دنیا

3 سال قبل میں نے روزے رکھنا شروع کئے لیکن پھر ایسا کام ہوگیا کہ میں اسلام قبول کرنے پر مجبور ہوگئی

نئی دہلی:  ماہ صیام کی برکتوں سے مسلمان تو لطف اندوز ہوتے ہی ہیں لیکن اگر کوئی غیر مسلم بھی احترام رمضان میں مسلمانوں کی تقلید کرے تو بعید نہیں کہ خدا اس کے لئے بھی ہدایت کا وہ دروازہ کھول دے جو دنیا کی فلاح اور آخرت کی بخشش کا سبب بن جائے۔ بھارتی لڑکی عائشہ صدیقہ کی کہانی بھی مقدر بدل جانے کی ایسی ہی ایمان افروز داستان ہے۔ عائشہ نے تین سال قبل اسلام قبول کیا لیکن انہوں نے اپنا پہلا روزہ قبول اسلام سے ایک سال قبل 2013ءکے ماہ رمضان میں رکھا تھا ۔

عائشہ نے قبول اسلام کا واقعہ بیان کرتے ہوئے بتایا ہے ”رمضان میرے لئے بہت خاص ہے کیونکہ اسی نے مجھے اسلام کی جانب مائل کیا تھا۔ میں اپنے کچھ دوستوں کے ساتھ رہ رہی تھی جو کہ مسلمان تھے اور جب انہوں نے رمضان کے روزے رکھنا شروع کئے تو میں یہ دیکھ کر حیران ہوتی تھی کہ وہ رات کے پچھلے پہر اٹھ کر کھانا کھایا کرتے تھے اور سارا دن بھوکا رہا کرتے تھے۔ میں نے فیصلہ کیا میں بھی ان کے ساتھ روزہ رکھ کر دیکھوں گی۔ اگرچہ میں مسلمان نہیں تھی لیکن روزہ رکھنا مجھے بہت اچھا لگتا تھا۔ شاید یہ روزے کی برکت ہی تھی کہ جلد ہی میرے دل میں اسلام کی محبت پیدا ہونے لگی۔
 
پہلی تبدیلی جو میرے اندر آئی وہ یہ تھی کہ میں نے اسلامی تعلیمات کے مطابق باپردہ لباس پہننا شروع کردیا۔ میں پہلی بار عید کی نماز کے موقع پر بھی اپنے دوستوں کے ساتھ موجود تھی اگرچہ اس وقت مجھے نماز پڑھنا نہیں آتی تھی۔ رمضان کے بعد میں نے اسلام کے متعلق مزید تعلیمات حاصل کرنا شروع کردیں۔ اسلام سے میری محبت بڑھتی گئی اور میرا عقیدہ مضبوط ہوتا گیا۔ میں نے دیکھا کہ میری دعائیں قبول ہونے لگی تھیں۔

 بھارت میں موجود میری فیملی کو میرے قبول اسلام کے متعلق پتا چلا تو ایک ہنگامہ کھڑاہوگیا لیکن میں نے خدا سے دعا کی اور سب کچھ ٹھیک ہوگیا۔ پھر میں نے ایک سچے مسلمان شوہر کیلئے دعا کی اور الحمداللہ میری یہ دعا بھی پوری ہوگئی۔ مجھے لگتا ہے کہ مجھے دنیا میں ہی جنت مل گئی ہے۔ خدا میری آخرت بھی اچھی فرمائے۔“ قبول اسلام کے بعد عائشہ کی ملاقات پاکستانی نوجوان محمد عمر سے ہوئی تھی، وہ اب ان کے شوہر ہیں۔ دونوں نے رمضان کے مبارک مہینے میں ہی زندگی بھر کے ساتھی بننے کا فیصلہ کیا تھا۔ اب وہ دونوں ایک خوبصورت اور خوشیوں بھری زندگی گزار رہے ہیں۔

Tags

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close