دنیا

جنگ سوم کی صد سالہ تقریبات کا آغاز

ملکہ برطانیہ نے جنگِ سوم کے سو سال مکمل ہونے پر شمعیں روشن کر کے منعقدہ تقریبات کا آغاز کیا۔

ان تقریبات کا اہتمام لندن میں ویسٹ منسٹر ایبے، سکاٹ لینڈ، ویلز اور شمالی آئرلینڈ میں کیا گیا ہے۔

فرانس میں شمعیں روشن کرنے کی تقریب میں ڈیوک آف کیمبرج نے ہلاک ہونے والے فوجیوں کو یہ کہہ کر خراج تحسین پیش کیا کہ ’ہم نے ایک نسل کے پھولوں کو کھو دیا۔‘

اس جنگ کے آغاز کی یاد میں جمعے کو برطانوی وقت کے مطابق صبح سات بج کر دو منٹ پر دو منٹ کے لیے خاموشی اختیار کی جائے گی۔

اس کے بعد برطانیہ اور فرانس میں پہلی جنگِ عظیم کے میدان جنگ کے قریب ہی تقریب کا اہتمام کیا جائے گا۔

جنگِ سوم پہلی جنگ عظیم کے دوران لڑی جانے والی خون ریز لڑائیوں میں سے ایک تھی۔ یہ لڑائی شمالی فرانس میں لڑی گئی اور پانچ ماہ تک جاری رہی۔

یہ جنگ برطانوی اور فرانسیسی فوجوں نے جرمنی کے خلاف 15 میل کے محاذ پر لڑی تھی۔

اس کے نتیجے میں تمام جانب سے کل دس لاکھ افراد ہلاک اور زخمی ہوئے تھے۔

ویسٹ منسٹر ایبے میں ایک تقریب میں ملکۂ برطانیہ کے ساتھ ڈیوک آف ایڈنبرا بھی شریک ہوئے۔ ملکہ نے ایک نامعلوم جنگجو کی قبر پر پھولوں کا گلدستہ رکھا۔

اس مقبرے میں ایک برطانوی فوجی دفن ہے جن کی شناخت معلوم نہیں وہ یورپی میدان جنگ میں ہلاک ہوئے تھے۔ جنگ میں ہلاک ہونے والے نامعلوم فوجی کو وہاں سے واپس لاکر یہاں دفن کیا گیا تاکہ انھیں عزت دی جا سکے۔

پرنس ولیئم نے اس موقعے پر یورپی ممالک سے کہا: ’ہمارے سمیت جو بھی اس خونریز جنگ کو روکنے میں ناکام رہے، ہم نے ایک نسل کے پھول کھو دیے، اور بعض اوقات ایسا لگتا ہے جیسے ان کے ساتھ ہی برطانوی زندگی سے امید بھی چلی گئی ہے۔‘

’ہماری قوم کی کہانی میں کئی طرح سے یہ دن غمگین ترین ہے۔‘

شمعیں روشن کرنے سے قبل شاہی خاندان کے تین ارکان بلند پہاڑی پر گئے جہاں سے انھوں نے میدان جنگ کا نظارہ کیا۔ اس پہاڑی پر موجود یادگار کی نئی تعمیر کی گئی ہے جسے سر ایڈون لوڈینز نے ڈایزائن کیا ہے۔

نامعلوم قبروں میں دفن تقریباً 70 ہزار برطانوی اور دولت مشترکہ کے فوجیوں کے لیے دعائیں کی گئیں۔

جنگِ سوم

  • شمالی فرانس میں دریائے سوم کے قریب 15 میل پر مبنی محاذ پر لڑی جانے والے اس جنگ کا آغاز یکم جولائی سنہ 1916 میں ہوا۔

  • جنگ کے پہلے ہی روز 19,240 برطانوی فوجی ہلاک ہوئے اس لیے یہ برطانوی فوجی تاریخ میں خونی ترین دن ہے۔
  • پہلے دن برطانوی فوجی صرف تین مربع میل جگہ پر قبضہ کر سکے۔

  • جنگ کے اختتام پر پانچ ماہ بعد برطانیہ نے صرف سات میل پیش قدمی کی اور جرمنی کے دفاع کو توڑنے میں ناکام رہا۔

  • تمام جانب سے اس جنگ میں کل دس لاکھ افراد زخمی اور ہلاک ہوئے جن میں چار لاکھ 20 ہزار برطانوی، تقریباً دو لاکھ فرانسیسی اور ایک اندازے کے مطابق چار لاکھ 65 ہزار جرمن شامل ہیں۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close