تجارت

آمدن والے ہر شعبے سے ٹیکس وصول کیا جائے

پاکستان بزنس کونسل نے وفاقی وزارت خزانہ کو بجٹ تجاویز ارسال کردی ہیں۔ ان تجاویز میں  ٹیکس پالیسی کے ذریعے صنعتی ترقی، معاشی استحکام اور ٹیکس گزاروں کی تعداد بڑھا کر موجودہ ٹیکس گزاروں پر بوجھ کم کرتے ہوئے کاروباری لاگت میں کمی کی سفارشات شامل ہیں۔ پی بی سی نے حکومت پر زور دیا ہے کہ  ہر اس شعبے سے ٹیکس وصول کیا جائے جہاں سے آمدن ہورہی ہے۔

پی بی سی کے مطابق حکومت زیادہ عرصے تک موجودہ ٹیکس گزاروں پر انحصار کرکے سماجی و معاشی ترقی کے منصوبوں کے لیے وسائل مہیا نہیں کرسکتی ہے اس مقصد کے لیے ٹیکس گزاروں کی تعداد میں اضافہ ناگزیر ہے، اس مقصد کے لیے غیردستاویزی شعبوں، محدود ٹیکسوں کی ادائیگی کرنے والے شعبوں سے ٹیکس وصول کرتے ہوئے ٹیکسوں کی چھوٹ اور ایمنسٹی اسکیم کے کلچر سے نجات حاصل کرنا ہوگی۔

حکومت کی موجودہ ٹیکس پالیسی کارپوریٹ سیکٹر کے پاس سرمایہ کاری کے لیے اضافی سرمائے کی دستیابی کے امکانات کو کم کرتی ہے، سپر ٹیکس، غیر تقسیم شدہ سرمائے پر ٹیکس، متبادل کارپوریٹ ٹیکس اور کم سے کم ٹیکس ریجیم کے تحت  نقصانات کی منتقلی پر پابندی جیسے اقدامات وقتی طور پر تو ایف بی آر کی وصولیاں بڑھاسکتے ہیں لیکن ان اقدامات سے طویل مدت میں ایف بی آر وصولیاں کم ہوں گی کیونکہ اس طرح کے اقدامات کارپوریٹ سیکٹر کی سرمایہ کاری سے متعلق فیصلوںپر اثر انداز ہوتے ہیں۔

ایف بی آر حکام کی جانب سے ٹیکس وصولیوں کے غیرحقیقی اہداف کو حاصل کرنے کے لیے مصالحتی اور غیر شفاف طریقے سے عمل درآمد کی وجہ سے بھی دستاویزی شعبے کی کارکردگی متاثر ہورہی ہے۔پی بی سی نے ملک میں ٹیکس کلچر کے فروغ کے لیے موجودہ ٹیکس گزاروں کو پھلنے پھولنے بالخصوص کاروباری اداروں کو اپنا حجم بڑھانے کے لیے سازگارپالیسی کی ضرورت پر زور دیا ہے۔

پی بی سی نے حکومت پر زور دیا ہے کہ دستاویزی معیشت کے فروغ کے ذریعے ٹیکس نیٹ میں اضافے کے لیے غیر دستاویزی شعبے کے خلاف صفر تحمل کی پالیسی اختیار کی جائے مستقل اور وقتاً فوقتاً اعلان کی جانے والی ٹیکسوں کی چھوٹ کے طریقے کو ہمیشہ کے لیے خیرباد کہا جائے اور اس کے بجائے ٹیکنالوجی کے موثر استعمال اور ایف بی آر میں انتظامی اصلاحات کے ذریعے انفورسمنٹ کو بہتر بنایا جائے۔پی بی سی نے معیشت کو دستاویزی شکل دینے اور مقامی مینوفیکچررز کو یکساں کاروباری مواقع مہیا کرنے کیلیے ایف بی آر کو دستیاب مالیاتی ریکارڈ کے ذریعے نئے ٹیکس گزاروں کی تلاش پر زور دیا ہے۔

