بلاگ

مردم شماری 2017ء پر کیا ہیں خدشات اور کیا ہونگے اثرات؟

پاکستان ایک ایسا ترقی پذیر ملک ہے، جہاں بسنے والے افراد کی اکثریت اپنی شناخت بطور پاکستانی کے بجائے زبان، علاقائی نسبت اور برادری کی بنیاد پر کرنا پسند کرتی ہے، جس کے سبب ان کے درمیان بھروسے کا شدید فقدان ہے۔ اسلامی جمہوریہ پاکستان کا انتظامی، سیاسی، سماجی اور معاشی نظام مکمل طور پر مردم شماری کے تحت حاصل کئے گئے اعداد و شمار پر ہوتا ہے۔ لہٰذا ضرورت اس امر کی ہے کہ مردم شماری کے عمل کو انتہائی صاف و شفاف رکھا جائے، تاکہ کسی طبقے کی جانب سے یہ متنازعہ قرار نہ دیا جاسکے۔ مردم شماری 2017ء کی جانب سفر عدالت عظمٰی کی کاوشوں کا نتیجہ ہے، جس کے سبب مردم شماری کی مشق میں حکومتی عدم توجہی سے خدشات جنم لے رہے ہیں، جس سے پاکستان کے مستقبل میں بُرے اثرات کا اندیشہ غالب نظر آرہا ہے۔

1۔ مردم شماری اور پاکستان
سیاسی عناصر کی ایک کثیر تعداد کا گمان یہ ہے کہ پاکستان میں مردم شماری کے اعداد و شمار کا احاطہ مردم شماری کے لفظی ترجمہ تک محدود ہے، جسکے معنیٰ لوگوں کا شمار کرنا یا گنا بنتا ہے۔ لہذا ان عناصر کی جانب سے اس بات کا عندیہ دیا جاتا ہے کہ نادرا کی ڈیٹابیس میں موجود لوگوں کی تعداد کو بطور آبادی تسلیم کر لیا جائے۔ پاکستان میں مردم شماری کا جائزہ لیا جائے تو 1951ء سے لے کر 1998ء تک دنیا بھر میں رائج نظام کی طرح ڈیٹا کے حصول کو یقینی بنایا گیا، جس میں نہ صرف آبادی، جنس، دیہی/شہری آبادی کی تعداد بتائی گئی، بلکہ ہر گھرانے میں موجود افراد کی عمریں، خواندگی، صحت عامہ، گھر، پیشہ، نقل مکانی، روزگار، معذوری، بے گھر افراد، گھروں کی تعداد، کمروں کی تعداد، سہولتوں کی فراہمی وغیرہ کے اعداد و شمار بھی مرتب کئے گئے، مگر افسوس ہمارے ان سیاسی عناصر کو مردم شماری کے ڈیٹا کو دیکھنے کی توفیق نہیں ملتی، کیوںکہ اس ڈیٹا سے لوگوں کی معیار زندگی کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ جس کے اثرات طرز حکمرانی پر مرتب ہوتے ہیں، جس سے ان سیاسی عناصر کی پول پٹی خود ان کے سامنے عیاں ہو جائیں۔ ان حضرات کی توجہ صرف آبادی کی گنتی پر مرکوز ہے، کیوںکہ اس کی بنیاد پر قومی/صوبائی/بلدیاتی انتخابات کے لئے حلقہ بندی کی جاتی ہے۔ بجٹ مختص کئے جاتے ہیں، جس سے ان کے خوراک کی تقسیم میں آسانی ہوتی ہے۔ جنرل ضیاء الحق کے مارشل لاء کے بعد قومی و صوبائی اسمبلیوں کے ارکان کے لئے ترقیاتی فنڈ تفویض کرنے کا سلسلہ شروع کیا گیا، جس کے سبب مردم شماری کی اہمیت سیاسی حلقوں میں زیادہ پُر اثر ہوگئی اور ان کا اثر و رسوخ سرکاری افسران پر بڑھ گیا، جس کی وجہ سے مردم شماری کا عمل شکوک و شبہات کا شکار ہونے لگا، جس کا واضح ثبوت 1991ء کی مردم شماری کا مرحلہ تھا، جس میں شدید بے قاعدگیوں کی نشان دہی کی گئی۔

