More share buttons
Share with your friends










Submit
Featuredبلاگ

ولادت باسعادت مولا علی ابن ابیطالب (ع)

Share on Pinterest
Share with your friends










Submit

13 رجب دنیا بھر میں ولادت باسعادت فاتح خیبر و بدر و حنین مولا علی ابن ابیطالب (ع) منایا جارہا ہے

مولائے متقیان امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام کی شب ولادت باسعادت پر پاکستان سمیت پوری دنیا میں جشن و نور کا سماں ہے، عاشقان حیدر کرار جگہ جگہ لوگوں میں شربت اور مٹھائیاں تقسیم کر رہے ہیں۔

رپورٹ : فخر زیدی

مولائے کائنات کی شب ولادت باسعادت پر عراق کے مقدس شہروں نجف اشرف، کربلائے معلی، کاظمین اور سامرہ میں بھی وسیع پیمانے پر جشن کا اہتمام کیا گیا ہے-

امیر المومنین حضرت علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہ خانہ کعبہ میں فاطمہ بنت اسد کے بطن مبارک سے پیدا ہوئے یہ روایت تواتر کی حد تک ہے ۔

امیرالمومنین حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام مکہ معظمہ میں خانہ کعبہ کے اندر شب جمعہ ۳۱رجب ، ۰۳ عام الفیل کو پیدا ہوئے۔ اس سے پہلے اور اس کے بعد کوئی بیت اللہ میں پیدا نہ ہوا ۔ یہ مقام و منزلت و شرف فقط حضرت علی علیہ السلام کو حاصل ہے ۔

شاہ ولی اللہ احمد بن عبد الرحیم د معروف محدث دہلوی نقل کرتے ہیں
”بغیر کسی شک و شبہ کے یہ روایت متواتر ہے کہ علی بن ابی طالب علیہ السلام شب جمعہ ۱۳رجب ،۳۰عام الفیل، ۲۳سال قبل از ہجرت ،مکہ معظمہ میں خانہ کعبہ کے اندر فاطمہ بنت اسد کے بطن مبارک سے پیدا ہوئے ۔ ان سے پہلے اور نہ ان کے بعد کوئی بھی شخص خانہ کعبہ کے اندر پیدا نہیں ہوا ۔ حضرت علی (ع) کی جلالت وبزرگی اور کرامت کی وجہ سے خداوند عالم نے اس فضیلت کوان کے لئے مخصوص کیا ہے

علامہ ابن جوزی جنفی کہتے ہیں کہ حدیث میں وارد ہے

”جناب فاطمہ (ع)بنت اسد خانہ کعبہ کا طواف کررہی تھیں کہ وضع حمل کے آثار ظاہر ہوئے اسی وقت خانہ کعبہ کا دروازہ کھلااورجناب فاطمہ (ع)بنت اسد کعبہ کے اندر داخل ہوگئی ۔اسی جگہ خانہ کعبہ کے اندر حضرت علی علیہ السلام پیدا ہوئے ۔“

علامہ سکتواری بسنوی :

اسلام میں وہ سب سے پہلا بچہ ہے جس کا تمام صحابہ کے درمیان ”حیدر “ یعنی شیر نام رکھاگیاہے۔ وہ ہمارے مولا اور سید و سردار حضرت علی بن ابی طالب علیہ السلام ہیں ۔ جس وقت حضرت علی علیہ السلام خانہ کعبہ میں پیدا ہوئے اس وقت حضرت ابو طالب (ع)سفر پرگئے ہوئے تھے ۔ حضرت علی علیہ السلام کی مادر گرامی نے ان کانام تفاول کرنے کے بعد”اسد“ رکھا ۔ کیوں کہ” اسد“ ان کے والد محترم کا نام تھا۔

حضرت علی علیہ السلام پیغمبر اسلامﷺ کے چچا زاد بھائی ہیں۔ رسولِ اعظم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے آپ کی پرورش و تربیت کی اور اپنی لختِ جگر شہزادی حضرت فاطمہ سلام اللہ علیہا سے آپ کی شادی کی اور آپؑ کی گھریلو زندگی طمانیت اورراحت کا ایک بے مثال نمونہ ہے۔

