اسلام آباد

پارلیمنٹ سے غیرت کے نام پر قتل،انسداد عصمت دری بل منظور

پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس اسپیکر ایاز صادق کی زیر صدارت شروع ہوا جس میں 2 بلوں کی منظوری دی گئی۔ پیپلزپارٹی کے سینیٹر فرحت اللہ بابر نے غیرت کے نام پر قتل کی روک تھام کا بل پیش کیا جسے بحث و مباحثے کے بعد منظور کردیا گیا۔

پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں منظورکئے جانے والے غیرت کے نام پر قتل کی روک تھام کے ترمیمی بل کے مطابق غیرت کے نام پر قتل فساد فی الارض تصور ہوگا،صلح یامعافی کے باوجود 25 سال عمر قید ہوگی۔

پیپلزپارٹی اور ایم کیوایم نے غیرت کے نام پر قتل کی سزا ئے موت ختم اور صلح کی شق برقرار رکھنے پر سخت تحفظات کا اظہار کیا تاہم بل کی حمایت کی۔

وفاقی وزیر زاہد حامد نے بتایا کہ انہوں نے تمام جماعتوں سے مشاورت کی اور یہ ترمیمی مسودہ متفقہ طور پر تیار کیاگیا ہے، پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں زنا بالجبر کے واقعات کے روک تھام کے بل کی بھی منظوری دی گئی۔

بل پر بحث کے دوران وزیر قانون زاہد حامد نے انکشاف کیا کہ اس بل کے قانون میں تبدیل ہونے کے بعد عصمت دری کے مقدمات میں ملزم کا بھی ڈی این اے ٹیسٹ لازم ہوگا۔

متاثرہ خاتون کی شناخت کسی بھی سطح پر ظاہر نہیں کی جائے گی،تھانے کی حدود، دارالاامان یا محفوظ مقام میں رہائش کےدوران خاتون سے زیادتی پر دہری سزا دی جائے گی، کیس کا فیصلہ 90 روز میں کیا جائےگا۔

وزیر اعظم نواز شریف نے غیرت کے نام پر قتل کے خلاف بل منظور ہونے پر پارلیمنٹ اور قوم کو مبارکباد پیش کرتے ہوئے بل پر عملدرآمد کو یقینی بنانے کے عزم کا اعادہ کیا ہے۔

واضح رہے کہ نواز شریف نے کہا کہ غیرت کے نام پر قتل ان اہم مسائل میں سے ہے جن کا ملک کو سامنا ہے، تاہم حکومت معاشرے سے اس داغ کو مٹانے کے لیے ہم ممکن اقدام اٹھانے کے لیے پرعزم ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close