اس مقصد کیلیے مختلف ود ہولڈنگ ایجنٹس کی جانب سے منہا کیے گئے ودہولڈنگ ٹیکس اور ماہانہ ریٹرنز کا باریک بینی سے موازنہ کرکے آمدن چھپانے اور گنجائش سے کم ٹیکس ادا کرنے والوں کو تلاش کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔بیرون ملک سے بینکنگ چینل کے ذریعے 25ہزار ڈالر سے زائد کی ترسیلات کو بھی آمدن تصور کرتے ہوئے ٹیکس کے دائرے میں لانے کی سفارش کی گئی ہے۔سیلز ٹیکس ایکٹ 1990میں رجسٹرڈ سپلائر سے 90فیصد مال خریدنے والے مینوفیکچررز کیلیے ٹیکس میں 2.5فیصد رعایت کی سفارش کی گئی ہے۔

مس ڈکلریشن اور انڈرانوائسنگ کے خاتمے کے لیے درآمدی مصنوعات کی ویلیو ایشن متعلقہ انڈسٹری کی مشاورت سے مقرر کرنے اور نیشنل ٹیریف کمیشن کو مزید مستحکم اور مضبوط بنانے کی تجویز دی گئی ہے۔ملک میں صنعتی شعبے کی ترقی اور روزگار کے مواقع بڑھانے کے لیے  65Eکے تحت ٹیکس کریڈٹ کی سہولت کا دائرہ کار پلانٹ میشنری کے ساتھ ساتھ فیکٹری کی عمارت اور مینوفیکچرنگ سے متعلقہ انفرااسٹرکچر کی تعمیر تک بڑھانے کی تجویز دی گئی ہے۔جون 2016تک نئی سرمایہ کاری پر سیکشن 65B (4), 65D & 65Eکے تحت ٹیکسوں کی چھوٹ اور مراعات کی سہولت کی مدت جون 2020تک بڑھانے کی سفارش کی گئی ہے۔

پی بی سی نے 65 E(1)کے تحت ٹیکس کریڈٹ کی چھوٹ پلانٹ اینڈ مشینری کی توسیع کے ساتھ پلانٹ کی تعمیر و مرمت (بی ایم آر) کے لیے بھی فراہم کرنے کی سفارش کی ہے۔پلانٹ کے لیے فرسودگی الاؤنس کی ابتدائی شرح فنانس ایکٹ 2013سے قبل کی 50فیصد کی سطح پر لانے کی سفارش کی ہے۔اسی طرح عمارت کے لیے فرسودگی الاؤنس کی شرح 15فیصد سے بڑھا کر 25فیصد مقرر کرنے کی تجویز دی ہے۔کاروباری لاگت میں کمی کے لیے ٹرن اوورٹیکس کی شرح ایک فیصد سے کم کرکے 0.5فیصد کرنے، مینوفیکچررز کے لیے امپورٹ پر ایڈوانس ٹیکس کی شرح ایک فیصد کی سطح پر لانے کی تجویز دی گئی ہے۔

پی بی سی کے مطابق فنانس ایکٹ 2013 میں امپورٹ پر ایڈوانس ٹیکس 3فیصد  جبکہ فنانس ایکٹ 2015میں 5سے 5.5فیصد کردیا گیا، اس اقدام سے مینوفیکچررز کے لیے نقد سرمائے کی دستیابی متاثر ہورہی ہے۔کاروبارکو آسان بنانے کے لیے درآمدات کے لیے ایگزمپشن سرٹیفکیٹ کے قانون پر نظرثانی کی سفارش کی ہے۔سیکشن 156 کے تحت فروخت بڑھانے کے تشہیری انعامات پر 20فیصد ٹیکس کٹوتی کے قانون کو واضح، اطلاق سپلائی چین میں شامل ڈیلرز اور ڈسٹری بیوٹر پر ہونے سے روکنے کیلیے وصولی صارفین تک مخصوص کرنے کیلیے متعلقہ سیکشن میں صارف کا لفظ شامل کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

Related Articles

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے

Back to top button
Close