خالقِ کائنات نے سیدہ کے بطن سے آپ کو تین بیٹے حضرت امام حسن ؑ ،حضرت امام حسین ؑ ،حضرت محسن ؑاور دو صاحبزادیاں عطا فرمائیں۔

دعوتِ ذوالعشیرہ سے لے کر شبِ ہجرت اور پھر اپنی شہادت تک آپ نے ہر لمحہ دینِ حق کی حفاظت و سربلندی اور رسول خدا کی مکمل حمایت میں گزارا۔آپ رسولِ خدا کا ایسا قوتِ بازو تھے کہ جس پر رسولِ خدا کو ناز تھا۔

دینِ رسول خدا اشاعت و ترویج کیلئے آپ نے اپنی تمام زندگی وقف کردی۔ رسول اکرم کی طرف سے عہد ناموں کا لکھنا، خطوط تحریر کرنا آپ کے ذمہ تھا اور لکھے ہوئے اجزائے قرآن کے امانتدار بھی آپ تھے- اس کے علاوہ یمن کی جانب تبلیغ اسلام کے لیے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آپ کو روانہ کیا جس میں آپ کی کامیاب تبلیغ کا اثر یہ تھا کہ سارا یمن مسلمان ہو گیا۔ اشاعت اسلام و حفاظت رسول خدا کیلئے آپ ہمیشہ اپنی جان ہتھیلی پر لیے رہے۔

شبِ ہجرت سے لے کرغزوہ بدر ،غزوہ احد، غزوہ خندق، غزوہ خیبر اور غزوہ حنین وہ بڑی لڑائیاں ہیں جن میں حضرت علی علیہ السلام نے رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ رہ کر اپنی بے نظیر بہادری کے جوہر دکھلائے اور کفار و مشرکین کے بڑے بڑے سورمائوں کو تہہ تیغ کر دیا۔

اس کے علاوہ میدان مباہلہ میں جب عیسائیوں کے ساتھ رسولِ خدا نے بعد ایک طویل بحث و مباحثہ اور دلیل و براہین کے بعد مباہلہ کیا تو آپ ؑ اس میں بھی سرِفہرست نظر آتے ہیں ۔آپ ؑ ہی تو وہ ہستی ہیں جنہیں رسولِ ثقلین ؑ نے اپنا نفس قرار دیا۔ اور کیا کہنے پھر ان عیسائی علما ء کے جنہوں نے ناموس رسول کا احترام، لحاظ اور پاسداری کرتے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے۔

اسی طرح جب سورہ برائت نازل ہوئی تو اس کی تبلیغ کے لیے بحکم خدا آپ ہی مقرر ہوئے اور آپ نے جا کر مشرکین کو سورہ ٔبرائت کی آیتیں سنائیں- کیونکہ توحید کا صحیح پرچار تو وہی کر سکتا ہےجس کا خاندان ہمیشہ سے ہی توحید پرست رہا ہو، علاوہ ازیں آپؑ رسالت مآب کی ہر خدمت انجام دینے پر تیار رہتے تھے- یہاں تک کہ یہ بھی دیکھا گیا کہ رسول کی جوتیاں اپنے ہاتھ سے سی رہے ہیں علی بن ابی طالب اسے اپنے لیے باعثِ فخر سمجھتے تھے۔

آپ کے فضائل و کمالات اتنے ہیں کہ جن کااحاطہ نوع انسانی کے بس کی بات نہیں ہے ۔ آپ کو وجہہ اللہ کہا، کہیں یداللہ ،کہیں عین اللہ، کہیں لسان اللہ، کہیں اذن اللہ گویا آپ کے بدن کے ہر جزو کو اللہ کاجزو کہا گیا اور یہی وجہ ہے کہ آپ کاوجود تمام کرشمات و مظاہر ِ الہٰی کے اظہار کامنبع و مرکز ٹھہرا ہوا ہے۔