اس کے بعد دوبارہ سے 1994ء میں مردم شماری کے ایک اور مرحلے کا آغاز ہوا اور یہ بھی تنازعات کا شکار رہا، جس کے سبب مردم شماری کے اس مرحلے میں حاصل ہونے والے اعداد و شمار کو منسوخ کیا گیا اور مردم شماری تاخیر کا شکار ہوئی۔ 1998ء میں دوبارہ مردم شماری کی نئی تاریخ دی گئی، جس کا دورانیہ 2 سے 18 مارچ تک تھا۔ 1991ء اور 1994ء کی صورت حال کو پیش نظر رکھتے ہوئے پاک فوج کو شمار کنندگان کی حفاظت کی ذمہ داری دی گئی، تاکہ کوئی شخص ان پر اثر انداز نہ ہوسکے۔ اس طرح پاکستان کی پانچویں مردم شماری تکمیل تک پہنچی۔ 1951ء سے لے کر 1981ء تک کی مردم شماری کراتے وقت فوج کو کبھی اس عمل کا حصہ نہیں بنایا گیا۔ حالاںکہ اس زمانے میں مالی وسائل سے لے کر افرادی وسائل تک محدود تھے۔ پاکستان کی چھٹی مردم شماری 2008ء میں طے تھی مگر حکومتی عدم توجہی کی سبب اس کے انعقاد کا اعلان اپریل 2011ء میں کیا گیا اور پہلے مرحلے کی تکمیل بھی ہوئی، مگر سیاسی عناصر کے حد درجہ اثرانداز ہونے پر اس کے نتائج کا حشر بھی 1991ء اور 1994ء کی مردم شماری جیسا ہوا، جس کے نتیجے میں اس کے دوسرے مرحلے کا انعقاد نہ ہونے کے سبب پہلا مرحلہ مردم شماری کے قوانین کے پس منظر میں بے اثر ہوگیا، یعنی Expired ہوگیا۔ اس طرح قوم کے کم و بیش چار ارب روپے گم نامی اکاؤنٹس کی نظر ہوگئے۔ سپریم کورٹ کی مداخلت کے بعد اس کی نئی تاریخ کا مارچ 2017ء مقرر کی گئی ہے۔

٭ سیاسی مردم شماری 2017ء
قوموں کی سب سے بڑی پہچان ان کا صبر ہوتا ہے اور اس کی پرورش انصاف پر مبنی نظام کرتا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں صبر کی کمی نے معاشرے کی اکثریت کو بے لگام کر دیا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ قوم کے سیاسی نمائندے عام لوگوں سے بھی دو ہاتھ آگے نکل جاتے ہیں۔ اس سلسلے میں چند حضرات کے بیانات پیش خدمت ہیں۔ عمران خان نے اپنے ایک اسلام آباد کے خطاب میں بروز ہفتہ 28 جنوری 2017ء کو فرمایا کہ پاکستان کی 20 سال کے آس پاس کی آبادی مجموعی آبادی کے 60 فی صد ہے۔ میئر کراچی وسیم اختر کراچی کی آبادی تین کروڑ سے زائد بتاتے ہیں۔ احسن اقبال نے پاکستان چین JCC میٹنگز کے موقع پر پاکستان کی آبادی تئیس کروڑ بتائی۔ اس طرح شاہی سید نے ANP کے کنونشن بہ مقام الآصف اسکوائر میں انکشاف کیا کہ کراچی میں سب سے زیادہ آبادی پختونوں کی ہے۔ اس ضمن میں میری بااثر افراد سے گزارش ہوتی ہے کہ اس طرح کے حساس معاملات پر گفتگو سے احتیاط برتیں اور ہمیشہ مردم شماری کی ویب سائٹس پر دی گئی آبادی کو موضوع گفتگو بنائیں، تاکہ بحیثیت قوم ہم ایک صفحے پر آسکیں۔

