوگا جب تک کہ اُنھیں رپبلکن جماعت میں سے کچھ حد تک حمایت حاصل نہ ہو۔

روئٹرز کے مطابق الہان عمر نے کہا کہ ’ہم مسلم مخالف تشدد میں بے انتہا اضافے میں گھرے ہوئے ہیں۔

اسلاموفوبیا اپنی نوعیت میں عالمی ہے اور ہمیں اس کے خلاف عالمی کوششیں کرنی ہوں گی۔‘

الہان عمر کا تعلق صومالیہ سے ہے اور اُنھیں فلسطینی ریاست کے قیام اور فلسطینی عوام کے حق میں بات کرنے پر دائیں بازو کے سیاست دانوں اور مبصرین کی جانب سے تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

Share on Pinterest
Share with your friends










Submit
Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close