سندھ

سپیکر ایاز صادق نے خالد مقبول صدیقی کا مائک بند کرادیا

وزیر اعظم کی موجودگی میں جاری قومی اسمبلی کے اجلاس میں متحدہ رہنما خالد مقبول صدیقی نے پوائنٹ آف آرڈر پر بولنے کی اجازت مانگی مگر سپیکر نے انہیں بولنے کی اجازت نہ دی ۔

خالد مقبول صدیقی نے متحدہ کو درپیش مسائل اور کارکنوں کے اغواءکے حوالے سے بولنے پر اسرار کیا کہ انہیں بات کرنے دی جائے جس پر سپیکر نے انکا مائک بند کرادیا ۔ سپیکر کے اس اقدام پر خالد مقبول صدیقی ہکا بکا رہ گئے اور ادھر ادھر دیکھنے لگے اور لاچارگی کے باعث بعد میں اپنی نشست پر بیٹھ گئے اور بعد میں کارکنوں کی گرفتاریوں کیخلاف متحدہ نے قومی اسمبلی سے واک آﺅٹ کر دیا ۔
قومی اسمبلی کے باہر میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے خالد مقبول صدیقی وفاقی حکومت پر بڑھاس نکالتے ہوئے کہاکہ اپنے مسائل وزیر اعظم کو بتانا چاہتے تھے مگر موقع نہیں دیا گیا ۔ متحدہ کے کارکنوں کو مختلف مقدمات میں گرفتار کر کے تشدد کا نشانہ بناکر قتل کیا جا رہا ہے ، سو سے زائد کارکنوں کو گھروں سے اٹھا یا گیا تاہم اگر ملک میں قانون کی حکمرانی اور بالادستی ہوتی تو ایسا نہ ہوتا ۔دوسر ی پارٹی میں جانے والے کے جرائم دھل جاتے ہیں ۔ وزیرا عظم سے انصاف مانگنا چاہ رہے تھے ۔

خالد مقبول نے مزید کہا کہ تیس سال سے ہمارے کسی کارکن یا رہنما پر کوئی جرم ثابت نہیں ہو سکا ، سو سے زائد کارکنوں کو اغواءکر کے غائب کیا گیا ۔
انہوں نے کہا کہ کراچی کا امن جعلی اور عارضی ہے ،جمہوری دور میں ایم کیو ایم کے درجنوں دفاتر گرائے جا رہے ہیں اور بتایا جاتا ہے کہ دفاتر غیر قانونی تھے ۔خالد مقبول صدیقی کا کہنا تھا کہ ایم کیو ایم کے 80فیصد دفاتر جائز اور خریدی گئی اراضی پر قائم تھے حتیٰ کہ نائن زیرو کو بھی بند کر دیا گیا ہے۔”نائن زیرو پر لوگوں کے مسائل سنتے تھے اور انہیں حل کیا جاتا تھا مگر اسے بھی تالے لگا دیے گئے ہیں تاہم وزیر اعظم کے پاس اتنا بھی ٹائم نہیں تھا کہ وہ ہمارے مسائل سن سکتے ۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close