اسلام آباد

پردے کے پیچھے کارروائیاں نہ رکیں تو سارے ثبوت اور شواہد قوم کے سامنے رکھ دوں گا، نواز شریف

اسلام آباد: سابق وزیراعظم نواز شریف کا کہنا ہے کہ 70 سال سے اس اصول پر کام ہورہا ہے کہ عوامی رائے ہمیشہ غلطی پر ہوتی ہے اور آج بھی ماضی کے اسی فرسودہ اصول پر کام ہورہا ہے۔ اسلام آباد میں پریس کانفرنس کے دوران سابق وزیراعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی طرف سے ایک غیر سنجیدہ ٹوئٹ افسوسناک ہے، 17 برسوں سے ایسی جنگ میں شریک ہیں جو ہماری ہے ہی نہیں، نائین الیون کے بعد جتنا نقصان پاکستان کا ہوا اتنا کسی کا نہیں ہوا۔

نواز شریف نے کہا کہ امریکی صدر کو معلوم ہونا چاہیے کہ 2013ء میں پی ایم ایل (ن) کی حکومت نے اقتدار میں آتے ہی دہشت گردی کے خاتمے کا عزم کیا، دوسرے ممالک کو سفارتی آداب کا خیال رکھنا چاہیے جبکہ کولیشن فنڈ سپورٹ کو امداد کانام نہیں دینا چاہیے، 2001ء میں آمریت کے بجائے جمہوری حکومت ہوتی تو وہ اپنی خدمات کبھی نہ بیچتی اور نہ اپنی خودی کا سودا کرتی تاہم وزیراعظم ایسی حکمت عملی وضع کریں جس سے ہمیں امریکی امداد کی ضرورت نہ رہے۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ یہ سال انتخابات کا ہے، افسوس ہے کہ پہلے انتخابات پاکستان بننے کے 23 سال بعد ہوئے اور انہیں بھی تسلیم نہ کیا گیا اور اس کے بعد ہونے والے انتخابات پر بھی اثر انداز ہونے کی کوشش کی گئی، انتخابات کے نتائج تسلیم نہ کرنے سے ملک ٹوٹ گیا۔ انہوں نے کہا کہ یہاں 70 سال سے اس اصول پر کام ہو رہا ہے کہ عوامی رائے ہمیشہ غلطی پر ہوتی ہے، آج بھی ماضی کے اسی فرسودہ اصول پر کام ہو رہا ہے، انجنئیرنگ کے ذریعے کسی جماعت کا راستہ روک لو اور کسی لاڈلے چہیتے کا راستہ ہموار کردو، واضح کرنا چاہتا ہوں کہ اس ملک کی تقدیر منصفانہ اور غیر جانبدارنہ انتخابات سے جڑی ہے۔

سابق وزیراعظم نے کہا کہ خفیہ رابطوں اور غیرقانونی فیصلوں کے ذریعے کسی کے ہاتھ پاؤں نہ باندھے جائیں اور کسی لاڈلے کے لیے ہر روز نئی ڈھیل اور ڈیل کا انتظام نہ کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ جمہوریت کو اپنی اصل شکل میں پھلنے پھولنے اور چلنے کا موقع دیا جائے، جن لوگوں کا نامہ اعمال عوامی خدمت اور تعمیر ترقی کے کاموں سے خالی ہے، جو صرف جھوٹ، بہتان اور دھرنوں کی سیاست کرتے ہیں، جنہیں عوام انتخابات میں مسترد کرچکے ہیں انہیں تھپکی دیکر قوم پر مسلط کرنے کے منصوبے نہ بنائے جائیں۔

نواز شریف نے کہا کہ پاکستان کے عوام باشعور ہیں، وہ اپنا اچھا اور برا سمجھتے ہیں، انہیں اپنا فیصلہ کرنے دیں، ان کی رائے اور ووٹ کے تقدس کو پامال نہ کریں، اور اگر پردے کے پیچھے یہ کارروائیاں نہ رکیں تو میں سارے ثبوت اور شواہد قوم کے سامنے رکھ دوں گا، گزشتہ 4 برسوں کی کہانی سناؤں گا اور بتاؤں گا کہ یہاں کیا کچھ ہورہا ہے، کس طرح انتخابی عمل پر اپنی مرضی مسلط کرنے کی کوشش کی جارہی ہے۔

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عوامی رائے سے کھیلنے کے نتائج ہم بھگت چکے ہیں، اب جمہوریت کو سچی اور کھری جمہوریت رہنے دیا جائے اسے اپنی خواہشوں کا غلام نہ بنایا جائے، غلام جمہوریت آمریت ہی کی شکل ہوتی ہے جو کبھی بھی ملکی سلامتی اور تحفظ کا دفاع نہیں کرسکتی۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close