٭ مردم شماری 2011ء کے پہلے مرحلے کے نتائج اور نادرا
پاکستان پیپلز پارٹی کے دور اقتدار میں چھٹی مردم شماری کی منظوری کے بعد شماریات ڈویژن کے ماتحت ادارے پاپولیشن سینس آرگنائزیشن کے تحت چیف سینس کمشنر خضر حیات کی زیر سربراہی مردم شماری کے پہلے مرحلے میں خانہ شماری کا آغاز اپریل 2011ء میں کیا گیا۔ موجودہ چیف شماریات آصف باجوہ بطور سیکرٹری شماریات ڈویژن فرائض انجام دے رہے تھے۔ اس دوران ملک میں دہشت گردی اپنے عروج پر تھی، جس سے سب سے زیادہ متاثرہ صوبہ خیبر پختونخواہ، FATA، صوبہ بلوچستان اور سندھ کے علاقے تھے، جبکہ صوبہ پنجاب بھی کسی حد تک متاثر تھا۔ پاک فوج سرحدوں سے زیادہ اندرون ملک دہشت گردوں کے ساتھ جنگ میں مصروف تھی۔ اس دہشت زدہ ماحول میں کی گئی خانہ شماری کا نتیجہ مرتب کیا گیا تو اس کے ضمنی نتائج کچھ اس طرح سے سامنے آئے کہ پاکستان کی کل آبادی انیس کروڑ تہتر لاکھ کے قریب بنی، جو کہ 1998ء کی مردم شماری کے مقابلے میں 46.5 فی صد زیادہ تھی، جس کی سالانہ شرح نمو 2.99 فی صد رہی جبکہ 1981-1998 کے دوران 2.69 فی صد سے آبادی میں سالانہ اضافہ مشاہدہ کیا گیا تھا۔

اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ خیبر پختونخوا، فاٹا اور بلوچستان دہشت گردی کے کے زیراثر تھے، مگر ان کی آبادی تیزی سے بڑھ رہی تھی اور اسے صحیح تسلیم کر لیا جائے تو سندھ کی آبادی میں اضافے کی بنیادی وجہ شورش زدہ علاقوں سے لوگوں کا سندھ کی جانب نقل مکانی کرنا ہے، یعنی خیبر پختونخوا، فاٹا اور بلوچستان کی آبادی میں کے اعداد و شمار میں سقم ہے یا سندھ کے ڈیٹا میں۔ اس ڈیٹا کو عوام الناس میں لانے کا مقصد کچھ عناصر کی جانب سے اس ڈیٹا کو قابل بحث بنا کر عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ 2011ء کی خانہ شماری کے دوران ایک لاکھ چھیالیس ہزار سے زائد بلاکوں اور ان کے متعلقہ سرکل اور چارج کی حد بندی کا کام مکمل کیا گیا تھا۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے عام انتخابات 2013ء کے لئے ان بلاکوں کی تعداد کو باضابطہ نوٹیفائیڈ کرایا۔ اس کے بعد سپریم کورٹ کے احکامات کے تحت اپنے فیلڈ سروے کے ذریعے ان بلاکوں میں قومی شناختی کارڈ رکھنے والے لوگوں کی نادار کے ڈیٹا بیس سے تصدیق کرائی گئی۔ الیکشن کمیشن آف پاکستان کے اس طریقہ کار کو تقریباً تمام سیاسی جماعتوں سے پذیرائی ملی۔ اب کوئی بھی پاکستانی جس کی عمر اٹھارہ سال سے زائد ہے، ایک SMS کے ذریعے اپنے انتخابی حلقے کی معلومات بمعہ مردم شماری بلاک کوڈ کو ECP سے حاصل کرسکتا ہے۔ اب الیکشن کمیشن کو ووٹ کے اندراج کے لئے درخواست دینے کی ضرورت نہیں۔ اس عمل سے مردم شماری کے اٹھارہ سال سے زائد آبادی کا موازنہ کافی حد تک نادرا کے تحت بنائے گئے ووٹر لسٹوں سے کیا جاسکتا ہے۔

