کھیل و ثقافت

ڈوپنگ سکینڈلز کے باعث اولمپکس میں عوامی دلچسپی کم

سروس کے ایک سروے سے پتا چلا ہے کہ ریو اولمپکس کے آغاز سے قبل ڈوپنگ سے متعلق سکینڈلز نے ان کھیلوں میں عوامی دلچسپی کم کر دی ہے۔

19 ہزار افراد پر کیے گئے سروے کے مطابق19 ممالک کے 57 فیصد افراد کا کہنا ہے کہ ڈوپنگ کی وجہ سے ان کھیلوں کے لیے لوگوں کی دلچسپی پر اثر پڑا ہے۔

اہم جرمنی اور میزبان ملک برازیل کے لوگ اس سے متاثر نہیں ہوئے۔

اس سروے میں 62 فیصد افراد کا یہ بھی کہنا تھا کہ ان کھیلوں میں ان کے ملک کی کارکردگی کا بہت یا کچھ حد تک اثر قومی فخر پر پڑتا ہے۔

سروے میں شامل ابھرتی ہوئی معیشتوں کے شرکا کے مطابق اولمپکس میں کامیابی کا ایک بڑا اثر ضرور پڑتا ہے جن میں انڈونیشیا، کینیا، روس، پیرو اور انڈیا شامل ہیں۔

جبکہ برازیل، جرمنی، امریک اور فرانس کے لوگوں کے مطابق اولمپکس میں کامیابی سے قومی فخر پر کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔

سروے کا انعقاد کرنے والے فرم گلوب سکین کا کہنا ہے کہ رائے شمار سے ظاہر ہوا ہے ’ابھرتی ہوئی معیشتوں میں شہری سمجھتے ہیں کہ اولمپک کھیلوں میں کامیابی سے قومی وقار پر مثبت اثر پڑتا ہے۔

فرم کے چیئرمین کے مطابق اس سروے کے نتائج سے انسداد ڈوپنگ کے ادارے کی اہمیت بھی اجاگر ہوئی ہے۔

اس سے قبل رواں ہفتے عالمی انسداد ڈوپنگ ایجنسی نے اس کی جانب سے روس پر ریو اولمپکس گیمز میں حصہ لینے پر مکمل پابندی عائدکیے جانے کی سفارشات پر عمل نے کرنے پر مایوسی کا اظہار کیا تھا۔

خیال رہے کہ روسی حکومت کی سربراہی میں کھلاڑیوں کو ڈوپنگ کی ادویات فراہم کرنے کے شواہد سامنے آنے کے بعد روسی ایتھلیٹس پر اولمپکس میں شرکت پر پابندی کا فیصلہ سامنے آیا تھا۔

19 میں سے 13 ممالک کے لوگوں کا کہنا تھا کہ ڈوپنگ کے استعمال سے اولمپکس میں دلچسپی کم ہو جائے گی۔

سروے کے مطابق جنوبی کوریا، پیرو، آسٹریلیا اور فرانس کے لوگ ان کھیلوں میں دلچسپی کھو دیں گے۔ تاہم 35 فیصد جرمن اور 36 فیصد برازیلین شہریوں کا کہنا تھا کہ اس وجہ سے کھیلوں میں دلچسپی نہیں لیں گے۔

یہ سروے گذشتہ دسمبر سہ رواں برس اپریل تک کیا گیا۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close