بلاگ

والد کی شفقت سے محروم شوگرکا شکار بچے کےعزم و حوصلے کی داستاں

بچے کسی بھی قوم کا مسقبل ہوتے ہیں اسی لیے بچوں کی تعلیم و تربیت پر ہر معاشرے میں خصوصی توجہ دی جاتی ہے تاہم ہمارے معاشرے میں غریت اور بے روزگاری کی وجہ سے غریب گھرانوں کے معصوم بچےبہتر تعلیم و تربیت حاصل کرنے اور سکول جانے کی بجائے اپنا بچپن محنت مزدوری کی نذر کرنے پر مجبورہوجاتے ہیں۔ لاہورکا رہائشی چودہ سالہ قدرت اللہ ایک ایسا ہی یتیم بچہ ہے جو گزشتہ کئی سال سے محنت مزدوری کرکے اپنا اوراپنے گھرانے کا پیٹ پال رہا ہے۔ قدرت کی ستم ظریفی تو دیکھیں کہ ایک جانب غربت تو دوسری طرف معصوم محنت کش کو شوگر جیسا مرض بھی لاحق ہے جس کی وجہ سے یقینا اس معصوم کی زندگی کی دشواریاں مزید بڑھ گئی ہیں

قدرت اللہ نے محمد یونس نامی محنت کش کے ہاں جنم لیا، اس کی دو بہنیں اٹھارہ سالہ نسیم اور بارہ سالہ کشور جبکہ ایک معذور بھائی اعجاز ہے جو جوان ہونے کے باوجود اپنی ماں اور چھوٹے بھائی قدرت اللہ کی ذمہ داری ہے۔ محمد یونس کے مرنے کے بعد پورے گھرانے کی کفالت کی ذمہ داری بیوہ ارشاد بیگم پر آن پڑی جو اپنے گھرانے کا پیٹ پالنے کے لیے لوگوں کے گھروں میں کام کرنے پر مجبور ہو گئی

غریب بیوہ کو ایک اورصدمہ اس وقت سہنا پڑا جب اسے پتہ چلا کہ اس کے معصوم بچے قدرت اللہ کو انتہائی کم سنی شوگر جیسا موذی مرض لاحق ہو گیا ہے ۔ ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ شوگر کے مرض کی وجہ سے اس معصوم بچے کی دیکھ بھال پر زیادہ توجہ دی جاتی تاہم گھریلو حالات کی وجہ سے معصوم قدرت اللہ نے بھی سکول جانے کی بجائے اپنی محنت مذدوری شروع کر دی اور محض سات سال کی عمر میں اس نے گھر کے بڑے کے فرائض سنبھال لیے۔

قدرت اللہ لاہور کے مختلف علاقوں میں چھوٹے موٹے کام کرتا نظر آتاہے کبھی وہ ہوٹل پر چائے سپلائی کرتا ہے تو کبھی دکانوں کی صفائی سمیت چھوٹے موٹے کام کرکے دو سے ڈھائی سو روپے روز کما لیتا ہے جس سے اس کے گھر کا خرچ چلتا ہے جس عمرمیں بچے گھر سے ملنے والے پیسے کھلونوں اور چاکلیٹس وغیرہ پراڑا دیتے ہیں اس عمر میں قدرت اللہ اپنی شب و روز کی محنت سے کمائے ہوئے پیسے سے شوگر کے لیے انسولین خریدتا ہےقدرت اللہ کا کہنا ہے کہ وہ بھی عام بچوں کی طرح تعلیم حاصل کرنا اور کھیلنا کودنا چاہتا ہے تاہم اس کا یہ خواب شاید خواب ہی رہے ۔ اپنی بیماری کے متعلق قدرت اللہ کا کہنا ہے کہ شوگر کی وجہ سے اسے بہت سے مسائل کا سامنا ہے تاہم جب طبیعت زیادہ خراب ہو تو وہ مزدوری نہیں کر سکتا جس کی وجہ سے اس کے گھرانے کو خاصی مشکلات کا سامنا کرنا پڑتاہے۔

قدرت اللہ کی ماں اپنے بیٹے کی بیماری کے باعث خاصی تشویش کا شکار ہے اس کا کہنا ہے کہ شوگر میں مریض کی خوراک اور ادویات کا خاص طور پر خیال رکھا جاتا ہے مگرقدرت اللہ جن حالات میں زندگی گزار رہا ہے ان میں یقینا اس کی صحت کے حوالے سے خطرات بڑھتے جا رہے ہیں۔

ہمارے ملک میں قدرت اللہ جیسے خوبصورت پھول معاشرتی عدم توجہی کی وجہ سے بے وقت ہی مرجھا جاتے ہیں پاکستان کو ایشین ٹائیگر اورخوشحال پاکستان بنانے کے دعویدار حکمرانوں کے لیے قدرت اللہ اور اس جیسے لاکھوں بچوں کی کسمپرسی ایک لمحہ فکریہ ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close