٭ مردم شماری 2017ء، کس کی خوشی کس کا غم
وحدت پاکستان کو جانچنے کا آسان ترین آلہ یہ ہے کہ کسی حساس قومی نوعیت کے معاملے پر قوم کے ٹھیکے داروں کے صبر کے بجائے بے چینی کے پیمانے کو دیکھ لیں۔ مردم شماری کی تاریخ کا جیسے ہی اعلان کیا گیا اور پلان مکمل ہونے کے قریب جانے لگا تو عدالتوں میں کیسز کا اندراج ہونے لگا کہ کوئی گروپ اپنی برادری کا اندراج کرانا چاہتا ہے تو کسی کو خیال آیا کہ اس کی جنس کا اندراج نہیں۔ ان سب باتوں کے علاوہ سب سے اہم بات وزیراعلٰی سندھ مراد علی شاہ کا شماریات کے چیف کو 17 جنوری 2017ء کو اپنی کابینہ کا سامنے بلانا اور یہ انکشاف کرنا ہے کہ مردم شماری میں شناختی کارڈ کی شرط سے سندھ میں مسائل جنم لے سکتے ہیں، کیوںکہ ان کے مطابق سندھ میں لوگوں کی کثیر تعداد شناختی کارڈ سے محروم ہے۔ اس موقع پر نادرا کی جانب سے کابینہ کو بتایا گیا کہ سندھ میں اس وقت 22.4 ملین لوگوں کو شناختی کارڈ کا اجراء ہوچکا ہے، جب کہ 3.3 ملین لوگ اٹھارہ سال سے کم ہیں، (اس بات میں ابہام ہے کہ نادرا کے نمائندے کی اس بات سے مراد کیا یہ لیا جائے کہ یہ 3.3 ملین لوگ وہ ہیں، جن کی عمر اٹھارہ سال سے کم ہے اور عنقریب اٹھارہ سال کو پہنچنے والے ہیں یا 0 سے 17.11 سال کے ہیں)۔ مزید برآں نادرا کے ڈیٹا کو الیکشن کمیشن کی ویب پر دیکھا جائے تو 5 دسمبر 2016ء تک اٹھارہ سال سے زائد عمر کے افراد کی تعداد 20.65 ملین کے قریب ہے۔ گویا وزیراعلٰی اور ان کی کابینہ کے سامنے دیئے گئے ڈیٹا میں 1.75 ملین کا فرق ہے۔ یعنی نادرا نے سندھ بھر میں 5 دسمبر 2016ء سے 16 جنوری 2017ء تک کم و بیش 1750000 لوگوں کو شناختی کارڈ جاری کیا۔ (اس ضمن میں مجاز حکام الیکشن کمیشن اور نادرا سے التماس ہے کہ صرف سندھ میں یہ فرق کیوں پایا گیا ہے؟ اور اسے درستی کی طرف لے جائیں)

نادرا کے نمائندے نے اس سوال کے جواب میں کہ اندرون سندھ کے کچھ علاقوں کی آبادی شناختی کارڈ سے محروم ہے، کو شناختی کارڈ کے اجراء کے لئے نادرا کی 60 موبائل سروس موجود ہے۔ حالاںکہ شہری علاقے کے لوگوں کی کثیر تعداد بھی شناختی کے کارڈ کے حصول میں کوشاں ہے اور نادرا کی جانب سے انتہائی ذلت آمیز رویہ کا سامنا بھی کرتی ہے۔ یہاں یہ امر باعث حیرت ہے کہ اتنے حساس مسئلے کی نشان دہی پر وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے کسی قسم کا ردعمل ظاہر نہیں کیا، حالاںکہ یہ ان کے ماتحت ادارے نادرا کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ ان کا فرض ہے کہ قوم کو سندھ میں شناختی کارڈ کے حوالے سے صحیح صورت حال سے آگاہ کریں، تاکہ مردم شماری کے نتائج کو آلودہ ہونے سے بچایا جاسکے۔ اب آتے ہیں مردم شماری 2017ء کے متوقع نتائج کی طرف جس پر مختلف حلقوں کی جانب سے یہ گمان کیا جا رہا ہے کہ اس مردم شماری سے پاکستان کے سیاسی انتظامی ساخت کے معاملات میں بہت بڑی ڈرامائی تبدیلی آجائے گی۔ اس بات کا اندازہ لگانے کے لئے ہمیں مردم شماری 1998ء کا جائزہ لینا ہوگا۔ پانچویں مردم شماری 1998ء کی آبادی کا مطالعہ بہ لحاظ عمر کیا جائے تو اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ پاکستان میں اٹھارہ سال سے زائد آبادی کا تناسب اس کی کل آبادی کے 50.02 فی صد تھا یعنی 0 سے 17.99 عمروں کے آبادی 49.98 فی صد۔

