اسلام آباد

ڈان لیکس، طارق فاطمی کو عہدے سے نہیں ہٹایا گیا تھا ، نواز شریف کے بعد سامنے آنے والے نوٹیفکیشن سے سوشل میڈیا پر ہنگامہ

اسلام آباد: نواز شریف کی نا اہلی کے بعد ان کے معاونین و مشیران کو عہدوں سے ہٹائے جانے کا نوٹیفکیشن تیزی سے سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے جس کی بڑی وجہ اس میں طارق فاطمی کا نام ہونا ہے۔ سوشل میڈیا صارفین کا کہنا ہے کہ طارق فاطمی کو تو ڈان لیکس کے بعد عہدے سے ہٹا دیا گیا تھا پھر وہ کس حیثیت میں بطور معاون خصوصی کام کرتے رہے ہیں۔ تاہم حقیقت یہ ہے کہ طارق فاطمی سے خارجہ امور تو واپس لے لیے گئے تھے لیکن وہ وزیر اعظم کے معاون خصوصی کے طور پر کام کرتے رہے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق وزیر اعظم کی نا اہلی کے بعد کابینہ ڈویژن کی طرف سے وزیر اعظم کے معاونین کو کام سے روکنے کا نوٹیفکیشن جاری ہوا جس میں طارق فاطمی کا نام بھی موجود ہے۔ اس نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم کے مشیروں سرتاج عزیز، امیر مقام، جام معشوق علی، عرفان صدیقی اور سردار مہتاب عباسی سمیت وزیر اعظم کے معاونین خصوصی طارق فاطمی ، مصدق ملک، خان ظہیر احمد، مفتاح اسماعیل، شجاعت عظیم،بیرسٹر ظفراللہ، ہارون خان، آصف کرمانی اور شرجیل شیخ کو کام سے روک دیا جائے۔

 

یہ نوٹیفکیشن منظر عام پر آنے کے بعد سوشل میڈیا پر ہنگامہ برپا ہوگیا ہے ، پی ٹی آئی کی مرکزی رہنما ڈاکٹر شیریں مزاری نے نواز شریف کے اس عمل کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ ” طارق فاطمی کی برطرفی جعلی تھی، یعنی ڈان لیکس کا معاملہ دبانے کیلئے قوم سے ایک اور جھوٹ بولا گیا“.

شیریں مزاری کے ٹویٹ کے جواب میں کالم نویس مشرف زیدی نے کہا ہے کہ ڈان لیکس معاملے میں طارق فاطمی کو ہٹایا نہیں گیا تھا بلکہ انہیںصرف معاون خصوصی برائے امور خارجہ کے عہدے سے ڈی نوٹیفائی کیا گیا تھا، اور وہ بطور معاون خصوصی وزیر اعظم کے ساتھ کام کرتے رہے ہیں۔

مشرف زیدی کا ٹویٹ سامنے آنے کے بعد ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ ’ جو آپ کہہ رہے ہیں یہ حکومت کی طرف سے ڈان لیکس کے معاملے پر نہیں بتایا گیا تھا، صرف ناموں کی تبدیلی سے قوم کو بے وقوف بنایا گیا حالانکہ طارق فاطمی اسی خندق میں موجود رہے“۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close