آپ کو اللہ کا ولی کہا گیا ہے اور اس وقت دنیا میں جتنے بھی ولایت کےسلسلے ہیں سب کی انتہا آپ کی ذات بابرکات پر ہے۔ آپؑ میزان حق ہیں۔ آپؑ صراط مستقیم ہیں۔ آپؑ جنت و جہنم کے تقسیم کرنےوالے ہیں۔ آپؑ ساقی کوثر ہیں۔ دروازہ جنت پر آپ کا نام کنندہ ہے۔ عرش پر آپ ؑ کا نام ملائکہ کی زیارت گاہ بنا ہوا ہے۔

آپؑ دامادِ رسول ہیں، آپ شوہرِ بتول ہیں ۔کائنات میں خالق نے آپ کے جیسی بیوی کسی کو عطا نہیں کی، آپ کے جیسے بیٹے کسی کو نہیں ملے ،آپ کے جیسا سسر کسی کو نصیب نہیں ہوا اآپ کی بے شمار ایسی فضیلتیں اورمراتب ہیں کہ جو سوائے آپ ؑ کے کسی کو نصیب نہیں ہوئیں ۔سب سے بڑی فضیلت تو آپ کی یہ ہے کہ آپ خانہ کعبہ میں تشریف( پیداہوئے ) لائے جو تمام کائنات کی عبادات کا مرکز و محور ہے۔

جس کی طرف اگر کوئی مسلمان منہ کر کے نماز نہ پڑھے تو اس کی نماز بھی نہیں ہوتی باقی عبادات تو اپنی جگہ ہر حاجی کیلئے ضروری ہے کہ طواف کعبہ کرے ۔ ۔۔۔توحید کا جس انداز سے پرچار اور ادراک آپؑ نے کیا ہے ایسے کسی نے نہیں کیا۔ نہج البلاغہ میں آپ کے خطاب تصورِ/عقیدہ توحید کی وضاحت کیلئے بے مثال ہیں۔

آپ کے متعلق رسولِ خدا نے فرمایا :۔
علی مجھ سے ہیں اور میں علی سے ہوں۔

میں علم کا شہر ہوں اور علی اس کا دروازہ ہے۔

.تم سب میں بہترین فیصلہ کرنے والا علی ہے۔

علی کو مجھ سے وہ نسبت ہے جو ہارون کو موسیٰ علیہ السّلام سے تھی۔

علی مجھ سے وہ تعلق رکھتے ہیں جو روح کو جسم سے یا سر کو بدن سے ہوتا ہے۔

علی خدا اور رسول کے سب سے زیادہ محبوب ہیں۔

. مباہلہ کے واقعہ میں حضرت علی کرم اللہ وجہہ کو نفسِ رسول کا خطاب ملا.

عملی اعزاز یہ تھا کہ مسجد میں سب کے لئے دروازے بند ہوئے تو علی کرم اللہ وجہہ کے لئے دروازہ کھلا رکھا گیا

جب مہاجرین و انصار میں بھائی چارہ کیا گیا تو حضرت علی علیہ السلام کو پیغمبر نے اپنا دنیا وآخرت میں بھائی قرار دیا۔

غدیر خم کے میدان میں ہزاروں مسلمانوں کے مجمع میں حضرت علی کو اپنے ہاتھوں پر بلند کر کے یہ اعلان فرما دیا کہ جس کا میں مولا (مددگار، سرپرست) ہوں اس کا علی بھی مولا ہیں۔

مولا علی نے زندگی بھر پیغمبر کا ساتھ دیا اوررسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تجہیز وتکفین اور غسل وکفن کاتمام کام بھی علی بن ابی طالب ہی کے ہاتھوں ہوا اورقبر میں آپ ہی نے رسول کو اتارا۔ اس کے علاوہ خود خاموشی کے ساتھ اسلام کی روحانی اور علمی خدمت میں مصروف رہے۔ قرآن کو ترتیب ُ نزول کے مطابق ناسخ و منسوخ اور محکم اور متشابہ کی تشریح کے ساتھ مرتب کیا۔

