بلاگ

ہم عورتوں کے بارے میں کتنا جانتے ہیں؟

سماجی کارکنوں کا کہنا ہے کہ خواتین کے حوالے سے دنیا بھر میں لوگ بہت کم جانتے ہیں کیونکہ عموماً سرکاری اعدادوشمار میں ان کا ذکر نہیں ہوتا ور ان کی زندگی کو پوری طرح نظر انداز کیا جاتا ہے لیکن کیا کیا جائے؟

غربت کے خلاف کام کرنے والے گروپ کے ڈائریکٹر ڈیوڈ میک نائر کا کہنا ہے کہ یہ صنفی امتیاز کا شکار اعدادوشمار کا بحران ہے۔

ان کے مطابق ’اسے صنفی امتیاز پر مبنی اس لیے قرار دیا جا سکتا ہے کیونکہ ڈیٹا جمع کرنے کے عمل میں خواتین کو غیر متناسب انداز میں نظرانداز کیا جاتا ہے۔ انھیں شمار ہی نہیں کیا جاتا اور نتیجہ یہ کہ ان کی پروا کسی کو نہیں ہوتی۔‘

امریکہ کی سابق وزیر خارجہ ہلری کلنٹن بھی اس بات سے اتفاق کرتی ہیں۔ واشنگٹن میں اعدادوشمار سے متعلق کانفرنس میں انھوں نے کہا کہ بہت سے ممالک میں عورتوں اور ان کی بنیادی زندگی تک کے بارے میں معتبر اعدادوشمار ہیں ہی نہیں۔ایسے حقائق کہ عورتوں کے یہاں عموماً پہلا بچہ کب پیدا ہوتا ہے، وہ کتنے گھنٹے کام کرتی ہیں، انھیں کتنی اجرت ملتی ہے اور کتنا وہ بغیر اجرت کے کام کرتی ہیں۔ کیا وہ کسی زمین اور جائیداد کی مالک ہیں یا نہیں؟ دنیا کی آبادی کا آدھا حصہ عورتوں پر مشتمل ہے اور یہ ایسا ہے کہ جیسے ہم اس آدھی آبادی کے بارے میں کچھ نہیں جانتے۔‘

مرکز برائےعالمی ترقی سے وابستہ مائرہ بیوونچی کا کہنا ہے کہ زیادہ تر ممالک لیبر فورس سروے سے اعدادوشمار حاصل کرتے ہیں اور یہ سروے ان رسمی شعبہ جات پر مبنی ہوتے ہیں جہاں زیادہ تر مرد ہی کام کرتے ہیں۔

مائرہ کا کہنا ہے کہ اس میں وہ عورتیں شامل نہیں ہوتی جو بنیادی طور پر گھر سنبھالتی ہیں لیکن درحقیقت وہ اس کے ساتھ ساتھ کھیتوں میں کام کرتی ہیں ، جز وقتی ملازمتیں کرتی ہیں اور بہت سی عورتیں اپنا خود کا کاروبار بھی کرتی ہیں

ان کا کہنا ہے کہ سروے میں صحیح سوال بھی نہیں کیے جاتے۔

ان کا کہنا ہے کہ اب سروے میں عورتوں کے وہ کام بھی شامل ہونے چاہییں جس کی انہیں اجرت نہیں ملتی مثلاً صفائی کرنا اور کھانا پکانا اور اسے اقتصادی اعدادوشمار میں بھی شامل کیا جانا چاہیے۔

مائرہ کا یہ بھی کہنا ہے کہ تمام ممالک عورتوں کی زندگی کے دیگر پہلوؤں پر بھی اعدادوشمار جمع نہیں کرتے جیسے کہ بچوں کی پیدائش کے وقت اموات، گھریلو تشدد وغیرہ اور اگر کرتے بھی ہیں تو اس طرح کہ اس سے عالمی مہم میں دشواری پیش آتی ہے۔

عورتوں اور مروں کے بارے میں اعدادوشمار علیحدہ علیحدہ جمع نہیں کیتے جاتے جس سے یہ پتہ لگانا مشکل ہوتا ہے کہ عورتوں کے ساتھ مساوی سلوک کیا جا رہا ہے یا نہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ درست اعدادوشمار سے حکومت کو مسائل سمجھنے اور انھیں حل کرنے میں مدد ملتی ہے۔

ماہرین کہتے ہیں کہ اگر اعدادوشمار درست ہوں تو ذمہ داروں کو جواب دہ ہونا پڑتا ہے اور ایسے لوگ بھی ہیں جو اپنے مفاد کے لیے اطلاعات عام کرنے کے حق میں نہیں ہوتے۔

مثال کے طور پر اگر روزگار سے متعلق اعدادوشمار سیاسی رہنماؤں کی شبیہ خراب کر سکتے ہیں تو وہ نہیں چاہیں گے کہ انہیں جمع کیا جائے۔

حال ہی میں اقوامِ متحدہ کے ادارے ’انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن‘ کی ایک کانفرنس میں اس بار پر اتفاق ہوا ہے کہ گھر کے کام کاج اور بغیر اجرت والے کاموں سے متعلق اعدادوشمار بھی حاصل کیے جانے چاہییں مثال کے طور پر آپ کو اپنے گھر کی صفائی میں کتنا وقت لگتا ہے۔

دس ممالک نے اس میں شامل ہونے پر رضامندی ظاہر کی ہے سو اب مستقبل میں ہمیں عورتوں کے کاموں کا بھی اندازہ ہو سکے گا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close