بلوچستان

بلوچستان میں زیتون کے قدرتی جنگلات تباہی سے دو چار

جنگلات کی لکڑی توانائی کے حصول کا بڑا ذریعہ ہے۔ پاکستان کے غیر ترقی یافتہ علاقوں، خصوصاً ایسے سرد علاقے جو گیس سے محروم ہیں، میں ایندھن اور توانائی فراہم کرنے کا سب سے بڑا ذریعہ جنگلات ہی ہیں، اور یہی وجہ ہے کہ ان علاقوں میں موجود کئی قیمتی اور قدیم جنگلات تیزی سے اپنے خاتمے کی جانب بڑھ رہے ہیں۔

بلوچستان کے ضلع ژوب اور شیرانی میں بھی لاکھوں ایکڑ اراضی پر پائے جانے والے زیتون کے قدرتی قیمتی جنگلات کا صفایا کیا جا رہا ہے۔

یہ جنگلات بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی، روزگار کے ذرائع اور ایندھن کے متبادل ذرائع نہ ہونے کے باعث تیزی سے ختم ہو رہے ہیں اور مقامی افراد ان درختوں کو کاٹ کر اپنی ایندھن کی اور دیگر ضروریات پوری کر رہے ہیں۔

ایک اندازے کے مطابق بلوچستان میں کل 0.2 فیصد رقبے پر زیتون کے جنگلات پائے جاتے ہیں جن میں سے 80 فیصد مقامی آبادی اور 20 فیصد حکومت کی ملکیت ہیں۔

مقامی آبادی زیتون کی لکڑی کا استعمال ایندھن، گھروں کی تعمیر اور مویشیوں کے چارے کے لیے کرتی ہے۔ اس کا بیج مفید اور کھانے کے قابل بھی ہوتا ہے جس کا مقامی طور پر بڑے پیمانے پر استعمال کیا جاتا ہے۔

مقامی افراد ان جنگلات کی اہمیت سے آگاہ ہیں مگر ان کا کہنا ہے کہ ان کے پاس ایندھن کے حصول اور روزگار کے لیے اور کوئی ذریعہ نہیں۔ وہ ان درختوں کو کاٹ کر نہ صرف اپنے آتش دانوں کو آگ فراہم کرتے ہیں بلکہ، درختوں کو کاٹ کر ان کی لکڑیوں کو بازاروں میں لے جا کر بھی فروخت کیا جاتا ہے۔

اگرچہ فطری طور پر زیتون کے درختوں کی افزائش کی رفتار غیر معمولی ہے اور یہ بہت جلد نشونما پانے لگتے ہیں، لیکن اس کے باوجود ان جنگلات کے بڑے پیمانے پر مویشیوں کے لیے چراگاہ کے طور پر استعمال ہونے کی وجہ سے ان کی تعداد میں تیزی سے کمی آرہی ہے

بلوچستان شاخ میں کام کرنے والے ماہرین کا اس بارے میں کہنا ہے کہ اگرحکومت اور مقامی افراد کی کمیٹیاں ان جنگلات کا خیال نہیں رکھتیں تو ہم شدید نوعیت کی ماحولیاتی تبدیلیاں رونما ہوتی دیکھیں گے۔

اس کی تصدیق ژوب کے رہائشیوں نے بھی کی۔ ان کا کہنا ہے کہ ان جنگلات کی بے دریغ کٹائی سے نہ صرف علاقے کی آلودگی میں اضافہ ہوگیا ہے، بلکہ موسمی تغیرات کا اثر بھی واضح ہوتا نظر آرہا ہے اور موسم زیادہ شدت سے محسوس کیے جارہے ہیں۔

آئی یو سی این کے مطابق پچھلے کچھ سالوں میں موسم گرما میں سخت حدت اور موسم سرما میں سردی کی شدت کا مشاہدہ کیا گیا جو مقامی طور پر موجود حیاتیاتی اور نباتاتی انواع کے لیے ناقابل برداشت ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ محکمہ جنگلات کو نگرانی کے زیادہ بہتر آلات فراہم کرنے کی ضرورت ہے اس کے ساتھ ساتھ مقامی آبادی کو چولہے جلانے کے لیے متبادل ایندھن جیسے میتھین گیس وغیرہ فراہم کی جائے جبکہ جنگلات کی کٹائی کے حوالے سے قوانین میں ترمیم بھی کرنے کی ضرورت ہے۔

دوسری جانب محکمہ جنگلات کے ڈویژنل افسر محمد سلطان نے زیتون کے جنگلات کی کٹائی کی خبروں کو سراسر غلط قرار دے دیا۔ ان کا کہنا ہے کہ ان جنگلات کو پراجیکٹ ایریا قرار دیا جائے تاکہ یہاں کی عوام کے لیے روزگار کے بہتر مواقع پیدا کیے جا سکیں۔

ان کا کہنا ہے کہ ملک بھر میں تحفظ ماحولیات کے لیے کام کرنے والی غیر سرکاری تنظیمیں یہاں بھی آئیں اور مقامی آبادی کے ساتھ مل کر ان درختوں کے تحفظ کے لیے کام کریں۔

واضح رہے کہ بلوچستان ایک میدانی علاقہ ہونے کے باوجود اپنے دامن میں جنگلات کے نہایت قیمتی ذخائر رکھتا ہے۔ بلوچستان کے ضلع زیارت میں صنوبر کے تاریخی جنگلات واقع ہیں جنہیں یونیسکو کی جانب سے عالمی ماحولیاتی اثاثہ قرار دیا جاچکا ہے۔

تقریباً 1 لاکھ ہیکٹر رقبے پر پھیلا اور ہزاروں سالہ تاریخ کا حامل یہ گھنا جنگل دنیا کا دوسرا سب سے بڑا اور نایاب ذخیرہ ہے اور بے شمار نادر جانداروں کا مسکن ہے، تاہم یہ قیمتی جنگل بھی ایندھن کے حصول کے لیے لکڑی کاٹے جانے کے باعث تباہی سے دو چار ہے۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close