اسلام آباد

جب پھانسی دی گئی تو اس وقت ذوالفقار علی بھٹو 9 دنوں سے بھوکے اور پیاسے تھے، جیلر

راولپنڈی جیل کے سابق سپرنٹنڈنٹ ریٹائرڈ کرنل فوج رفیع الدین نے اپنی کتاب میں شھید بھٹو کی پھانسی کی رات کے واقعات کے بارے میں لکھا ہے کہ ’’بھٹو صاحب کی پھانسی کا حکم 4 اپریل کو پھانسی سے 8 گھنٹے پہلے موصول ہوا۔ بھٹو صاحب پھانسی سے 9 دن پہلے سے جیل میں بھوک ہڑتال پے تھے۔ اُن 9 دنوں کے دوران بھٹو صاحب نے کچھ بھی نہی کھایا اور پانی کا ایک قطرہ تک نہی پِیا تھا۔ مجھ سے بہت سے لوگ اکثر یہ پوچھتے ہیں کہ بغیر پانی کے تو کوئی انسان 3 دن سے زیادہ زندہ نہی رہ سکتا تو بھٹو صاحب 9 دن تک بنا پانی کے کیسے زندہ رہے؟؟ تو میں انکو کہتا ہوں کہ یہ مین نے بھی سُنا ہے بنا پانی کے 3 دن سے زیادہ انسان زندہ نہی رہ سکتا، لیکن میں اس بات کا گواہ ہوں کہ بھٹو صاحب 9 دن تک بنا کچھ کھائے پیئے زندہ تھے، کیونکہ جیل میں بھٹو صاحب کے سب سے نزدیک میں ہی تھا۔ 9 دن کی بھوک اور پیاس کی وجہ سے بھٹو صاحب بے انتہا کمزور ہو چکے تھے اور آخر میں ان سے چلا اور بولا بھی نہی جاتا تھا۔ کرنل رفیع نے اپنی کتاب میں مزید لکھا کہ جب بھٹو صاحب کی پھانسی کا حکم موصول ہوا تو میں انکی کال کوٹھڑی میں گیا،وہ کال کوٹھڑی 4*4 فوٹ کی تھی بیحد تنگ جس میں بھٹو صاحب کو رکھا گیا تھا۔ مین نے بھٹو صاحب کو پھانسی کا حکم نامہ پڑھ کے سنایا کہ چند گھنٹوں بعد آپکو پھانسی دی جائے گی تو بھٹو صاحب نے مجھے دیکھا اور کچھ بھی نہی کہا۔ پھانسی کا سننے کے بعد بھٹو صاحب کے چہرے کے تاثرات واضع بتا رہے تھے کہ انکو کسی قسم کا خوف یا ڈر نہی تھا، لیکن انکے چہرے سے صرف یہ ظاہر ہو رہا تھا کہ بھٹو صاحب کو اس بات افسوس ضرور ہوا اور جیسے وہ کہنا چاہتے تھے کہ مینے اِس ملک کے لیئے کیا کچھ نہی کیا اور اس کے بدلے میں مجھے پھانسی۔ کرنل رفیع نے لکھا کہ جب پھانسی کا وقت قریب آیا تو مینے بھٹو صاحب جو اُس وقت اسٹریچر پے تھے پوچھا کہ بھٹو صاحب کیا آپ خد چل کر جائیں گے یا آپکو اسٹریچر پے لایا جائے تو بھٹو صاحب نے مجھے کہنے کی کوشش کی لیکن کمزوری کی وجہ سے انکی آواز سمجھ نہی آ رہی تھی، میں نے اتنا ضرور سمجھا کہ اس وقت بھٹو صاحب اپنی بیگم نصرت بھٹو کو یاد کر رہے تھے کہ کاش وہ اس وقت میرے ساتھ ہوتی اور مجھے اُٹھنے کے لیئے سہارا دیتی۔ پھر بھٹو صاحب کو اسٹریچر پہ پھانسی گھاٹ تک لایا گیا اور جب پھانسی دینے کے ان کو اسٹریچر سے اُتارا جا رہا تھا تو بھٹو صاحب کا ایک پائوں قمیص میں پھنس گیا جسکی وجہ سے بھٹو صاحب کی پوری قمیص پھٹ گئی اور انکو اسی حالت میں پھانسی دی گئی۔ کرنل رفیع نے لکھا کہ مینے بھٹو صاحب کے بارے میں ساری باتیں صرف اس لیئے لکھیں کہ قوم کو معلوم ہو سکے کہ انکے لیڈر کیساتھ جیل میں کون کون سے ظلم ہوئے تھے۔ میں اللہ سے پناہ مانگتا ہوں کہ ایسا کسی کے ساتھ نہ ہو جو کچھ بھٹو صاحب کیساتھ ہوا اور میں یہ دعا کرتا ہوں کہ خدا کسی کو بھی ایسا منظر نہ دکھائے جو میں نے دیکھا تھا۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close