پاکستان کے انتظامی یونٹوں (فاٹا، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان شامل نہیں) میں بھی یہ واضح نظر آرہا ہے کہ اٹھارہ سال سے زائد آبادی کا پچاس فی صد سے زیادہ آبادی والے یونٹوں میں اسلام آباد، سندھ اور پنجاب نمایاں ہیں، جبکہ بلوچستان اننچاس فی صد کے قریب ہے۔ اس کے علاوہ جدول 2 میں مردوں اور عورتوں کے درمیان تناسب کا فرق بھی واضح ہے۔ مزید برآں اس کا مطالعہ دیہی اور شہری آبادی کے تناظر میں کیا جائے تو دیہی علاقوں میں مردوں کا تناسب خواتین سے زیادہ ہے، جبکہ شہری آبادی میں یہ تناسب مزید اضافے کے ساتھ نمایاں ہے۔ نادرا کے تحت بنائی گئی انتخابی فہرستیں بہت حد تک پاکستان کی آبادی کو بہ لحاظ اٹھارہ سال کے افراد کی آبادی کے تناسب کے پس منظر میں بہتر تخمینے کی جانب اشارہ دیتی ہیں۔ مزید برآں اکیسویں صدی میں ڈیجیٹل انقلاب نے انسانی امور کے ہر شعبے کو شدید متاثر کیا اور دنیا میں بسنے والے عوام کے درمیان فاصلے کو مواصلاتی نظام کے ذریعے گھٹا کر رکھ دیا۔ اس عمل نے دنیا میں آبادی کے رجحان میں اضافے کی سوچ کو بہت حد تک متاثر کیا اور پاکستان ترقی پذیر ملکوں کی فہرست میں ان ملکوں کے ساتھ شامل ہوتا نظر آرہا ہے، جن کے یہاں شرح آبادی میں پچھلی شرح کے مقابلے میں کمی دیکھنے میں آرہی ہے۔ اٹھارہ سال سے زائد لوگوں کے تناسب سے پرکھا جائے تو آبادی کے اس گروپ میں میں اضافہ متوقع ہے۔

سپریم کورٹ آف پاکستان کے حکم 2013ء کے بعد الیکشن کمیشن نے اپنی انتخابی فہرستیں نادرا کی مدد سے تیار کرنے کا آغاز کیا۔ اس نظام کے تحت اٹھارہ سال سے زائد شخص خواہ وہ مرد ہو یا عورت کو جیسے ہی شناختی کا اجراء ہوتا ہے، نادرا کچھ مہینے کے وقفے سے الیکشن کمیشن آف پاکستان کو وہ فہرست فراہم کرتا ہے، جس کے بعد انتخابی عملہ اس ووٹ کو محکمہ مردم شماری کے تحت بنائے گئے بلاک میں شخصی تصدیق کے بعد درج کرتا ہے، جس کے نتیجے میں اٹھارہ سال سے زائد افراد کا ڈیٹا کم و بیش تین مہینوں کے فرق سے الیکشن کمیشن کی کاوشوں سے مائیکرو لیول تک دستیاب ہوتا ہے، لہٰذا مردم شماری 1998ء کے اٹھارہ سال کے تناسب کو مدنظر رکھا جائے تو پاکستان میں نادرا کے شہریت کا ڈیٹا کافی حد تک لوگوں کی تعداد کا تعین کرنے کے لئے قابل قبول ہے۔ پاکستان کے موجودہ امن و امان اور معاشی مسائل کی وجہ سے اٹھارہ سال کو پہنچنے والوں افراد کی پہلی ترجیح شناختی کارڈ کا حصول ہے۔ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں رقم کے حصول میں ATM کارڈ کی شرط کے بعد پاکستان کے غریب پس ماندہ علاقے میں رہنے والے افراد اپنی شناختی کارڈ کے حصول کو یقینی بناتے ہیں۔ اگر مردم شماری 1998ء کے بالغ آبادی کا تناسب کے پس منظر میں چھٹی مردم شماری کی آبادی کا اندازہ لگایا جائے تو متوقع آبادی جدول۔ 5 میں دکھائی گئی ہے۔ مردم شماری 2017ء کے مکمل ہونے کے بعد متوقع پاکستان کی آبادی میں بہ لحاظ صوبے کی آبادی میں اندرون اعشاریہ اضافہ یا کمی دیکھی جائے گی۔ لہٰذا ضروری ہے کہ پاکستان کے انتظامی یونٹس کی انتظامیہ اپنے ذہنوں کو آلودہ کئے بغیر مردم شماری کے کاموں کو ایمان داری کے ساتھ سرانجام دیں۔

