بلاگ

’لگتا ہے کہ لوگوں کو ایک شہید کی تلاش ہے‘

اروم شرمیلا نے منگل کو اپنی بھوک ہڑتال ختم کی ہے جس پر ملاجلا ردعمل سامنے آیا ہے۔

جیل سے رہا ہونے کے بعد امپھال میں بدھ کی صبحدیےگئے ایک خصوصی انٹرویو میں اروم شرمیلا نے کہا کہ ’مجھے لگتا ہے کہ لوگوں کو ایک شہید کی تلاش ہے۔ انھیں شاید میری فتح یاب شکل نہیں چاہیے بلکہ ایک شہید چاہیے۔ بہت سے لوگ اب بھی میرے راستہ تبدیل کرنے سے اتفاق نہیں رکھتے۔‘انھوں نے جذباتی انداز میں کہا کہ ’لوگ اگر چاہتے ہیں کہ ان کی خواہشیں میرے خون سے ہی دھلیں تو میں اس کے لیے بھی تیار ہوں۔۔۔۔گاندھی جی کی ہی طرح۔

ان کا کہنا تھا کہ ’میں اور لوگوں کی ہی طرح ایک عام سی ہوں، میں کوئی بزرگ مہاتما نہیں ہوں۔ میں اچھی بھی ہوں، بری بھی۔ کیا مجھ میں كمي نہیں ہو سکتی؟ مجھ میں بھی بہت سی كمياں ہیں۔ لوگ کیوں مجھے بزرگ بنا کے رکھے ہوئے ہیں۔ لوگ مجھے صرف اپنی ہی نظروں سے دیکھنا چاہتے ہیں۔ میں تو اس طرح کی زندگی سے تنگ آ چکی ہوں

اس سوال پر کہ 16 برس تک نظر بند ہو کر رہنا کتنا مشکل تھا اروم نے کہا: ’مجھے بہت زیادہ الگ تھلگ محسوس ہوتا تھا۔ آخر گاندھی جی نے جب آزادی کی لڑائی لڑی تو وہ لوگوں سے جڑے رہے تھے۔ میں ہمیشہ لوگوں سے کٹی ہوئی تھی، جیسے میں کوئی مجرم تھی۔ میں ایسے حالات میں بھی تھی جو مجھے برداشت نہیں ہیں۔ میری باتوں کو بھی توڑ مروڑ کر پیش کیا گیا۔

اروم نے کہا کہ جب لوگ دھوکہ دیتے ہیں تو میں خاموش نہیں بیٹھی رہ سکتی اور اگر وہ آزاد رہیں گی تو لوگ ایسا نہیں کر پائیں گے۔

سیاست سے متعلق ایک سوال پر اروم شرمیلا کا کہنا تھا: ’اگر لوگ ووٹ کی عزت کریں گے تو سیاست سے گندگی نکل جائے گی۔ سیاست میں گندگی لوگوں کی سوچ سے بھی جڑی ہوئی ہے۔ لیکن اگر میرے ساتھ ہاتھ میں طاقت نہیں ہے تو میری آواز کون سنےگا۔ میں یہ عرصے سے برداشت کر رہی ہوں۔‘

اپنی آزادی کے سوال پر اروم نے دو ٹوک کہا: ’مجھے آزادی کا حق حاصل ہے، ایک آزاد پرندے کی طرح۔ میں کسی طرح کی سرحدیں نہیں چاہتی، جہاں جانا چاہوں جاؤں، ایک پرندے کی طرح اس ڈال پر اس ڈال پر۔ یہ ذات پات، مذہب کی حدود سے باہر۔‘

اروم نے کہا کہ گاندھی کے ملک میں تشدد دیکھ کر وہ بہت دکھی ہوتی ہیں اور دلوں کو دلوں سے جوڑنا چاہتی ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close