مسلمانوں کے علمی طبقے میں تصنیف وتالیف کااور علمی تحقیق کاذوق پیدا کیااور خود بھی تفسیر اور کلام اور فقہ واحکام کے بارے میں ایک مفید علمی ذخیرہ فراہم کیا۔ بہت سے ایسے شاگرد تیار کئے جو مسلمانوں کی آئندہ علمی زندگی کیلئے معمار کا کام انجام دے سکیں، زبان عربی کی حفاظت کیلئے علم نحوکی داغ بیل ڈالی اور فن صرف اور معانی بیان کے اصول کو بھی بیان کیا اس طرح یہ سبق دیا کہ اگر ہوائے زمانہ مخالف بھی ہوا اور اقتدار نہ بھی تسلیم کیا جائے تو انسان کو گوشہ نشینی اور کسمپرسی میں بھی اپنے فرائض کو فراموش نہ کرنا چاہیے۔

ذاتی اعزاز اور منصب کی خاطر مفاد ملّی کو نقصان نہ پہنچایا جائے اور جہاں تک ممکن ہو انسان اپنی ملّت، قوم اور مذہب کی خدمت ہر حال میں کرتا رہے۔ پچیس برس تک رسول کے بعد علی بن ابی طالب نے خانہ نشینی میں بسر کی 35ھ میں مسلمانوں نے خلافت ُ اسلامی کامنصب علی بن ابی طالب کے سامنے پیش کیا۔

آپ نے مسلمانوں کے پر زور اصرار پر اس شرط پر یہ ذمہ داری قبول کی کہ میں قرآن و سنت کے مطابق عمل کروں گا – مگر زمانہ آپ کی خالص الہٰی سلطنت کو برداشت نہ کرسکا اور ایک بار پھر دشمنان اسلام آپ کے خلاف بر سرپیکار ہو گئے اور جمل ،صفین اور نہروان جیسی خون آشام جنگیں آپ پر مسلط کر دیں۔

تاہم حضرت علی بن ابی طالب نےان تمام تر مشکلات کے باوجود دین الہٰی اور شریعت محمدی کی مکمل پاسداری اور احیاء کو جاری و ساری رکھا۔

آپؑ کو 19 رمضان40ھ ( 660ء ) کو صبح کے وقت مسجد میں عین حالتِ نماز میں ایک زہر میں بجھی ہوئی تلوار سے زخمی کیا گیا۔ جب آپ کے قاتل کو گرفتار کرکے آپ کے سامنے لائے اور آپؑ نے دیکھا کہ اس کا چہرہ زرد ہے اور آنکھوں سے آنسو جاری ہیں تو آپ کو اس پر بھی رحم آ گیا اور اپنے دونوں فرزندوں حضرت حسن علیہ السلام اور حضرت حسین علیہ السلام کو ہدایت فرمائی کہ یہ تمہارا قیدی ہے اس کے ساتھ کوئی سختی نہ کرنا جو کچھ خود کھانا وہ اسے کھلانا۔ اگر میں اچھا ہو گیا تو مجھے اختیار ہے میں چاہوں گا تو سزا دوں گا اور چاہوں گا تو معاف کردوں گا اور اگر میں دنیا میں نہ رہا اور تم نے اس سے انتقام لینا چاہا تو اسے ایک ہی ضرب لگانا، کیونکہ اس نے مجھے ایک ہی ضرب لگائی ہے اور ہر گز اس کے ہاتھ پاؤں وغیرہ قطع نہ کیے جائیں، اس لیے کہ یہ تعلیم اسلام کے خلاف ہے، آپ نے 21 رمضان کو نمازِ صبح کے وقت شہادت پائی۔

قارئین کرام:  امیرالمومنین حضرت علی علیہ السلام کی زندگی تمام انسانیت کیلئے عظیم نمونہ ہے۔

 

 

Share on Pinterest
Share with your friends










Submit
Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close