پاکستان کے بڑے لسانی گروہوں کی آبادی کی تقسیم کو مشاہدے میں لایا جائے تو اس کی شرح نمو کے اعتبار سے اضافے یا کمی کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔ اگر پاکستان کی سطح پر اردو بولنے والوں کی تعداد کو دیکھا جائے تو 1981ء کے مقابلے 1998ء میں معمولی کمی دیکھی جاسکتی ہے۔ اسی طرح پنجابی زبان بولنے والوں کی آبادی میں سب سے زیادہ کمی یعنی 4 فی صد سے زائد نظر آرہی ہے جبکہ سندھی آبادی میں تقریباً 3 فی صد، پشتو آبادی میں 2 فی صد سے زائد آبادی کا اضافہ ہوا ہے۔ بلوچی بولنے والی آبادی میں کمی، سرائیکی آبادی میں اضافہ اور دوسری زبانوں کے گروپ میں بھی کمی مشاہدے میں لائی جاسکتی ہے۔ اب آتے ہیں مردم شماری کے التواء کی طرف۔ ہمارے ملک میں ارباب اقتدار سے وابستہ افراد کو یہ خوف لاحق رہتا ہے کہ جن غیر انسانی اصولوں کو آئین کا حصہ بنایا گیا ہے۔ کہیں اس میں کسی قسم کا رد و بدل نہ ہو جائے۔ ملازمتوں کی کوٹہ کی بنیاد پر تقسیم اور NFC کی آبادی کی بنیاد پر تقسیم سے یہ گروہ 1973ء سے فیضیاب ہو رہے ہیں۔ اس غیر منصفانہ عمل رکھنے والی سوچ چوںکہ ظلم کی مرتکب ہو رہی ہے۔ اس لئے ان کے دلوں میں آسائشیں چھن جانے کا خوف ہے۔ مردم شماری کے تحت حاصل کیا گیا ڈیٹا ملک میں آمدنی کی تقسیم، غربت کی شرح، لوگوں کو حاصل بنیادی سہولیات، نقل مکانی کی وجوہات، تعلیمی، طبی سہولیات گویا عوام الناس کی جملہ زندگی کی ضروریات کا احاطہ کرتا ہے، جس کی مدد سے ملک کے حاکموں کی پاکستانی عوام کے معیار زندگی کی بلندی کے لئے ترتیب دی گئی حکمت عملی کا تنقیدی و تعمیری جائزہ ملک کے عوام کے سامنے لایا جا سکتا ہے۔ شاید یہی وہ اسباب ہیں، جو ملک میں مردم شماری کے التواء کا باعث بنتے ہیں۔

ان خبروں پر انتہائی افسوس کا اظہار کیا جا سکتا ہے کہ مردم شماری کا انتہائی اہم جز معیار زندگی سے متعلق سوال نامہ کو موجودہ ہونے والی مردم شماری کا حصہ نہیں بنایا گیا، جس کی وجہ سے مردم شماری اپنا حقیقی اثر کھو بیٹھی ہے۔ وزیراعظم اور ان کی کابینہ کو اس حوالے سے سختی سے نوٹس لینا چاہیئے۔ المیہ یہ بھی ہے کہ حزب اختلاف کی پارٹیاں اگر یہ دعویٰ کرتی ہیں کہ موجودہ حکومت پاکستان کی ترقی کے عمل میں ناکام رہی ہے تو ان کے ثبوت بھی ضائع ہونے جا رہے ہیں۔ مردم شماری کو صرف گنتی تک محدود رکھنا قومی دولت کا ضیاع ہے، کیوںکہ یہ عمل انتہائی کم لاگت سے نادرا کے ڈیٹا کی مدد سے کیا جا سکتا ہے، جس میں 95 فی صد تک بہتر نتیجہ حاصل ہوسکتا ہے اور اس کی تقسیم مردم شماری کے 2011ء کے منظور شدہ بلاک جس کی مزید تصدیق انتخابی عملے نے خطیر رقم خرچ کرکے کی اور نادرا کا ڈیٹا انتخابی حلقہ بندیوں کے پس منظر میں کر دکھایا۔ اگر غور کیا جائے تو اس ڈیٹا کو اس حد تک ترتیب دے دیا گیا کہ اس کی مدد سے قومی مالیاتی کمیشن میں بھی صوبوں کے درمیان فنڈز کی تقسیم کا مرحلہ بھی بہ خوبی طے کیا جا سکتا ہے، مگر مقامی نظام حکومت میں مالیاتی تقسیم میں مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔

محکمہ شماریات کے منتظم اعلٰی پچھلے وقتوں میں مردم شماری کے حوالے سے اپنی بھرپور تیاریوں کا راگ الاپتے رہے، مگر جیسے ہی ذمے داری ملی اپنی نااہلی کی وجہ سے مکمل مردم شماری کے عمل سے راہ فرار اختیار کر رہے ہیں اور کوئی ان سے باز پرس کرنے والا نہیں۔ 2011ء میں ناکام مردم شماری سے کم و بیش صوبوں کے چار ارب روپے ضائع کروائے پھر 2015ء میں حکومت وقت سے مردم شماری کا شیڈول دکھا کر بھاری بھر کم بجٹ منظور کروا لیا اور فوج کی مدد کے حوالے سے ان کی رضامندی حاصل نہ ہونے کے باعث مردم شماری کرانے سے انکار کر دیا، مگر بجٹ کے حصول کے بعد مشینوں، گاڑیوں وغیرہ کی خریداری میں مستعدی دکھائی اور اپنے زیراستعمال لے آئے اور آج بیشتر چیزیں قابل مرمت ہوگئی ہیں۔ جناب آصف باجوہ کی جانب سے اپنی حالیہ پریس کانفرنس بہ تاریخ 19 فروری 2017ء کو یہ کہنا کہ مردم شماری کے اخراجات کا تخمینہ 30 ارب (کم و بیش 280 ملین امریکی ڈالر) تک متوقع ہے، حیرت انگیز ہے، اگر اس کا موازنہ پڑوسی ملک ہندوستان سے کیا جائے تو 2011ء کی مردم شماری میں ایک ارب بیس کروڑ سے زائد آبادی کو شمار کرنے میں 330 ملین امریکی ڈالر خرچ ہوئے یعنی 34 روپے فی فرد کے قریب ان کا خرچ آیا، جبکہ پاکستان کی مردم شماری کا یہ خرچہ بقول آصف باجوہ 150 روپے فی فرد تک پہنچ جائے گا۔ اگر پاکستانی قوم ان اخراجات کے موازنہ اپنے پڑوسی ملک سے کرے تو اپنی خوش حالی پر نازاں ہو، کیوںکہ ہم نے ہندوستان کو اس معاملے میں شکست سے دوچار کر دیا، بس شرط یہ ہے کہ مردم شماری پایہ تکمیل کو پہنچ جائے۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close